شاعر
ابوالمعانی میرزا عبدالقادر بیدل دہلوی (1644ء تا 1720ء) فارسی زبان کے عظیم شاعر، عارف اور مفکر تھے۔ آپ پٹنہ میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں دہلی کو اپنا مرکز بنایا۔ بیدل کا شمار سبکِ ہندی کے بلند ترین اور اثر انگیز ترین شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری فکری گہرائی، نازک خیال آفرینی اور عرفانی مضامین کے باعث فارسی ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے، اور ان کے اثرات خصوصاً افغانستان، تاجکستان، وسطی ایشیا اور برصغیر کی ادبی روایت میں آج بھی نمایاں ہیں۔
بیدل نے شاعری کی متعدد اصناف میں طبع آزمائی کی۔ ان کے منظوم آثار میں غزلیات، قصائد، ترکیب بند، ترجیع بند، مخمسات، قطعات، رباعیات اور متعدد مثنویاں شامل ہیں، جن میں محیطِ اعظم، طورِ معرفت، عرفان، تنبیہ الموسوسین اور اشارات و حکایات خاص طور پر معروف ہیں۔ ان کے نثری آثار میں چہار عنصر، جو ان کی خود نوشت سوانح سمجھی جاتی ہے، رقعات، نکات، بیاض اور مقدمات شامل ہیں۔
بیدل کثیرالتصنیف شاعر تھے۔ ان کے منظوم و منثور آثار کے مجموعی ابیات کی تعداد نوے ہزار سے ایک لاکھ تک بتائی جاتی ہے۔ اس اعتبار سے ان کا شمار فارسی ادب کے ان معدودے چند شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے نہایت وسیع ادبی سرمایہ چھوڑا۔ ان کی شاعری میں تشبیہ، استعارہ، رمز، اشارہ اور پیچیدہ فکری ساختیں کثرت سے پائی جاتی ہیں، اور اسی وجہ سے انہیں سبکِ ہندی کا سب سے اہم نمائندہ شاعر بھی کہا جاتا ہے۔
روایت ہے کہ بیدل ابتدا میں "رمزی" تخلص کرتے تھے، لیکن بعد میں شیخ سعدی شیرازی کے کلام سے گہرا اثر قبول کیا۔ مشہور ہے کہ سعدی کے دیباچۂ گلستان کے اس مصرع:
"بیدل از بے نشاں چہ جوید باز"
سے متاثر ہو کر انہوں نے "بیدل" کو اپنا تخلص بنا لیا۔ اگرچہ اس روایت کی تاریخی صحت پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں، تاہم یہ امر مسلم ہے کہ بیدل کو سعدی سے غیر معمولی تعلقِ خاطر اور عقیدت تھی۔ انہوں نے خود بھی سعدی کے مقامِ سخن کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے:
از گل و سنبل بہ نظم و نثر سعدی قانعم
یہ شعر سعدی کی نظم و نثر دونوں پر ان کے اعتماد اور والہانہ عقیدت کا واضح اظہار ہے۔ بیدل کی فکری اور ادبی شخصیت اگرچہ اپنی انفرادیت رکھتی ہے، لیکن فارسی ادب کی کلاسیکی روایت، خصوصاً سعدی کے اسلوب اور حکمت سے ان کی گہری وابستگی نمایاں نظر آتی ہے۔
بیدل نے 5 دسمبر 1720ء کو دہلی میں وفات پائی۔ ان کی وصیت کے مطابق انہیں اپنے گھر کے احاطے میں دفن کیا گیا۔