صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 111

رباعی شمارهٔ 111

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ردمچهکنم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

با نفس خسیس در نبردم، چه کنم؟

وز کردهٔ خویشتن به دردم، چه کنم؟

2

گیرم که به فضل در گزاری گنهم

با آنکه تو دیدی که چه کردم، چه کنم؟

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

پیوسته صبور و رنج‌کش می‌باشم

وندر پی عاشقان ترش می‌باشم

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 110

اگلی نظم

آوازهٔ حسنت از جهان می‌شنوم

شرح غمت از پیر و جوان می‌شنوم

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 112

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور