صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. غالب دهلوی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 108

رباعی شمارهٔ 108

شاعر: غالب دهلوی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اریبینی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

در کلبه من اگر غباری بینی

پیچیده به خویش همچو ماری بینی

2

تنگ ست چنان که دایم از صحن سرای

از جرم فلک ستاره واری بینی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آنی تو که شخص مردمی را چشمی

سبحان الله چه مایه بینا چشمی

غالب دهلوی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 107

اگلی نظم

جانی ست مرا ز غم شماری در وی

اندیشه فشانده خارزاری در وی

غالب دهلوی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 109

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور