صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »وصلت نامه
  3. »بخش 70 - و له ایضاً

بخش 70 - و له ایضاً

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: فتگانمی‬بینم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

بر بستر خاک خفتگان می‌بینم

در زیر زمین نهفتگان می‌بینم

2

چندانکه به صحرای عدم می‌نگرم

ناآمده‌گان و رفتگان می‌بینم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر کوزه که بیخود بدهن باز نهم

گوید بشنو تا خبری باز دهم

عطار»وصلت نامه»بخش 69 - و له ایضاً

اگلی نظم

هر سبزه و گل که از زمین بیرون رست

از خاک یکی سبز خطی گلگون رست

عطار»وصلت نامه»بخش 71 - و له ایضاً

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور