صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »رباعیات
  3. »رباعی شمارهٔ 42

رباعی شمارهٔ 42

شاعر: حافظ

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: امشوی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

صداکاران: مریم فقیهی کیا، محسن لیله‌کوهی
Toggle stanza 1
11
گر همچو من افتادهٔ این دام شوی
ای بس که خراب باده و جام شوی
22
ما عاشق و رند و مست و عالَم‌سوزیم
با ما منشین اگر نه بدنام شوی
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای کاش که بخت، سازگاری کردی

با جور زمانه یار، یاری کردی

حافظ»رباعیات»رباعی شمارهٔ 41

◆

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ای خواجه گنه مکن که بدنام شوی

گر خاص تویی گنه کنی عام شوی

رومی»دیوان شمس»رباعیات»رباعی شمارهٔ 1720

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00