صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 1 - پیشکش به حضور ملت اسلامیه

بخش 1 - پیشکش به حضور ملت اسلامیه

پیش کش بحضور ملتِ اسلامیہ

Dedication to the Muslim Community

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: چند بندی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
بند 1
Toggle stanza 1
”“
1

منکر نتوان گشت اگر دم زنم از عشق

این نشه بمن نیست اگر با دگری هست

اگر میں عشق کی بات کرتا ہوں تو مجھے اس سے انکار نہیں کرنا چاہئے ؛ اگر میں اس نشے سے خالی ہوں تو کسی اور میں ضرور ہو گا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Question me not when I speak of Love.

If I may not have tasted this wine, someone else must have.

عرفی
بند 2
Toggle stanza 2
2

ای ترا حق خاتم اقوام کرد

بر تو هر آغاز را انجام کرد

اے ملت اسلامیہ جس طرح تیرے رسول خاتم الرسل ﷺ اور اس دنیا کے آخری نبی تھے اسی طرح تو قوموں کی خاتم یعنی تیرے بعد کوئی قوم پیدا نہ ہو گی ۔ اس سلسلے میں جو آغاز ہوا تھا وہ تیری ذات پر انجام کو پہنچ گیا ۔

You, who were made by God to be the Seal Of all the peoples dwelling upon earth,

That all beginnings might in you find end;

3

ای مثال انبیا پاکان تو

همگر دلها جگر چاکان تو

اے ملت! تیرے پاکباز اور پاک باطن اصحاب کو اس سے ملتی جلتی حیثیت حاصل ہے جو پہلی قوموں میں انبیا کو حاصل تھی ۔ تیرے جن بزرگوں کے جگر عشق حق کی وجہ سے چاک چاک ہیں وہ دلوں کے زخم رفو کر دیتے ہیں ۔

Whose saints were prophet-like, whose wounded hearts

Wove into unity the souls of men;

4

ای نظر بر حسن ترسازاده ئی

ای ز راه کعبه دور افتاده ئی

اے امت مسلمہ ! تو نے اہل کلیسا کے حسن (علوم) پر نظر رکھی ہوئی ہے؛ اور تو راہ کعبہ سے دور جا پڑی ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Why are you fallen now so far astray From Makkah's holy Ka‘ba, all bemused

By the strange beauty of the Christian's way?

5

ای فلک مشت غبار کوی تو

«ای تماشا گاه عالم روی تو»

یہ آسمان تیرے کوچے کے گردوغبار کی مٹھی ہے اور تیرے چہرے کے حسن کا یہ عالم ہے کہ دنیا کی نگاہیں اسی پر جمی ہوئی ہیں ۔ تیرا چہرہ دنیا والوں کے لیے تماشاگاہ ہے ۔

The very skies are but a gathering Of your street's dust, yourselves the cynosure

Of all men's eyes;

6

همچو موج ، آتش ته پا میروی

«تو کجا بهر تماشا میروی»

لیکن تیری کیفیت یہ ہے کہ تو موج کی طرح بے قرار ہو کر دوسری طرف چلی جا رہی ہے ۔ میں پوچھتا ہوں کہ تجھے ذوق تماشا کہاں لیے جا رہا ہے ۔ تو کس کے نظارے کے لیے جا رہی ہے ۔ ان دونوں شعروں کے آخری دو مصرعے سعدی کی غزل کے ایک شعر سے لیے گئے ہیں ۔

whither in restless haste Do you now hurry like a storm-tossed wave,

What new diversion seeking?

7

رمز سوز آموز از پروانه ئی

در شرر تعمیر کن کاشانه ئی

تجھے چاہیے کہ پروانے سے سوز کے راز سیکھے اور چنگاریوں میں محل تعمیر کرے یعنی گھر بنائے ۔

No, but learn The mystery of ardour from the moth

And make your lodgement in the burning flame;

8

طرح عشق انداز اندر جان خویش

تازه کن با مصطفی پیمان خویش

اپنی جان کے اندر عشق رسول اللہ کا انداز پیدا کر اور رسول اللہ ﷺ سے پھر اپنے پیمان نیاز وفا باندھ لے ۔

Lay love's foundation-stone in your own soul,

And to the Prophet pledge anew your troth.

9

خاطرم از صحبت ترسا گرفت

تا نقاب روی تو بالا گرفت

اے ملت! جب تیرے چہرے سے نقاب اوپر کو اٹھا اور میں نے اس کی آب و تاب دیکھی تو میرے دل کو نصرانیوں اور غیروں سے نفر ت ہو گئی ۔

My mind was weary of Christian company,

When suddenly your beauty stood unveiled.

10

هم نوا از جلوه ی اغیار گفت

داستان گیسو و رخسار گفت

میرے ہمنواؤں نے غیروں کو جلوہ افروزیوں کے افسانے سنائے ۔ زلف و رخسار کی داستانیں بیان کیں ۔

My fellow-minstrel sang the epiphany Of alien loveliness, the lovelorn theme

Of stresses and soft cheeks, and rubbed his brow

11

بر در ساقی جبین فرسود او

قصه ی مغ زادگان پیمود او

انھوں نے ساقی کے دروازے پر پیشانی گھسی، وہ مغ زادوں کے قصے کہتے رہے (یہ اس وقت کے عام شاعروں کی کیفیت تھی) ۔

Against the saki's door, rehearsed the chant

Of Magian wenches.

12

من شهید تیغ ابروی تو ام

خاکم و آسوده ی کوی تو ام

اے ملت اسلامیہ! میں تو تیری تیغ ابرو کا شہید ہوں ۔ بلاشبہ میری حیثیت خاکی ہے لیکن تیرے ہی کوچے میں مجھے آسائش نصیب ہوئی ہے ۔

I would martyr be To your brow's scimitar, am fain to rest

Like dust upon your street.

13

از ستایش گستری بالاترم

پیش هر دیوان فرو ناید سرم

میں کسی کی مدح سرائی نہیں کر سکتا اس سے بہت اونچا ہوں ۔ ہر وزیر کے آگے میرا سر نہیں جھک سکتا ۔

Too proud am I To mouth base panegyrics, or to bow

My stubborn head to every tyrant's court.

14

از سخن آئینه سازم کرده اند

وز سکندر بی نیازم کرده اند

قضا و قدر نے مجھے شعر و سخن کا آئینہ ساز بنا دیا ہے اور بادشاہوں سے بے نیاز کر دیا ہے اگرچہ وہ سکندر جیسی عالم گیر سلطنت ہی کے مالک ہوں ۔

Trained up to fashion mirrors out of words,

I need not Alexander's magic glass.

15

بار احسان بر نتابد گردنم

در گلستان غنچه گردد دامنم

میری گردن کسی کے احسان کے بوجھ کی روادار نہیں ہو سکتی، میں باغ میں جاؤں تو میرا دامن کھلا نہیں رہتا ،بند ہو کر کلی کی شکل اختیار کر لیتا ہے تا کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں باغ سے کچھ لینے کے لیے آیا ہوں ، یعنی کسی کے آگے دامن نہیں پھیلاتا ۔

My neck endures not men's magic glass. My neck endures not men's munificence;

Where roses bloom, I gather close the skirt Of my soul's bud.

16

سخت کوشم مثل خنجر در جهان

آب خود می گیرم از سنگ گران

میں اس دنیا میں تلوار کی طرح سخت کوش ہوں اور بھاری پتھر سے آب یعنی اپنی چمک اور تیزی حاصل کرتا ہوں ۔ اقبال نے شاعرانہ اندا ز میں یہ فرمایا ہے کہ میرا خنجر بھی پتھر سے اپنے لیے آب حاصل کرتا ہے ، سخت کوشی کا تقاضا بھی یہی ہے ۔

Hard as the dagger's steel I labour in this life, my lustre win

From the tough granite.

17

گرچه بحرم موج من بیتاب نیست

بر کف من کاسه ی گرداب نیست

اگرچہ میں سمندر ہوں لیکن میری موجوں میں کوئی بیقراری نہیں ہے ۔ اور میرے ہاتھ میں بھنور کا کشکول نہیں ہے ۔

Though I am a sea, Not restless is my billow; in my hand

I hold no whirlpool bowl.

18

پرده ی رنگم شمیمی نیستم

صید هر موج نسیمی نیستم

میں رنگ کا پردہ ہوں ، کوئی خوشبو نہیں کہ باد نسیم کا ہر جھونکا مجھے شکار کر کے لے جائے ۔ (مطلب یہ ہے کہ نسیم چلتی ہے تو خوشبو اڑا کر لے جاتی ہے لیکن رنگ نہیں لے جا سکتی ۔ )

A painted veil Am I, no blossom's perfume-scattering,

No prey to every billowing breeze that blows.

19

در شرار آباد هستی اخگرم

خلعتی بخشد مرا خاکسترم

میں زندگی کے اس مقام پر، جہان شعلے ہی شعلے ہیں ایک انگارہ ہوں اور اس پر خوش ہوں کہ میری راکھ میرے لیے خلعت مہیا کرے گی ۔

I am glowing coal within Life's fire,

And wrap me in my embers for a cloak.

20

بر درت جانم نیاز آورده است

هدیه ی سوز و گداز آورده است

اے ملت اسلامیہ میری جان تیرے در پر نیاز (نذرانہ) لے کر آئی ہے، اس کے دامن میں تیرے لیے سوزو گداز کا تحفہ ہے ۔

And now my soul comes suppliant to your door

Bringing a gift of ardour passionate.

21

ز آسمان آبگون یم می چکد

بر دل گرمم دمادم می چکد

جس آسمان کا رنگ نیلا ہٹ میں سمندر کے پانی سے ملتا جلتا ہے اس سے میرے پر حرارت دل پر دمبدم دریا ٹپکتے رہتے ہیں ۔

A mighty water out of heaven's deep

Momently trickles 'er my burning breast,

22

من ز جو باریکتر می سازمش

تا به صحن گلشنت اندازمش

میں انہیں ندی سے بھی زیادہ باریک بناتا ہوں تا کہ وہ تیرے باغ کے صحن میں بہنے لگے ۔

The which I channel narrower than a brook

That I may fling it in your garden's dish.

23

زانکه تو محبوب یار ماستی

همچو دل اندر کنار ماستی

اے ملت! یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تو ہمارے مجبوب کو پیاری ہے اور ہم نے دل کی طرح تجھے پہلو میں بٹھا رکھا ہے ۔

Because you are beloved by him I love

I fold you to me closely as my heart.

24

عشق تا طرح فغان در سینه ریخت

آتش او از دلم آئینه ریخت

جب سے عشق نے میرے سینے میں آہ و فغاں کی بنیاد رکھی اس کی آگ نے میرے دل کو آئینہ بنا دیا ۔

Since love first made the breast an instrument Of fierce lamenting, by its flame my heart

Was molten to a mirror;

25

مثل گل از هم شکافم سینه را

پیش تو آویزم این آئینه را

میں پھول کی طرح اپنا سینہ چیر رہا ہوں تا کہ یہ آئینہ تیرے سامنے آ جائے ۔

like a rose I pluck my breast apart, that I may hang

This mirror in your sight.

26

تا نگاهی افکنی بر روی خویش

می شوی زنجیری گیسوی خویش

اور تو اس آئینے میں اپنے چہرے پر ایک نظر ڈالے تاکہ تو اپنی زلف میں ہی اسیر ہو جائے ۔

Gaze you therein On your own beauty, and you shall become

A captive fettered in your tress' chain.

27

باز خوانم قصه ی پارینه ات

تازه سازم داغهای سینه ات

میں تیری پرانی داستان پھر سے سناتا ہوں ، دہراتا ہوں تا کہ تیرے سینے کے داغ تازہ ہو جائیں ۔

I chant again the tale of long ago,

To bid your bosom's old wounds bleed anew.

28

از پی قوم ز خود نامحرمی

خواستم از حق حیات محکمی

میں اس قوم کے لیے جو اپنی حقیقت سے نا آشنا ہو چکی تھی، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پائیدار زندگی کی التجائیں کرتا تھا ۔

So for a people no more intimate With its own soul I supplicated God,

That He might grant to them a firm-knit life.

29

در سکوت نیم شب نالان بدم

عالم اندر خواب و من گریان بدم

آدھی رات کا وقت تھا، ہر طرف سناٹا تھا اور میں رو رہا تھا ۔ دنیا سو رہی تھی اور میری آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔

In the mid-swatch of night, when all the world

Was hushed in slumber, I made loud lament;

30

جانم از صبر و سکون محروم بود

ورد من یاحی و یاقیوم بود

میری جان صبر اور سکون سے محروم ہو چکی تھی اور میں یا حی یا قیوم کا ورد کر رہا تھا ۔ دعا پائیدار اور محکم زندگی کے لیے تھی، ایسے میں یا حی و یا قیوم ہی کا ورد موزوں تھا ۔

My spirit robbed of patience and response, Unto the Living and Omnipotent God

I made my litany; my yearning heart

31

آرزوئی داشتم خون کردمش

تا ز راه دیده بیرون کردمش

میری ایک آرزو تھی، اسے لہو بنا کر بہایا اور آنکھوں کے راستے باہر نکال دیا ۔

Surged,

till its blood streamed from my weeping eyes.

32

سوختن چون لاله پیهم تا کجا

از سحر دریوز شبنم تا کجا؟

انسان لالے کی طرح کب تک متواتر جلتا رہے اور کب تک صبح سے شبنم کی بھیک مانگی جائے ۔

“How long, O lord, how long the tulip-glow,

The begging of cool dewdrops from the dawn?

33

اشک خود بر خویش می ریزم چو شمع

با شب یلدا در آویزم چو شمع

میں نے شمع کی طرح اپنے آنسو اپنے آپ پر گرانے شروع کئے اور اسی کی طرح اندھیری رات سے پنجہ آزمائی شروع کر دی جس شمع سے آنسو نکلتے ہیں وہ مومی شمع ہوتی ہے اور اندھیری رات سے شمع کی پنجہ آزمائی کا معاملہ بالکل واضح ہے ۔ کیونکہ وہ چاہتی ہے اندھیرا اس کے نور سے اجالا بن جائے ۔

Lo, like a candle wrestling with the night

O'er my own self I pour my flooding tears.”

34

جلوه را افزودم و خود کاستم

دیگران را محفلی آراستم

میں خود گھلتا گیا اور روشنی کو تیز تر کرتا رہا، اس طرح دوسرے کے لیے محفل آراستہ کر دی ۔

I spent myself, that there might be more light,

More loveliness, more joy for other men.

35

یک نفس فرصت ز سوز سینه نیست

هفته ام شرمنده ی آدینه نیست

مجھے ایک لمحے کے لیے بھی سینے کی جلن سے فرصت نہیں ملتی، میرے ہفتے میں روز جمعہ ہے ہی نہیں (اسلامی حکومت میں جمعہ تعطیل ہوتی تھی) ۔ شاعر بتانا چاہتا ہے کہ سب کو ہفتے میں ایک دن کے لیے چھٹی مل جاتی ہے لیکن میرے ہاں چھٹی کا کوئی دن نہیں آتا ۔

Not for one moment takes my ardent breast Repose from burning;

Friday does not shame My restless week of unremitting toil.

36

جانم اندر پیکر فرسوده ئی

جلوه ی آهی است گرد آلوده ئی

میرے پرانے جسم میں جو غموں سے نڈھال ہے جان کی کیفیت ایسی ہے جیسے آہ کا ایک جلوہ گردوغبار سے آلودہ ہو ۔

Wasted is now my spirit's envelop;

My glowing sigh is sullied all with dust.

37

چون مرا صبح ازل حق آفرید

ناله در ابریشم عودم تپید

ازل کی صبح کو خدا نے مجھے پیدا کیا تو میرے ساز کے ریشمی تاروں میں نالے تڑپنے لگے ۔

When God created me at Time's first dawn

A lamentation quivered on the strings

38

ناله ئی افشا گر اسرار عشق

خونبهای حسرت گفتار عشق

یہ نالے ایسے تھے جو عشق کے بھید ظاہر کر دینے والے تھے اور جنھیں عشق کی حسرت گفتار کا خوں بہا کہنا چاہیے ۔

Of my melodious lute, and in that note Loves's secrets stood revealed, the ransomprice

Of the long sadness of the tale of Love;

39

فطرت آتش دهد خاشاک را

شوخی پروانه بخشد خاک را

ان نالوں میں یہ قوت تھی کہ خس و خاشاک کو آگ کی فطرت بخش دیں اور خاک کی چٹکی میں پروانے کی شوخی بھر دیں (مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں ازل ہی سے قوم کا درد رکھ دیا تھا اور وہی درد آج اس دعوت کا سبب بنا) ۔

Which music even to sapless straw imparts The ardency of fire, and on dull clay

Bestows the daring of the reckless moth.

40

عشق را داغی مثال لاله بس

در گریبانش گل یک ناله بس

عشق کے لیے لالے کی طرح داغ ہی کا سامان کافی ہے ۔ اگر اس کے گریبان میں لالے کا ایک بھی پھول ہو تو وہ کافی ہے ۔

Love, like the tulip, has one brand at heart,

And on its bosom wears a singly rose;

41

من همین یک گل بدستارت زنم

محشری بر خواب سرشارت زنم

اے ملت اسلامیہ ! میں یہی پھول تیری دستار (پگڑی) کے زینت بناتا ہوں تو بڑی گہری نیند سوئی ہوئی ہے میں حشر برپا کر رہا ہوں تا کہ تو جاگ اٹھے ۔

And so my solitary rose I pin Upon your turban, and cry havoc loud

Against your drunken slumber, hoping yet

42

تا ز خاکت لاله زار آید پدید

از دمت باد بهار آید پدید

تاکہ تیری خاک کا دامن لا لہ زار بن جائے (وجود میں آئے) اور تیرا سانس اس کائنات کے لیے فصل بہار کی شکل اختیار کرے ۔

Tulips may blossom from your earth anew

Breathing the fragrance of the breeze of Spring.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

جهد کن در بیخودی خود را بیاب

زود تر والله اعلم بالصواب

علامہ اقبال»رموز بیخودی»رموز بیخودی

اگلی نظم

فرد را ربط جماعت رحمت است

جوهر او را کمال از ملت است

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 2 - تمهید : در معنی ربط فرد و ملت

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور