صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 3 - در معنی اینکه ملت از اختلاط افراد پیدا میشود و تکمیل تربیت او از نبوت است

بخش 3 - در معنی اینکه ملت از اختلاط افراد پیدا میشود و تکمیل تربیت او از نبوت است

ملت اختلاطِ افراد سے بنتی اور اس کی تکمیل تربیت نبوت سے ہوتی ہے

That the community is made up of the migling of individuals, and owes the perfecting of its education to propherthood

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

از چه رو بر بسته ربط مردم است

رشته ی این داستان سر در گم است

کچھ معلوم نہیں کہ انسانوں میں اول اول میل جول کا تعلق کس وجہ سے فائدہ مند ہے ۔ اس کہانی کا ابتدائی رشتہ بالکل غائب ہے ۔

Upon what manner man is bound to man: That tale’s a thread, the end whereof is lost Beyond unraveling.

2

در جماعت فرد را بینیم ما

از چمن او را چو گل چینیم ما

ہم فرد کو جماعت میں دیکھتے ہیں اور باغ سے اسے پھول کی طرح چن لیتے ہیں (جماعت اگر چمن ہے تو فرد اس کا پھول ہے ) ۔

We can descry The Individual within the Mass, And we can pluck him as a flower is plucked Out of the garden.

3

فطرتش وارفته ی یکتائی است

حفظ او از انجمن آرائی است

اس کی فطرت انفرادیت کی دلدادہ ہے لیکن اس کی حفاظت کا تقاضا یہ ہے کہ انجمن آراستہ کر کے زندگی بسر کرے یعنی بہت سے افراد مل جل کر رہیں ۔

All his nature is Entranced with individuality, Yet only in Society he finds Security and preservation.

4

سوزدش در شاهراه زندگی

آتش آوردگاه زندگی

زندگی کے میدان جنگ کی آگ فرد کو شاہراہ حیات میں جلا دیتی ہے ۔

On The road of life, the furnace of life’s fire, That roaring battlefield, sets him aflame.

5

مردمان خوگر بیکدیگر شوند

سفته در یک رشته چون گوهر شوند

انسان اسی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ یا عادی ہو گئے اور موتیوں کی طرح ایک رشتے میں پروئے گئے ۔

Men grow habituated each to each, Like jewels threaded on a single cord;

6

در نبرد زندگی یار همند

مثل همکاران گرفتار همند

وہ زندگی کی جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں جس طرح ایک پیشے کے مختلف آدمی اکھٹے کام کرتے ہیں اسی طرح یہ بھی اکٹھے ہو گئے ۔

Succors each other in the war of life In mutual bond, like workmen bent upon A common task.

7

محفل انجم ز جذب باهم است

هستی کوکب ز کوکب محکم است

تاروں کی محفل بھی ایک خاص کشش کی بدولت قائم ہے ۔ ایک تارے کی ہستی دوسرے تارے کی وجہ سے استوار ہے ۔

Through such polarity The constellations congregate, each star In several attraction keeping each Poised firmly and unshaken.

8

خیمه گاه کاروان کوه و جبل

مرغزار و دامن صحرا و تل

قافلہ تو پہاڑ، پہاڑیاں ، چراگاہیں ، صحرا کا دامن اور ریت کے ٹیلے جہاں جی چاہے خیمے لگا لیتا ہے ۔

Caravans May pitch their tents on mountain or on hill, Broad meadow, fringe of desert, sandy mound

9

سست و بیجان تار و پود کار او

نا گشوده غنچه ی پندار او

انسان کے کاروبار کا تانا بانا بہت ہی بے جان سا تھا گویا اس کے غور و فکر کی کلی کھل کر پھول نہیں بنی تھی ۔

Yet slack and lifeless hangs the warp and woof Of the Group’s labour, unresolved the bud Of its deep meditation

10

ساز برق آهنگ او ننواخته

نغمه اش در پرده نا پرداخته

اس کے جس ساز کی آواز سے بجلیاں پیدا ہونے والی تھیں وہ ابھی چھیڑا نہیں گیا تھا اور انسان کا نغمہ ابھی پردوں میں نامکمل پڑا تھا ۔

still unplayed The flickering levin of its instrument, Its music hushed within its muted strings,

11

گوشمال جستجو نا خورده ئی

زخمه های آرزو نا خورده ئی

اس نے تلاش و جستجو کا تنبیہ کا تجربہ نہیں کیا تھا ۔ اور اس کے دل پر آرزو کی مضراب کی چوٹ نہیں لگی تھی ۔

Unsmitten by the pounding of the quest, The plectrum of desire; disordered still Its new-born concourse

12

نا بسامان محفل نوزاده اش

می توان با پنبه چیدن باده اش

جو محفل تازہ پیدا ہوئی اس کے پاس کوئی سازوسامان نہ تھا ۔ شراب اتنی کم تھی کہ چھوٹے سے پیالے میں جذب ہو سکتی تھی ۔

Its new-born concourse, and so thin its wine As to be blotted up with cotton flock;

13

نو دمیده سبزه ی خاکش هنوز

سرد خون اندر رگ تاکش هنوز

اس کی خاک سے سبزہ تازہ تازہ پھوٹا تھا ۔ اس کے انگور کی رگوں میں لہو سرد پڑا تھا ۔

New-sprung the verdure of its soil, and cold The blood in its vine’s veins;

14

منزل دیو و پری اندیشه اش

از گمان خود رمیدن پیشه اش

اس کے فکر و خیال پر دیو و پری اور بھوت پریت چھائے ہوئے تھے ۔ وہ اپنے خیال سے ڈر کر اٹھ بھاگتا تھا ۔

a habitat Of demons and of fairy sprites its thoughts, So that it leaps in terror from the shapes Conjured by its own surmise;

15

تنگ میدان هستی خامش هنوز

فکر او زیر لب بامش هنوز

اس کی ناپختہ زندگی کا میدان بہت تنگ تھا اور اس کی سوچ بچار نارسا تھی ۔ ابھی اس کے لب بام کے نیچے تھی ۔

shrunk the scope Of its crude life, its narrow thoughts confined Beneath the rim of its constricting roof;

16

بیم جان سرمایه ی آب و گلش

هم ز باد تند می لرزد دلش

جان کا خوف انسان کی آب و گل کا سرمایہ تھا ۔ تیز ہوا بھی چلتی تو اس کا دل لرز جاتا (کانپ اٹھتا) ۔

Fear for its life the meagre stock-in-trade Of its constituent elements; its heart Trembling before the whistle of the wind;

17

جان او از سخت کوشی رم زند

پنچه در دامان فطرت کم زند

انسان کی جان محنت و مشقت سے دور بھاگتی تھی اور اس نے فطرت کے دامن میں کبھی پنجہ نہیں مارا تھا ۔

Its spirit shies away from arduous toil, Little disposed to pluck at Nature’s skirt,

18

هر چه از خود می دمد برداردش

هر چه از بالا فتد برداردش

جو کچھ خود بخود زمین سے اگ آتا یا اوپر سے گر پڑتا ، اسی کو اٹھا کر گزارہ کر لیتا ۔

But whatsoever springs of its own self Or falls from heaven, that it gathers up.

19

تا خدا صاحبدلی پیدا کند

کو ز حرفی دفتری املا کند

یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کوئی صاحب دل پیدا کر دیتا ہے جو ایک حرف سے ایک دفتر لکھوا دیتا ہے ۔

Till God discovers a man pure of heart In His good time, who in a single word A volume shall rehearse;

20

ساز پردازی که از آوازه ئی

خاک را بخشد حیات تازه ئی

اس کی ساز نوازی میں ایسا اعجاز ہوتا ہے کہ دو مقاموں سے ترکیب پائی ہوئی ایک نوا سناتا ہے اور خاک کو نئی زندگی بخش دیتا ہے ۔

a minstrel he Whose piercing music gives new life to dust.

21

ذره ی بی مایه ضو گیرد ازو

هر متاعی ارج نو گیرد ازو

بے حس و حرکت خاک کی رگوں میں نیا زندگی کا خون دوڑ جاتا ہے ۔ بے حقیقت ذرہ اس صاحب دل سے نور حق کی روشنی حاصل کر لیتا ہے ۔

Through him the unsubstantial atom glows Radiant with life, the meanest merchandise Takes on new worth.

22

زنده از یک دم دو صد پیکر کند

محفلی رنگین ز یک ساغر کند

اور جو بھی جنس اس کے پاس ہو اس میں نئی قدر و قیمت پیدا ہو جاتی ہے ۔ اس کی ایک پھونک سے دو سو (ہزاروں ) پیکر زندہ ہو جاتے ہیں اس کے ایک پیالے سے پوری محفل میں رونق اور رنگینی پیدا ہو جاتی ہے ۔

Out of his single breath Two hundred bodies quicken; with one glass He livens an assembly.

23

دیده ی او می کشد لب جان دمد

تا دوئی میرد یکی پیدا شود

صاحب دل کی نگاہوں میں خاص جذب و کشش کا اعجاز ہوتا ہے ۔ اس کے لبوں سے جو کچھ نکلتا ہے وہ سننے والوں میں نئی زندگی پیدا کر دیتا ہے ۔ اس کی مقدس تعلیمات کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانوں سے دوئی اور بیگانگی مٹ جاتی ہے ۔ وحدت اور یگانگی پیدا ہو جاتی ہے ۔

His bright glance Slays, but forthwith his single uttered word Bestows new life, that so Duality Expiring, Unity may come to birth.

24

رشته اش کو بر فلک دارد سری

پارهای زندگی را همگری

اس کا دھاگا جس کا سرا آسمان تک پہنچا ہوتا ہے زندگی کے اجزاکو رفو کر کے باہم جوڑ دیتا ہے ۔ اس صاحب دل کے فیض روحانی کا سلسلہ آسمان سے وابستہ ہوتا ہے وہ زندگی کے مختلف ٹکڑوں کو جوڑ کر ایک کل بنا دیتا ہے ۔

His thread, whose end is knotted to the skies, Weaves all together life’s dissevered parts.

25

تازه انداز نظر پیدا کند

گلستان در دشت و در پیدا کند

وہ انسانوں کی نگاہوں میں نیا انداز پیدا کر دیتا ہے اور صحرا اور کو گلزار بنا دیتا ہے ۔ جن سے رنگ رنگ کے پھولوں ، طرح طرح کی خوشبووَں اورگوناگوں پھلوں کی فراوانی ہو ۔

Revealing a new vista to the gaze, He can convert broad desert and bare vale Into a garden.

26

از تف او ملتی مثل سپند

بر جهد شور افکن و هنگامه بند

(آپ نے بار بار دیکھا ہو گا کہ ) حرمل کا دانہ آگ پر رکھا جائے تو اس سے ایک خاص آواز نکلتی ہے اور وہ اچھل کر باہر جا پڑتا ہے ۔ اقبال فرماتے ہیں کہ صاحب دل کی حرارت پوری قوم کو حرمل کے دانے کا مرقع بنا دیتی ہے یعنی قوم ایک نعرے اور ایک ہنگامے کے ساتھ خدا کی راہ میں ہمہ تن سرگرم عمل ہو جاتی ہے ۔

At his fiery breath A people leap like rue upon a fire In sudden tumult,

27

یک شرر می افکند اندر دلش

شعله ی در گیر می گردد گلش

صاحب دل ایک چنگاری اس قوم کے دل میں ڈال دیتا ہے اور اس کی خاک کو ایک ایسا شعلہ بنا دیتا ہے جو ہر شے کو گرفت میں لے لینے کے لیے مضطرب ہو ۔

in their heart one spark Caught from his kindling, and their sullen clay Breaks instantly aflame.

28

نقش پایش خاک را بینا کند

ذره را چشمک زن سینا کند

اس کے پاؤں کا نقش خاک میں بینائی کی صلاحیت پیدا کر دیتا ہے ۔ ذرے میں تجلیات کا ایسا سروسامان بہم پہنچا دیتا ہے کہ وہ طور سینا سے چشمک زنی کرتا ہے ۔

Where’er he treads The earth receiving vision, every mote May wink the eye at Moses’ Sinai.

29

عقل عریان را دهد پیرایه ئی

بخشد این بی مایه را سرمایه ئی

یہ صاحب دل برہنہ عقل کو لباس پہنا دیتا ہے تاکہ اس کی برہنگی چھپ جائے اور اس مفلس و قلاش کو سرمایہ بخش دیتا ہے ۔

The naked understanding he adorns, With wealth abundant fills its indigence,

30

دامن خود میزند بر اخگرش

هر چه غش باشد رباید از زرش

اس عقل کے انگاروں کو دامن سے ہوا دیتا ہے اس طرح اس کے سونے کو پگھلا کر سارا کھوٹ باہر نکال لیتا ہے ۔ جب تک عقل آسمانی ہدایت سے فیضیاب نہ ہو وہ عقل محض رہتی ہے ۔

Fans with his skirts its embers, purifies Its gold of every particle of dross.

31

بندها از پا گشاید بنده را

از خداوندان رباید بنده را

نبی کی تعلیم انسانوں کے پاؤں کو ان بیڑیوں سے آزاد کر دیتی ہے جو اس نے خود پہن لی تھیں ۔ اور جو انسان مختلف دیوتاؤں اور معبودوں کی پرستش میں لگا ہوا تھا اسے تمام پرستشوں سے نجات دلا کر ایک خدا کی چوکھٹ پر لے آتی ہے ۔

He strikes the shackles from the fettered slave, Redeems him from his masters,

32

گویدش تو بنده ی دیگر نه ئی

زین بتان بی زبان کمتر نه ئی

نبی ان سے کہتا ہے کہ تو خواہمخواہ دوسروں کا غلام کیوں بنتا ہے کیا تو ان بتوں سے بھی کمتر ہے جو بول نہیں سکتےیہاں حضرت ابراہیم کے اس واقعے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورہ انبیاء میں آیا ہے ۔ یعنی حضرت ابراہیم قوم کو بت پرستی سے منع کرتے تھے ۔ قوم کہتی تھی کہ ہمارے باپ دادا انہیں بتوں کو پوجتے آئے ہیں اور ہم انہیں کے مذہب پر چلیں گے ۔ حضرت ابراہیم نے ایک دن موقع پا کر بڑے بت کو چھوڑا باقی تمام بتوں کو توڑ پھوڑ ڈالا ۔ اقبال فرماتے ہیں کہ نبی انسانوں سے یہی کہتا ہے کہ کیا تم ان بے زبان بتوں سے بھی فروتر ہو ۔

and declares, “No other’s slave thou art, nor any less Than those mute idols.”

33

تا سوی یک مدعایش می کشد

حلقه ی آئین بپایش می کشد

نبی انسانوں کو ایک مقصد کی طرف لے جاتا ہے ۔ ضابطے اور آئین کی زنجیر ان کے پاؤں میں ڈال دیتا ہے ۔ پھر ا ن کے دل میں توحید کا نکتہ بٹھاتا اور سکھاتا ہے تاکہ خدا کے سامنے جھکیں ۔

So unto one goal Drawing each on, he circumscribes the feet Of all within the circle of one Law,

34

نکته ی توحید باز آموزدش

رسم و آئین نیاز آموزدش

اسے از سر نو توحید کا سبق دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے نیازمندی ، رسوم و آداب سکھاتا ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Reschools them in God’s wondrous Unity, And teaches them the habit and the use Of self-surrender to the Will Divine.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

فرد را ربط جماعت رحمت است

جوهر او را کمال از ملت است

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 2 - تمهید : در معنی ربط فرد و ملت

اگلی نظم

در جهان کیف و کم گردید عقل

پی به منزل برد از توحید عقل

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 4 - ارکان اساسی ملیهٔ اسلامیه رکن اول: توحید

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور