صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. جامی
  2. »دیوان اشعار
  3. »واسطة العقد
  4. »اشعار پراکنده
  5. »شمارهٔ 17

شمارهٔ 17

شاعر: جامی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ها

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

چون جمع شود ز عقل و دین قافله‌ها

عشق تو کند« عالیها سافلها»

2

عشق تو که فرض ماست چون روی نمود

سهل است اگر فوت شود نافله‌ها

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای آمده سوی بیدلان دیر به دیر

وز سنگدلی به خونشان گشته دلیر

جامی»دیوان اشعار»اشعار پراکنده»شمارهٔ 16

اگلی نظم

می نماید شاخ ریحان ترت بر آفتاب

بین دل ما را که چون مانده‌ست ازین در پیچ و تاب

جامی»دیوان اشعار»اشعار پراکنده»شمارهٔ 18

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور