صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »غزلیات
  4. »غزل شمارهٔ 43

غزل شمارهٔ 43

شاعر: عراقی

وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)

قافیہ: اد

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرا گر یار بنوازد، زهی دولت زهی دولت

وگر درمان من سازد، زهی دولت زهی دولت

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 42

اگلی نظم

هر که را جام می به دست افتاد

رند و قلاش و می‌پرست افتاد

عراقی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 44

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

کجا بودی، بگو، ای سرو آزاد؟

که رویت دیدم و اقبال رو داد

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 530

ندانم تا ترا در دل چه افتاد؟

که دادی صحبت دیرینه از یاد

امیرخسرو دهلوی»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 531

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00