صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. بیدل دهلوی
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 116

غزل شمارهٔ 116

شاعر: بیدل دهلوی

وزن: مفاعلن فعلاتن مفاعلن فعلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: شتهاندمرا

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عبرتی‌کوتا لب از هذیان به هم دوزد مرا

موج این‌گوهر نمی‌دانم چه پهلو زد مرا

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 115

اگلی نظم

کافرم‌گر مخمل و سنجاب می‌باید مرا

سایهٔ بیدی‌کفیل خواب می‌باید مرا

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 117

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ز درد و داغ محبت سرشته اند مرا

در آفتاب قیامت برشته اند مرا

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 619

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00