صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و پنجم: در صفت روی و زلف معشوق
  4. »شمارهٔ 17

شمارهٔ 17

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: وشتوشد

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

ای تُرک! دلم غاشیه بر دوش تو شد

جانم ز جهان واله و مدهوش تو شد

2

بر سیمِ بناگوش تو چون جملهٔ خلق،

در مینگرند، حلقه در گوش تو شد

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

گر در همه عمر آرزوئیم بوَد

از وصلِ تو قدرِ سرِ موئیم بوَد

عطار»مختارنامه»باب سی و پنجم: در صفت روی و زلف معشوق»شمارهٔ 16

اگلی نظم

تا حلقهٔ آن زلف مشوّش دیدم

دل را به میانه در کشاکش دیدم

عطار»مختارنامه»باب سی و پنجم: در صفت روی و زلف معشوق»شمارهٔ 18

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور