صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و چهارم: در صفتِ آمدن معشوق
  4. »شمارهٔ 30

شمارهٔ 30

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: اشدیچنینمیباید

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

دی گفت: کجا شدی،‌چنین میباید

از دوست جدا شدی، چنین میباید

2

روزی دو ز بهرِ آنکه دور افتادی

بیگانه زما شدی، چنین میباید

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

دوش آمد و گفت: مردمِ دوراندیش

از خویش به جز هیچ نیابد کم و بیش

عطار»مختارنامه»باب سی و چهارم: در صفتِ آمدن معشوق»شمارهٔ 29

اگلی نظم

دوشش دیدم چو زلف خود در تابی

میشد چو مرا بدید در غرقابی

عطار»مختارنامه»باب سی و چهارم: در صفتِ آمدن معشوق»شمارهٔ 31

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور