صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب ششم: در بیان محو شدۀ توحید و فانی در تفرید
  4. »شمارهٔ 40

شمارهٔ 40

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انمرا

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

چون سنگ وجود لعل شد کانم را

در میبینم قطرهٔ بارانم را

2

برخاست دلم چنان که ننشیند باز

از بس که فرو نشاندم جانم را

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

من بیخبر از جان و تنم، اینت عجب!

خود میباید خویشتنم، اینت عجب!

عطار»مختارنامه»باب ششم: در بیان محو شدۀ توحید و فانی در تفرید»شمارهٔ 39

اگلی نظم

چون وصل، غمم بر غمِ هجران بفزود

بس درد که بر امید درمان بفزود

عطار»مختارنامه»باب ششم: در بیان محو شدۀ توحید و فانی در تفرید»شمارهٔ 41

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور