صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »وصلت نامه
  3. »بخش 49 - فی الموت

بخش 49 - فی الموت

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اکخواهدامد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

چون روی تو در هلاک خواهد آمد

قسم تو دو کز مغاک خواهد آمد

2

بر روی زمین چه می‌کنی چندین جای

چون جای تو زیر خاک خواهد آمد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گیرم که به تو لطف الهی آمد

در ملک تو ماه تا به ماهی آمد

عطار»وصلت نامه»بخش 48 - وله ایضاً

اگلی نظم

از آتش دل چو دود برخواهی خواست

وز راه زیان و سود برخواهی خواست

عطار»وصلت نامه»بخش 50 - فی الموت

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور