صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عراقی
  2. »دیوان اشعار
  3. »رباعیات
  4. »رباعی شمارهٔ 31

رباعی شمارهٔ 31

شاعر: عراقی

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ایشایناست

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

با حکم خدایی، که قضایش این است

می‌ساز، دلا، مگر رضایش این است

2

ایزد به کدامین گنهم داد جزا؟

توبه ز گناهی، که جزایش این است

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از گلشن جان بی‌خبری، خار این است

میلت به طبیعت است، دشوار این است

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 30

اگلی نظم

هر چند که دل را غم عشق آیین است

چشم است که آفت دل مسکین است

عراقی»دیوان اشعار»رباعیات»رباعی شمارهٔ 32

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور