صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. بیدل دهلوی
  2. »غزلیات
  3. »غزل شمارهٔ 191

غزل شمارهٔ 191

شاعر: بیدل دهلوی

وزن: فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن (رمل مثمن مخبون محذوف)

قافیہ: رما

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 3

صنف: غزل

صداکار: عندلیب
Toggle stanza 1
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

لغزشی خورده ز پا تا سر ما

خنده دارد خط بی‌مسطر ما

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 190

اگلی نظم

آخر به لو‌ح آ‌ینهٔ اعتبار ما

چیزی نوشتنی‌ست به خط غبار ما

بیدل دهلوی»غزلیات»غزل شمارهٔ 192

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ما برفتیم، تو دانی و دل غمخور ما

بخت بد تا به کجا می برد آبشخور ما

حافظ»اشعار منتسب»شمارهٔ 1

تا به کی در ته زنگار بود خنجر ما؟

چند باشد چو زره زیر قبا جوهر ما؟

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 559

هست پیوسته به دریای کرم گوهر ما

چه کند خشکی عالم به دماغ تر ما؟

صائب»دیوان اشعار»غزلیات»غزل شمارهٔ 560

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00