شاعر
میرزا اسد اللہ بیگ خان غالب (1797ء تا 1869ء) برصغیر کے نامور فارسی اور اردو شاعر، ادیب اور مفکر تھے۔ اگرچہ عوامی سطح پر ان کی شہرت اردو شاعری کے حوالے سے زیادہ ہے، لیکن غالب خود اپنی فارسی شاعری کو اپنے ادبی کارناموں کا اعلیٰ ترین اظہار سمجھتے تھے۔ فارسی زبان و ادب میں ان کا مقام برصغیر کے ایک بڑے شاعر میں شمار ہوتا ہے۔
غالب ایک ترک النسل خاندان سے تعلق رکھتے تھے جس کے آباء وسطی ایشیا سے ہندوستان آئے تھے۔ انہوں نے کم عمری ہی میں شاعری کا آغاز کیا اور جلد ہی اپنی بلند خیالی، فکری گہرائی اور نادر طرزِ بیان کے باعث ممتاز ہو گئے۔ ان کی شاعری میں فلسفہ، عرفان، انسانی وجود، تقدیر، عشق اور زندگی کے پیچیدہ مسائل نمایاں موضوعات کے طور پر سامنے آتے ہیں۔
فارسی شاعری میں غالب پر خصوصاً بیدل دہلوی اور سبکِ ہندی کے دیگر بڑے شعرا کے اثرات نمایاں ہیں۔ انہوں نے قصیدہ، غزل، مثنوی، قطعات اور رباعیات سمیت مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی۔ ان کا اسلوب دقیق خیالی، نازک مضمون آفرینی اور فکری پیچیدگی کے باعث ممتاز ہے۔ زبان کے اعتبار سے وہ خالص فارسی الفاظ کے ساتھ بعض نادر اور دساتیری الفاظ بھی استعمال کرتے تھے، جس سے ان کے کلام کو ایک منفرد رنگ حاصل ہوا۔
غالب کے فارسی آثار میں دیوانِ فارسی، مثنویات، قصائد اور متعدد نثری تحریریں شامل ہیں۔ ان کے خطوط اردو نثر کے ارتقا میں بھی اہم سنگِ میل سمجھے جاتے ہیں۔ فارسی اور اردو دونوں زبانوں میں ان کی ادبی خدمات نے انہیں برصغیر کی تہذیبی اور ادبی تاریخ کی نمایاں ترین شخصیات میں شامل کر دیا ہے۔
غالب نے 1869ء میں دہلی میں وفات پائی۔ فارسی اور اردو ادب میں ان کا اثر آج بھی زندہ ہے۔