رکن اول: توحید
The pillars of Islam First pillar: the Unity of God
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
در جهان کیف و کم گردید عقل
پی به منزل برد از توحید عقل
عقل اس مادی دنیا میں حیران و سرگردان پھرتی رہی (اور اس نے ہر طرف چکر لگائے) ۔ صرف توحید کے ذریعے سے اس کے لیے منزل پر پہنچنے کا بندوبست ہوا ۔
The Mind, astray in this determinate world, First found the pathway to this distant goal By faith in God the One;
ورنه این بیچاره را منزل کجاست
کشتی ادراک را ساحل کجاست
اگر توحید کی روشنی نہ ملتی تو مسکین عقل منزل پر کیوں کر پہنچ سکتی فہم و دریافت کی کشتی کو ساحل کیونکر میسر آتا
what other home Should bring the hapless wanderer to rest? Upon what other shore should Reason’s barque Touch haven?
اهل حق را رمز توحید ازبر است
در «اتی الرحمن عبدا»ٔ مضمر است
اہل حق توحید کی رمز کے ہر پہلو سے آگاہ ہیں ۔ یہ رمز سورہ مریم کی اس آیت نمبر 93 سے واضح ہے جس کے آخری الی الرحمٰن عبدا آتا ہے جس کا ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے اشارہ ہے ترجمہ: آسمان اور زمین میں جو کچھ بھی ہے وہ اسی لیے ہے کہ اس کے آگے بندگی کا سر جھکائے حاضر ہو گا۔
All men intimate with truth The secrets of the Godhead have by heart, Which is implicit in the sacred words He comes unto the Merciful, a slave.
تا ز اسرار تو بنماید ترا
امتحانش از عمل باید ترا
تو توحید کے بھیدوں سے اس وقت تک پوری طرح آگاہ نہیں ہو سکتا جب تک عمل کے ذریعے اس کی آزمائش نہ کر لے(یعنی محض زبان سے اللہ کو ایک کہہ دینا کافی نہیں ، توحید پر عمل پیرا ہو اور اس کا امتحان کر) ۔
In action let faith’s potency be tried, That it may guide thee to thy secret powers:
دین ازو حکمت ازو آئین ازو
زور ازو قوت ازو تمکین ازو
دین توحید سے ہے، عقل توحید سے ہے، شریعت توحید سے ہے ، زور و قوت اور اثبات و استحکام توحید سے ہے ۔
From it derive religion, wisdom, law, Unfailing vigour, power, authority.
عالمان را جلوه اش حیرت دهد
عاشقان را بر عمل قدرت دهد
توحید کی جلوہ افروزی عالموں کو حیرت میں ڈال دیتی ہے ۔ عاشقوں کو عمل کی قوت و قدرت عطا کرتی ہے ۔
Its splendour doth amaze the learned mind, But giveth unto lovers force to act;
پست اندر سایه اش گردد بلند
خاک چون اکسیر گردد ارجمند
جو شے رتبے میں پست ہے وہ توحید کے سایے میں پہنچتے ہی بلند ہو جاتی ہے ۔ بے حقیقت مٹی توحید کی بدولت اپنے اندر اکسیر کی قدروقیمت پیدا کر لیتی ہے ۔
The lowly in its shadow reacheth high, And worthless earth becomes like alchemy Precious beyond compute.
قدرت او برگزیند بنده را
نوع دیگر آفریند بنده را
توحید کی قوت انسان کو بلندی پر پہنچا دیتی ہے اور اس میں نئی طرح کی زندگی پیدا کر دیتی ہے ۔
Its mighty force Chooseth the slave, whereof it doth create Another species;
در ره حق تیز تر گردد تکش
گرم تر از برق خون اندر رگش
خدا کی راہ میں صاحب توحید کی رفتار بہت تیز ہو جاتی ہے، اس کی رگوں میں جو خون ہے وہ بجلی سے بھی زیادہ گرم ہو جاتا ہے (ایسا انسان باطل قوتوں سے بے خوف ہو جاتا ہے ) ۔
sprightlier he treads Upon the path of truth, and in his veins The blood burns hotter than the lightning’s shaft.
بیم و شک میرد عمل گیرد حیات
چشم می بیند ضمیر کائنات
خوف اور شک اس کے دل سے نکل جاتے ہیں ، عمل کا جوش اور ولولہ زندہ ہو جاتا ہے ۔ آنکھ کائنات کے چھپے ہوئے حقائق دیکھنے لگتی ہے ۔
Fear dies, and doubt; toil is new vitalized; The vision sees the inner mystery Of all creation.
چون مقام عبدهٔ محکم شود
کاسه ی دریوزه جام جم شود
جب خدا کا بندہ عبدہ کے مقام پر جم کر بیٹھ جاتا ہے تو بھیک کا کاسہ جام جم کی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔
When in servanthood To God man’s foot is established, beggary’s bowl Becomes the magic cup that Jamshid bore.
ملت بیضا تن و جان لااله
ساز ما را پرده گردان لااله
ملت بیضا جسم ہے اور اس کی جان کلمہ توحید لا الہ ہے ۔ سارے ساز کے پردوں سے نغمے صرف توحید کی بدولت نکل رہے ہیں ۔
There is no god but God: this is the soul And body of our Pure Community, The pitch that keeps our instrument in tune,
لااله سرمایه ی اسرار ما
رشته اش شیرازه ی افکار ما
توحید (لا الہ) ہمارے تمام بھیدوں کا سرمایہ ہے ۔ توحید کا رشتہ ہمارے افکار و خیالات کے لیے شیرازے کا کام دیتا ہے ۔
The very substance of our mysteries, The knotted thread that bids our scattered thoughts.
حرفش از لب چون بدل آید همی
زندگی را قوت افزاید همی
جب لا الہ کا حرف لبوں سے گزرتا ہوادل میں اترتا ہے تو زندگی کی قوت بڑھا دیتا ہے ۔
And when these words, being uttered on the lips, Reach to the heart, they do augment the power Of life itself;
نقش او گر سنگ گیرد دل شود
دل گر از یادش نسوزد گل شود
اگر پتھر لا الہ کا نقش قبول کر لے تو وہ دل بن جائے ۔ اگر دل لا الہ کی یاد سے حرارت حاصل نہ کرے تو وہ مٹی کی مانند حقیر ، ہیچ اور بے قیمت رہ جاتا ہے ۔
graven upon the rock, They wake a heart therein; but if the heart Burns not with the remembrance of that faith It doth convert to clay.
چون دل از سوز غمش افروختیم
خرمن امکان ز آهی سوختیم
ہم نے جب توحید کے غم میں دل کی آگ بھڑکائی تو اس دنیا کے خرمن کو ایک آہ سے جلا دیا ۔
When we inflamed The hearts within us with the passionate glow Of this belief, we set ablaze the barn Of all contingency with but a sigh.
آب دلها در میان سینه ها
سوز او بگداخت این آئینه ها
ہمارے سینوں میں دل پانی پانی ہو گئے ۔ توحید کی حرارت نے ان آئینوں کو پگھلا دیا ۔
This is the lustre glittering in the hearts Of men, those steely mirrors liquefied By Faith’s consuming flame
شعله اش چون لاله در رگهای ما
نیست غیر از داغ او کالای ما
لالہ کے پھول کی طرح توحید کا شعلہ ہماری رگوں میں دوڑ رہا ہے ۔ اس داغ کے سوا دنیا میں ہمارا کوئی سروسامان نہیں (یعنی ہمارا کل سرمایہ توحید ہے اور بس ) ۔
whose torch is like A tulip in our veins, and so we bear No other mark of glory but its brand.
اسود از توحید احمر می شود
خویش فاروق و ابوذر می شود
توحید کی برکت سے سیاہ رنگ کا آدمی سرخ رنگ کے آدمی کا ہمسر بن جاتا ہے ۔ حضرت عمر فاروق اور حضرت ابوذر غفاری جیسے یگانہ بزرگان ملت سے رشتہ خویشی پیدا کر لیتا ہے ۔ (یہاں حضرت بلال کی مثال پیش کر دینا کافی ہے اگرچہ وہ حبشی تھے لیکن اسلام کی برکت نے انہیں وہ رتبہ عطا کیا کہ حضرت عمر فاروق انہیں سردار کہہ کر پکارتے تھے ۔ )
Through this true Faith black man becomes as red, Kinsman to Omar, aye, and Abu Dharr.
دل مقام خویشی و بیگانگی است
شوق را مستی ز هم پیمانگی است
دل خویشی اور بیگانگی کا مقام ہے ۔ شوق کا تقاضا یہ ہے کہ اکٹھے بیٹھ کر پئیں اور مستی طاری ہو ۔
The heart’s a lodge to self and the Not-self, And passion quickens when the cup is shared;
ملت از یک رنگی دلهاستی
روشن از یک جلوه این سیناستی
ہماری ملت کی بنیاد دلوں کی یک رنگی پر قائم ہے اور تمام افراد قوم کے دلوں کا مقصد و مدعا ایک ہو ۔
When several hearts put on a single hue That is community, which Sinai Grows radiant in one epiphany.
قوم را اندیشه ها باید یکی
در ضمیرش مدعا باید یکی
قوم کا اندیشہ و فکر ایک ہو اور تمام افراد قوم کے دلوں کا مقصد و مدعا ایک ہو ۔
Peoples must have one thought, and in their minds Pursue a single purpose; to one draw
جذبه باید در سرشت او یکی
هم عیار خوب و زشت او یکی
قوم کی فطرت میں ایک ہی جذبہ ہونا چاہیے اور اس کے لیے اچھائی برائی کا پیمانہ بھی ایک ہی لازم ہے ۔
Their temperaments respond, one testing-stone Discriminates their hideous from their fair.
گر نباشد سوز حق در ساز فکر
نیست ممکن این چنین انداز فکر
جب تک فکر کے ساز میں حق کا سوز موجود نہ ہو ، سوچنے کا انداز ہی پیدا نہیں ہو سکتا ( مراد یہ ہے کہ حق کی تڑپ سے قوم میں فکری اور عملی وحدت پیدا کی جا سکتی ہے اور دل کی تڑپ صرف توحید سے ہی پیدا ہو سکتی ہے ) ۔
Unless the instrument of thought possess The fire of truth, it is impossible Its range can be so wide.
ما مسلمانیم و اولاد خلیل
از «ابیکم» گیر اگر خواهی دلیل
ہم مسلمان ہیں اور حضرت ابراہیم خلیل کی اولاد ہیں ۔ اگر تجھے اس بارے میں کسی دلیل کی ضرورت ہے تو ابیکم پڑھ لے ۔ تو دیکھ، قرآن مجید نے حضرت ابراہیم کو ہمارا باپ کہا ہے ۔
We Muslims are, Children of Abraham, which fact is proved (If proof thou seekest) by Your father he.
با وطن وابسته تقدیر امم
بر نسب بنیاد تعمیر امم
دنیا میں جتنی قو میں ہیں ان کی تقدیریں وطن سے وابستہ ہیں ۔ جغرافیائی حلقے کو اپنا وطن بنایا ہوا ہے یا قوموں نے نسب کی بنیاد پر اپنی تنظیم کا بندوبست کیا ہے (رنگ و نسل پر ان کی بنیاد ہے ) ۔
Though nations’ destinies their lands control, Though nations build their edifice on race,
اصل ملت در وطن دیدن که چه
باد و آب و گل پرستیدن که چه
بھلا وطن کو قوم کی بنیاد قرار دینا کیا مطلب ہے لغویت ہے ۔ کیا انسان کے لیے پانی، مٹی اور ہوا کی پرستش زیبا ہے
Thinkest thou the community is based Upon the Country? Shall so much regard Be blindly paid to water, air and earth?
بر نسب نازان شدن نادانی است
حکم او اندر تن و تن فانی است
نسب پر فخر کرنا سراسر حماقت ہے ۔ نسب کی کارفرمائی صرف بدن تک محدود ہے اور بدن مرنے کے بعد فنا ہو جاتا ہے ۔
It is dull ignorance to put one’s boast In lineage; that judgment rests upon The body, and the body perishes.
ملت ما را اساس دیگر است
این اساس اندر دل ما مضمر است
ہماری قوم کی بنیاد دوسری ہے، یہ بنیاد ہمارے دلوں میں پیوست ہے ۔
Other are the foundations that support Islam’s Community; they lie concealed Within our hearts.
حاضریم و دل بغایب بسته ایم
پس ز بند این و آن وارسته ایم
ہم خود موجود ہیں لیکن ہمارے دل نے اس ذات پاک سے وابستگی پیدا کر لی ہے ۔ جو انسان کی گرفت سے بہت بلند ہے ۔ جسے قرآن کی اصلاح میں غائب کہا گیا ہے ۔ لہذا ہم ادھر ادھر کے تمام بندھنوں سے آزاد ہو گئے ۔
We, who are present now, Have bound our hearts to Him who is unseen, And therefore are delivered from the chains Of earthly things.
رشته ی این قوم مثل انجم است
چون نگه هم از نگاه ما گم است
ہمارے افراد کو جو رشتہ ایک دوسرے سے وابستہ کئے ہوئے ہیں وہ ایسا ہی ہے جیسا تاروں کے درمیان قائم ہے ۔ وہ موجود ہے لیکن نگاہ کی طرح ہماری نگاہوں سے گم ہے ۔
The cord that links this folk Is like the thread which keeps the stars in place, And, as the sight itself, invisible.
تیر خوش پیکان یک کیشیم ما
یک نما یک بین یک اندیشیم ما
ہماری مثال ان تیروں کی سی ہے جن کے پیکان بڑے خوبصورت ہیں اور ہمارا ترکش ایک ہے ۔ ہم ایک نظر آتے ہیں ایک نظر سے دیکھتے ہیں اور ایک طریق پر سوچتے ہیں ۔
Well-pointed arrows of one quiver are we, One showing, one beholding, one in thought;
مدعای ما مآل ما یکیست
طرز و انداز خیال ما یکیست
ہمارا مقصد ، ہمارا مقام رجوع اور ہمارا انداز خیال ایک ہے ۔
One is our goal and purpose, one the form, The fashion, and the measure of our dream.
ما ز نعمتهای او اخوان شدیم
یک زبان و یکدل و یکجان شدیم
ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمت رحمت بن کر نازل ہوئی اور اسکی بدولت ہم بھائی بھائی بن گئے ۔ ہماری زبانیں ایک ہو گئیں ، ہمارے دل ایک ہو گئے ، ہماری جانیں ایک ہوئیں ۔
Thanks to His blessings, we are brothers all Sharing one speech, one spirit and one heart.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور