صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. عطار
  2. »مختارنامه
  3. »باب سی و هفتم: در صفت خط و خال معشوق
  4. »شمارهٔ 16

شمارهٔ 16

شاعر: عطار

وزن: مفعول مفاعیل مفاعیل فعل (وزن رباعی)

قافیہ: برمیخوانم

صنف: رباعی

Toggle stanza 1
1

تا خط تو بر خون جگر میخوانم

گوئی که غم دلم زبر میخوانم

2

از من ببری دلی چو خط آوردی

زیرا که من از خط تو بر میخوانم

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

از پستهٔ تو سبزهٔ خط بر رسته است

یا مغز ز پستهٔ تو بیرون جسته است

عطار»مختارنامه»باب سی و هفتم: در صفت خط و خال معشوق»شمارهٔ 15

اگلی نظم

آن پسته میان مغز چون افتادست

یا آن خط فستقی کنون افتادست

عطار»مختارنامه»باب سی و هفتم: در صفت خط و خال معشوق»شمارهٔ 17

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور