صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب بیست و پنجم: در مراثی رفتگان
  4. »شمارهٔ 14

شمارهٔ 14

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: ستیدردل

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

رفتی و مرا خار شکستی در دل

در دیدهنیی اگرچه هستی در دل

2

بر خاک تو برخاست دل پرخونم

کز دیده برفتی و نشستی در دل

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بر خاک تو چون بنفشهام سر در بر

بیبرگ گلت چو حلقه ماندم بر در

عطار»مختارنامه»باب بیست و پنجم: در مراثی رفتگان»شمارهٔ 13

اگلی نظم

ای کرده شب باز پسین ماتم خویش

گِل کرده، زمین ز دیدهٔ پر نم خویش

عطار»مختارنامه»باب بیست و پنجم: در مراثی رفتگان»شمارهٔ 15

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور