صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 2 - تمهید : در معنی ربط فرد و ملت

بخش 2 - تمهید : در معنی ربط فرد و ملت

فرد و ملت کا ربط

Prelude: Of the bond between individual and community

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

فرد را ربط جماعت رحمت است

جوهر او را کمال از ملت است

فرد کے لیے جماعت سے ربط پیدا کرنا رحمت کا باعث ہے ۔ اس کے تمام جوہروں (خوبیوں ) کو ملت ہی کی بدولت کمال حاصل ہوتا ہے ۔

The link that binds the individual To the Society a mercy is;

His truest self in the community Alone achieves fulfilment.

2

تاتوانی با جماعت یار باش

رونق هنگامه ی احرار باش

تو کوشش کی آخری حد تک جماعت سے وابستہ رہ اور یوں تو آزاد لوگوں کے ہنگامے کے لیے باعث رونق بن جا ۔

Wherefore be So far as in thee lies in close rapport

With thy Society, and lustre bring To the wide intercourse of free‐born men.

3

حرز جان کن گفته ی خیرالبشر

هست شیطان از جماعت دور تر

رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد کو جان کے لیے تعویز بنا لے کہ جماعت سے شیطان دور رہتا ہے ۔

Keep for thy talisman these words he spoke That was the best of mortals:

“Satan holds His furthest distance where men congregate.”

4

فرد و قوم آئینه ی یک دیگرند

سلک و گوهر کهکشان و اخترند

فرد اور قوم ایک دوسرے کے لیے آئینے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ فرد و قوم کا تعلق، رشتے اور گوہر کا یا کہکشاں اور اختر کا تعلق ہے ۔ گوہر رشتے کے بغیر ایک لڑی نہیں بن سکتے ۔

The individual a mirror holds To the community, and they to him;

He is a jewel threaded on their cord, A star that in their constellation shines;

5

فرد می گیرد ز ملت احترام

ملت از افراد می یابد نظام

فرد ملت کی بنا پر عزت حاصل کرتا ہے، ملت افراد کے مل جانے سے ترکیب پاتی ہے ۔

And the Society is organized

As by comprising many such as he.

6

فرد تا اندر جماعت گم شود

قطره ی وسعت طلب قلزم شود

فرد جماعت میں شامل ہو جاتا ہے تو اس کی صورت اس قطرے کی سی ہوتی ہے جو بڑھ کر سمندر کی شکل اختیار کر لے کہ جس طرح قطروں سے سمندر بن جاتا ہے اسی طرح افراد سے قو میں صورت پذیر ہوتی ہیں ۔

When in the Congregation he is list

’Tis like a drop which, seeking to expand, Becomes an ocean.

7

مایه دار سیرت دیرینه او

رفته و آینده را آئینه او

فرد پرانی سیرت کا سرمایہ دار ہوتا ہے وہ ماضی اور حال کا آئینہ بن جاتا ہے ۔ (یعنی ماضی کے اوصاف و خصاءص بھی اس میں موجود ہوتے ہیں اور آئیندہ کے عزام و مقاصد بھی اسی میں دیکھ جا سکتے ہیں ) ۔

It is strong and rich In ancient ways, a mirror to the Past

As to the Future, and the link between

8

وصل استقبال و ماضی ذات او

چون ابد لا انتها اوقات او

اس کی ذات میں ماضی اور مستقبل دونوں جمع ہوتے ہیں اور ابد کی طرح اس کے اوقات کی بھی کوئی حد نہیں ہوتی (اس کا زمانہ لا محدود ہوتا ہے) ۔

What is to come, and what has gone before,

As is Eternity.

9

در دلش ذوق نمو از ملت است

احتساب کار او از ملت است

اس کے دل میں بڑھنے اور ترقی کرنے کا ذوق اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ ملت کی صورت میں منظم ہو جاتا ہے ۔ ملت ہی اس کی سرگرمیوں کا محاسبہ کرتی ہے ۔ وہی اس کی اچھائی و برائی جانچتی ہے ۔

The joy of growth Swells in his heart from the community,

That watches and controls his every deed;

10

پیکرش از قوم و هم جانش ز قوم

ظاهرش از قوم و پنهانش ز قوم

وہی تمام گرم جوشیوں کو ضبط و نظم میں رکھتی ہے اس کا وجود بھی قوم ہے اور جان بھی قوم ہے ۔ اس کاظاہر و باطن دونوں قوم ہی کے مرہون منت ہیں ۔

To them he owes his body and his soul,

Alike his outward and his hidden parts.

11

در زبان قوم گویا می شود

بر ره اسلاف پویا می شود

وہ قوم کی زبان سے بولتا ہے اور بزرگوں کے راستے پر سرگرم تگ و دو میں رہتا ہے ۔

His thoughts are vocal on the People’s tongue,

And on the pathway that his forbears laid He learns to run.

12

پخته تر از گرمی صحبت شود

تا بمعنی فرد هم ملت شود

وہ اپنے جیسے دوسرے افراد کی صحبت میں پہنچتا ہے تواس کی برکت سے زیادہ پختہ اور پائیدار ہو جاتا ہے یہاں تک کہ وہ حقیقت کے اعتبار سے خود ملت بن جاتا ہے ۔ یعنی اس کا سوچنا، کھانا پینا، سونا، اٹھنا، بیٹھنا سب ملت کے نقطہ نگاہ کی بنا پر متعین ہوتا ہے ۔

His immaturity Is warmed to ripeness by their friendship’s flame,

Till he becomes one with the Commonwealth.

13

وحدت او مستقیم از کثرت است

کثرت اندر وحدت او وحدت است

اس کی وحدت ّتنہائی) کثرت کی بدولت مضبوط و مستحکم ہوتی ہے اور کثرت اس کی وحدت میں پہنچ کر خود وحدت (اکائی) بن جاتی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ فرد دوسرے افراد قوم کے ساتھ مل کر پائیدار و استوار ہوتا ہے کیونکہ وہ اکیلا نہیں رہتا بلکہ ہزاروں لاکھوں افراد اس کے ساتھ بن جاتے ہیں ۔

His singleness in multiplicity

Is firm and stable, and itself supplies A unity to their innumerate swarm.

14

لفظ چون از بیت خود بیرون نشست

گوهر مضمون بجیب خود شکست

شعر الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے لیکن اگر ایک بھی لفظ شعر سے باہر نکل جائے تو اس کے مضمون کا موتی اپنی تھیلی ہی میں ریزہ ریزہ ہو جائے، ٹوٹ جائے گا ۔ اسی طرح فرد کے لیے بھی لازم ہے کہ اپنی اور قوم کی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے جدائی اختیار نہ کرے ۔

The word that sits outside its proper verse

Shatters the jewel of the thought concealed Within its pocket;

15

برگ سبزی کز نهال خویش ریخت

از بهاران تار امیدش گسیخت

جو سبز پتا درخت سے ٹوٹ کر گر گیا، الگ ہو گیا ظاہر ہے کہ فصل بہار سے اس کی امدی کا رشتہ ٹوٹ گیا، یعنی بہار آئے گی تو انہیں پتوں میں نئی تازگی پیدا کرے گی جو درخت کی شاخوں سے وابستہ ہوں گے ۔

when the verdant leaf Falls from the stem, its thread of hope for Spring

Is snapped asunder.

16

هر که آب از زمزم ملت نخورد

شعله های نغمه در عودش فسرد

جس کسی نے ملت کے چشمہ زمزم سے پانی نہ پیا، اس کے ساز میں نغموں کے شعلے ٹھٹھر کر رہ گئے ۔

He who has not drunk The water of the People’s sacred well,

The flames of minstrelsy within his lute Grow cold, and die.

17

فرد تنها از مقاصد غافل است

قوتش آشفتگی را مایل است

تنہا فرد کے دل میں مقاصد عالیہ کی تڑپ پیدا ہی نہیں ہو سکتی اور اسے قدرت نے عمل کی جو قوت عطا کی ہے وہ رائیگاں جائے گی(وہ انتشار کا شکار ہو جائے گی) ۔

The individual, Alone, is heedless of high purposes;

His strength is apt to dissipate itself;

18

قوم با ضبط آشنا گرداندش

نرم رو مثل صبا گرداندش

قوم اس کی فکر و نظر کو ایک ضابطے (ربط و ضبط) میں لاتی ہے بلکہ صبا کی طرح آہستہ آہستہ اور باقاعدہ چلنے لگتا ہے (مطلب یہ کہ فرد تنہا ہو تو وہ ضبط و نظم سے بے بہرہ ہوتا ہے جماعت میں آتا ہے تو ضبط و نظم کا پابند ہو جاتا ہے اور پابند ہوتے ہیں اس کی تمام سرگرمیاں مفید کاموں میں لگ جاتی ہیں ۔ )

The People only make him intimate

With discipline, teach him to be as soft And tractable as is the gentle breeze,

19

پا به گل مانند شمشادش کند

دست و پا بندد که آزادش کند

قوم فرد پر پابندیاں عائد کر دیتی ہے جیسے باغ میں شمشاد کے ہاتھ پاؤں باندھ کر (زمین میں دھنسا کر) آزاد کیا جاتا ہے ۔ (یہ پابندیاں اس لیے ہوتی ہیں کہ فرد کے لیے حقیقی آزادی کا راستہ ہموار ہو جائے ۔ )

Set him in earth like a well‐rooted oak,

Close‐fetter him, to make him truly free.

20

چون اسیر حلقه ی آئین شود

آهوی رم خوی او مشکین شود

جب ایک فرد ضابطے، ایک قانون اور ایک آئین کا حلقہ گردن میں ڈال لیتا ہے تو اس کے ادھر اُدھر بے مقصد دوڑنے والے (بے لگام) آہو میں نافہ پیدا ہو جاتا ہے یعنی اس کے طبعی جوہر کھلنے لگتے ہیں ۔

When he is prisoner to the chain of Law

His deer, by nature wild and uncontrolled, Yields in captivity the precious musk.

21

تو خودی از بیخودی نشناختی

خویش را اندر گمان انداختی

اے مخاطب، تو نے خودی اور بیخودی میں تمیز نہیں کی اور خود وہم و گمان میں پڑا رہا (اور ملت سے کٹ گیا) ۔

Thou, who hast not known self from selflessness,

Therefore hast lost thyself in vain surmise,

22

جوهر نوریست اندر خاک تو

یک شعاعش جلوه ی ادراک تو

تیری مٹی (خمیر) میں ایک نورانی اور روشن جوہر ہے تجھ میں فہم و ریاضت کا جو مادہ پیدا ہوا ہے یہ بھی ایک جوہر کی کرن ہے ۔

Within thy dust there is an element

Of Light, whose single shaft illuminates Thy whole perception;

23

عیشت از عیشش غم تو از غمش

زنده ئی از انقلاب هر دمش

اگر وہ خوش ہے تو تو بھی خوش ہے اگر وہ غمگین ہے تو تو بھی غمگین ہے ۔ گویا وہ ہر لمحہ الٹ پلٹ میں لگا رہتا ہے اور اسکی یہی الٹ پلٹ تیرے لیے زندگی کا سروسامان ہے ۔

all thy joy derives From its enjoyment, all thy sorrow springs

From its distress; its constant change and turn Keep thee in vital being.

24

واحد است و بر نمی تابد دوئی

من ز تاب او من استم تو توئی

وہ جوہر (خودی) واحد ہے اور دوئی کی روادار نہیں ۔ دوئی کو برداشت نہیں کرتی ۔ اسی کی چمک دمک سے میں ، میں ہوں اور تو ، تو ہے ۔ یعنی تمام افراد خودی کی بنا پر آگاہ اور باشعور افرا د بنتے ہیں ۔

It is one And, being one, brooks no duality;

Grace to its glow I am myself, thou thou.

25

خویش دار و خویش باز و خویش ساز

نازها می پرورد اندر نیاز

یہی جوہر (خودی) ہے جو اپنے آپ کو قائم بھی رکھتا ہے، اپنے جلوے بھی بکھیرتا ہے اور ترقی، تعمیر و استواری میں بھی لگا رہتا ہے ۔ وہ نیاز کے پردے میں ناز پالتا ہے ۔

Preserving self, staking and making self,

Nourishing pride in meek humility,

26

آتشی از سوز او گردد بلند

این شرر بر شعله اندازد کمند

اس کے سوز سے آگ بلند ہوتی ہے اور یہ چھوٹی سی چنگاری ہونے کے باوجود شعلے پر کمند ڈالتی ہے تا کہ اسے قابو میں لے آئے ۔ (مطلب یہ ہے کہ خودی میں بے پناہ زور ہوتا ہے وہ ہر چیز کو مسخر کر لینے کے لیے بیتاب ہوتی ہے اور قوت کا یہ عالم ہوتا ہے کہ چھوٹی سی چنگاری بڑے بڑے شعلے پر جا گرتی ہے) ۔

It is a flame that sets a fire alight,

A spark that overshoots the blazing torch.

27

فطرتش آزاد و هم زنجیری است

جزو او را قوت کل گیری است

اس کی فطرت آزاد بھی ہے اور قید بھی اس کے جزو میں کل پر قابو پا لینے کی قوت موجود ہے (آزاد اس لیے کہ خودی جو چاہے کر سکتی ہے قید اس لیے کہ وہ اپنے ایک خاص دائرے سے باہر نہیں نکل سکتی ) ۔

Its nature is to be both free and bond;

Itself a part, it has the potency To seize the whole.

28

خوگر پیکار پیهم دیدمش

هم خودی هم زندگی نامیدمش

میں نے اسے مسلسل جنگ و جدل ، جدوجہد میں دیکھا ہے، میں نے اسی جوہر کو خودی بھی قرار دیا ہے اور زندگی بھی (خودی کا نام بھی دیا ہے اور زندگی کا نام بھی) ۔

I have beheld its wont Is strife incessant,

and have called its name Selfhood, and Life.

29

چون ز خلوت خویش را بیرون دهد

پای در هنگامه ی جلوت نهد

جب یہ جوہر خلوت سے باہر نکلتا ہے تو جلوت کے ہنگامہ زار میں پاؤں رکھتا ہے

Whenever it comes forth From its seclusion, and discreetly steps

Into the riot of phenomena

30

نقش گیر اندر دلش «او» می شود

«من» ز هم می ریزد و «تو» می شود

تو اس کے دل پر اور نقش ثبت ہو جاتا ہے ۔ من اپنے آپ سے کٹ کر درمیان سے نکل کر تو بن جاتا ہے میں سے تو بننے کا مطلب یہی ہے کہ جب تک میں ، میں ، تھا اس میں خود غرضی تھی، ایثار نہ تھا،جب میں ، او ، اور ، تو، بنا تو خود غرضی محو ہو گئی اور اس کی جگہ ایثار نے لے لی ۔

Its heart is impressed with the stamp of “he”,

“I” is dissolved, converting into “thou”.

31

جبر ، قطع اختیارش می کند

از محبت مایه دارش می کند

جماعت خودی پر پابندیاں عائد کر دیتی ہے گویا جبر خودی کا اختیار ختم کر دیتا ہے اور اسے محبت کی دولت بخش دیتا ہے ۔

Compulsion cuts the freedom of its choice,

Making it rich in love.

32

ناز تا ناز است کم خیزد نیاز

ناز ها سازد بهم خیزد نیاز

ناز جب تک ناز ہے اس سے نیاز پیدا نہیں ہوتا ۔ جب بہت سے ناز اکھٹے ہو جاتے ہیں تو نیا نیاز رونما ہو جاتا ہے ۔

While pride of self Pulls its own way, humility is not born;

Pull pride together, and humility Comes into being.

33

در جماعت خود شکن گردد خودی

تا ز گلبرگی چمن گردد خودی

جماعت میں شامل ہونے پر خودی اپنے وجود کو ختم کر دیتی ہے ۔ اسی طرح وہ پھول کی پتی سے چمن کی صورت اور وسعت پا لیتی ہے ۔ یعنی خودی علیحدگی سے نکل کر جماعت میں پہنچتی ہے تو خود شکنی سے جماعت کے ساتھ مطابقت پیدا کر لیتی ہے ۔ غرض یہ ہوتی ہے کہ پھول کی ایک پنکھڑی باغ کی صورت اختیار کر ے ۔

self negates itself In the community,

that it maybe No more a petal, but a rosary.

34

«نکته ها چون تیغ پولاد است تیز

گر نمی فهمی ز پیش ما گریز»

خودی اور بیخودی کا تعلق واضح کر چکنے کے بعد مولانا روم کا مشہور شعر دہراتے ہیں کہ میں جو نکتے بیان کر رہا ہوں وہ فولاد ی تلوار سے زیادہ تیز ہیں ۔ اگر تو انہیں نہیں سمجھتا تو میرے سامنے سے دور ہو جا، بھاگ جا ۔

“These subtleties are like a steely sword:

If they defeat thy wit, quick, flee away!”

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

منکر نتوان گشت اگر دم زنم از عشق

این نشه بمن نیست اگر با دگری هست

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 1 - پیشکش به حضور ملت اسلامیه

اگلی نظم

از چه رو بر بسته ربط مردم است

رشته ی این داستان سر در گم است

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 3 - در معنی اینکه ملت از اختلاط افراد پیدا میشود و تکمیل تربیت او از نبوت است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور