صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. بیدل دهلوی
تعارفکتابیںصداکاران
بیدل دهلوی

شاعر

بیدل دهلوی

1644 — 1720عیسوی

ابوالمعانی میرزا عبدالقادر بیدل دہلوی (1644ء تا 1720ء) فارسی زبان کے عظیم شاعر، عارف اور مفکر تھے۔ آپ پٹنہ میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں دہلی کو اپنا مرکز بنایا۔ بیدل کا شمار سبکِ ہندی کے بلند ترین اور اثر انگیز ترین شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری فکری گہرائی، نازک خیال آفرینی اور عرفانی مضامین کے باعث فارسی ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے، اور ان کے اثرات خصوصاً افغانستان، تاجکستان، وسطی ایشیا اور برصغیر کی ادبی روایت میں آج بھی نمایاں ہیں۔

بیدل نے شاعری کی متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کے منظوم آثار میں غزلیات، قصائد، ترکیب بند، ترجیع بند، مخمسات، قطعات، رباعیات اور متعدد مثنویاں شامل ہیں، جن میں محیطِ اعظم، طورِ معرفت، عرفان، تنبیہ الموسوسین اور اشارات و حکایات خاص طور پر معروف ہیں۔ ان کے نثری آثار میں چہار عنصر، جو ان کی خود نوشت سوانح سمجھی جاتی ہے، رقعات، نکات، بیاض اور مقدمات شامل ہیں۔

بیدل کثیرالتصنیف شاعر تھے۔ ان کے منظوم و منثور آثار کے مجموعی ابیات کی تعداد نوے ہزار سے ایک لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے ان کا شمار فارسی ادب کے ان معدودے چند شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت وسیع ادبی سرمایہ چھوڑا۔ ان کی شاعری میں تشبیہ، استعارہ، رمز، اشارہ اور پیچیدہ فکری ساختیں کثرت سے پائی جاتی ہیں، اور اسی وجہ سے انہیں سبکِ ہندی کا سب سے اہم نمائندہ شاعر بھی کہا جاتا ہے۔

روایت ہے کہ بیدل ابتدا میں "رمزی" تخلص کرتے تھے، لیکن بعد میں شیخ سعدی شیرازی کے کلام سے گہرا اثر قبول کیا۔ مشہور ہے کہ سعدی کے دیباچۂ گلستان کے اس مصرع:

"بیدل از بے نشاں چہ جوید باز"

سے متاثر ہو کر انہوں نے "بیدل" کو اپنا تخلص بنا لیا۔ اگرچہ اس روایت کی تاریخی صحت پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں، تاہم یہ امر مسلم ہے کہ بیدل کو سعدی سے غیر معمولی تعلقِ خاطر اور عقیدت تھی۔ انہوں نے خود بھی سعدی کے مقامِ سخن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے:

از گل و سنبل بہ نظم و نثر سعدی قانعم

یہ شعر سعدی کی نظم و نثر دونوں پر ان کے اعتماد اور والہانہ عقیدت کا واضح اظہار ہے۔ بیدل کی فکری اور ادبی شخصیت اگرچہ اپنی انفرادیت رکھتی ہے، لیکن فارسی ادب کی کلاسیکی روایت، خصوصاً سعدی کے اسلوب اور حکمت سے ان کی گہری وابستگی نمایاں نظر آتی ہے۔

بیدل نے 5 دسمبر 1720ء کو دہلی میں وفات پائی۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں اپنے گھر کے احاطے میں دفن کیا گیا۔

کتابیں

غزلیات

بیدل دهلوی2827 نظمیں1 باب

11%آڈیو0%اردو0%En

متفرقات

ترجیع بند

بیدل دهلوی » بیدل دهلوی » ترجیع بند

آڈیو

صداکاران

ععندلیب284 نظمیں · 1 کتابففاطمه زندی18 نظمیں · 1 کتابههاتف علوی5 نظمیں · 1 کتابططاهره خان پور3 نظمیں · 1 کتابغغلامرضا آقاسی2 نظمیں · 1 کتابددریا قلیلی1 نظم · 1 کتابسسمیه الماسی1 نظم · 1 کتابسسید حسن حسینی1 نظم · 1 کتابععلی اسلامی مذهب1 نظم · 1 کتابععلی‌اکبر یاغی‌تبار (سه‌تار: جواد سما)1 نظم · 1 کتابممحمدرضا مومن نژاد1 نظم · 1 کتابممریم فقیهی کیا1 نظم · 1 کتاب