صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد
  4. »شمارهٔ 67

شمارهٔ 67

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: براندیشی

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

تا کی خود را ز پای و سراندیشی

پیش و پس و زیر و هم زبر اندیشی

2

چون جمله یکیست هرچه میبینی تو

مشرک باشی گر دگری بر اندیشی

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در بند خیال غیر یک ذرّه مباش

در بحر ز خویش گم شو و قطره مباش

عطار»مختارنامه»باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد»شمارهٔ 66

اگلی نظم

هر جان که به نور قدس پیش اندیش است

از خویش برون نیست همه در خویش است

عطار»مختارنامه»باب چهارم: در معانی كه تعلّق به توحید دارد»شمارهٔ 68

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور