صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 72

رباعی شمارهٔ 72

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: رتنیستچهسود

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

ای جان من، از دل خبرت نیست، چه سود؟

در عالم جان رهگذرت نیست، چه سود؟

2

جز حرص و هوی، که بر تو غالب شده است

اندیشهٔ چیز دگرت نیست، چه سود؟

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مازار کسی، کز تو گزیرش نبود

جز بندگی تو در ضمیرش نبود

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 71

اگلی نظم

حاشا! که دل از خاک درت دور شود

یا جان ز سر کوی تو مهجور شود

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 73

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور