صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. بیدل دهلوی
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 144

غزل شمارهٔ 144

شاعر: بیدل دهلوی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: ورا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 2

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سرمه سنگین نکند شوخی چشم اورا

درس تمکین ندهد گرد، رم آهورا

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 143

اگلی نظم

کیست بردارد ز اهل معرفت ناز تو را

گنبد دستارکو بردارد آواز تو را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 145

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

بس است تیغ تغافل من بلاجو را

مکن به خون من آلوده تیغ ابرو را

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 644

به‌ گلشنی‌ که دهم عرض شوخی او را

تحیر آینهٔ رنگ می‌کند بو را

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 142

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00