صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. بیدل دهلوی
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 105

غزل شمارهٔ 105

شاعر: بیدل دهلوی

وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)

قافیہ: مرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 4

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای چشم تو مهمیز جنون وحشیِ رم را

ابروی تو معراجِ دگر پایهٔ خم را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 104

اگلی نظم

گریک نفس آیینه‌کنی نقش قدم را

بر خاک نشانی هوس ساغر جم را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 106

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ز ارباب تجرد نیست بر دل بار عالم را

سبکروحی فزون از حمل عیسی گشت مریم را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 393

نه آسان است بر گردن گرفتن کار عالم را

سلیمان بار دیگر چون گرفت از دیو خاتم را؟

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 394

به جوش آورد باد نوبهاران خون عالم را

اگر چون غنچه از اهل دلی، دریاب این دم را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 395

نباشد بی‌عصا امداد طاقت پیکر خم را

مدارکار فرمایی برانگشت است خاتم را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 107

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00