صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و چهارم: در صفتِ آمدن معشوق
  4. »شمارهٔ 37

شمارهٔ 37

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: انیسوزم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

دی گفت: چو تو صد به زیانی سوزم

تا می چه کنم که ناتوانی سوزم

2

چون من به کرشمهای جهانی سوزم

بنگر تو مرا که نیم جانی سوزم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دوش آمد و گفت: اگر چه کم می‌آیم

پیش از دو جهان به یک قدم می‌آیم

عطار»مختارنامه»باب سی و چهارم: در صفتِ آمدن معشوق»شمارهٔ 36

اگلی نظم

دی گفت: حجب ز پیش برنگرفتم

دو کون ز راهِ خویش برنگرفتم

عطار»مختارنامه»باب سی و چهارم: در صفتِ آمدن معشوق»شمارهٔ 38

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور