صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 110

رباعی شمارهٔ 110

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: شمیباشم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

پیوسته صبور و رنج‌کش می‌باشم

وندر پی عاشقان ترش می‌باشم

2

دل در دو جهان هیچ نخواهم بستن

با آنکه مرا خوش است خوش می‌باشم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بگذار، اگر چه رندم و اوباشم

تا خاک سر کوی تو بر سر پاشم

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 109

اگلی نظم

با نفس خسیس در نبردم، چه کنم؟

وز کردهٔ خویشتن به دردم، چه کنم؟

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 111

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور