صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »وصلت نامه
  3. »بخش 38 - فی الرباعیات در فنای عاشق

بخش 38 - فی الرباعیات در فنای عاشق

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اکی

ہم وزن و قافیہ نظمیں: 1

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

ای پاکی تو منزه از هر پاکی

قدوسی تو مقدس از ادراکی

2

در راه تو صد هزار عالم گردی

در کوی تو صدهزار آدم خاکی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

پادشاها ره نما این بنده را

این فقیر بی‌کس افکنده را

عطار»وصلت نامه»بخش 37 - در مناجات شیخ بهلول و ختم کتاب

اگلی نظم

در وصف تو عقل طبع دیوانه گرفت

جان تن ز دو با عجز بهم خانه گرفت

عطار»وصلت نامه»بخش 39 - و له ایضاً

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

* تَن زن چو به زیرِ فَلَکِ بی‌باکی

مِی نوش چو در جهانِ آفت‌ناکی

خیام»ترانه‌های خیام (صادق هدایت)»دم را دریابیم [143-108]»رباعی 131

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور