صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب دوازدهم: در شكایت از نفس خود
  4. »شمارهٔ 14

شمارهٔ 14

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: نمیخواهد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

از جان سیرم ازانک تن می‌خواهد

بی یوسفِ مهر‌، پیرهن می‌خواهد

2

موری که به سالی بخورد یک دانه

انبار به مُهرِ خویشتن می‌خواهد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دل را که نه دنیا و نه دین می‌بینم

با نفس پلید همنشین می‌بینم

عطار»مختارنامه»باب دوازدهم: در شكایت از نفس خود»شمارهٔ 13

اگلی نظم

گاهم ز سگ نفس مشوش بودن

گاهم ز سر خشم بر آتش بودن

عطار»مختارنامه»باب دوازدهم: در شكایت از نفس خود»شمارهٔ 15

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور