صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. حافظ
  2. »اشعار منتسب
  3. »شمارهٔ 117 - رباعی

شمارهٔ 117 - رباعی

شاعر: حافظ

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: پیشمگوی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

کم گوی به جز مصلحت خویش مگوی

چیزی که نپرسند تو خود پیش مگوی

2

گوشِ تو دو دادند و زبانِ تو یکی

یعنی که دو بشنو و یکی بیش مگوی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گل گفت اگر دستگهی داشتمی

بگریختمی اگر رهی داشتمی

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 116 - رباعی

اگلی نظم

اگر ز کوی تو بویی به من رساند باد

به مژده جان و جهان را به باد خواهم داد

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 118 - در اصل از آن عبدالمجید تبریزی شاعر پیشکسوت حافظ

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور