صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مصیبت نامه
  3. »بخش بیست و نهم
  4. »بخش 7 - الحكایة و التمثیل

بخش 7 - الحكایة و التمثیل

شاعر: عطار

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
سائلی پرسید از آن شوریده حال
گفت اگر نام مهین ذوالجلال
22
می‌شناسی بازگوی ای مرد نیک
گفت نان است این بنتوان گفت لیک
33
مرد گفتش احمقی و بی‌قرار
کِی بوَد نام مهین نان، شرم دار
44
گفت در قحط نشابور ای عجب
می‌گذشتم گرسنه چل روز و شب
55
نه شنودم هیچ جا بانگ نماز
نه دری بر هیچ مسجد بود باز
66
من بدانستم که نان نام مهینست
نقطهٔ جمعیت و بنیاد دینست
77
از پی نان نیستت چون سگ قرار
حق چو رزقت می‌دهد تو حق گزار
88
حق چو رزقت داد و کارت کرد راست
تو بخور وز کس مپرس این از کجاست
◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آن جوانی بود الحق بی خبر

رفت پیش شیخ حلوائی مگر

عطار»مصیبت نامه»بخش بیست و نهم»بخش 6 - الحكایة و التمثیل

اگلی نظم

ابن ادهم کرد ازان رهبان سؤال

کز کجا سازی تو قوتی حسب حال

عطار»مصیبت نامه»بخش بیست و نهم»بخش 8 - الحكایة و التمثیل

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00