صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 5 - در معنی اینکه یأس و حزن و خوف ام الخبائث است و قاطع حیات و توحید ازالهٔ این امراض خبیثه می کند

بخش 5 - در معنی اینکه یأس و حزن و خوف ام الخبائث است و قاطع حیات و توحید ازالهٔ این امراض خبیثه می کند

یاس و حزن اور خوف ام الخباءث اور قاطع حیات ہیں ان امراض خبیثہ کا ازالہ (صرف) توحید سے ہو سکتا ہے

That despair, grief and fear are the mother of abominations, destroying life; and that belief in the Unity of God puts an end to those foul diseases

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

مرگ را سامان ز قطع آرزوست

زندگانی محکم از لاتقنطوا ست

کیا تمہیں معلوم ہے کہ موت کا سروسامان کیا ہے یہ کہ آرزو کا رشتہ کٹ جائے (جو شخص آرزو سے محروم ہوا سمجھ لو کہ اس کی موت کے سامان جمع ہو گئے) زندگی کو مضبوط و مستحکم بنانے کا وسیلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بشارت لاتقنطو کو سامنے رکھتا ہوا کبھی مایوس نہ ہو ۔

The amputation of desire condemns To Death; Life rests secure on the behest Do not despair.

2

تا امید از آرزوی پیهم است

نا امیدی زندگانی را سم است

امید کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے دل میں پے در پے آرزووَں کا ظہور ہوتا رہتا ہے ۔ نا امیدی زندگی کی لیے زہر ہے ۔

Desire continuing The substance is of hope, while hopelessness Poisons the very blood of life.

3

نا امیدی همچو گور افشاردت

گرچه الوندی ز پا می آردت

نا امیدی انسان کو قبر کی طرف بھینچ کر رکھ دیتی ہے ۔ اگر الوند پہاڑ کی مانند بھی مضبوط و مستحکم ہو تو اسے چت گرا کر دم لیتی ہے ۔

Despair Presses thee down, a tombstone on thy heart, And, though thou be as high as Alond’s mount, It casts thee down;

4

ناتوانی بنده ی احسان او

نامرادی بسته ی دامان او

کمزوری نا امیدی کی بندہَ احسان ہے (احسان کی لونڈی ہے) نامرادی اس کے دامن سے بندھی چلی آ رہی ہے ۔ (مطلب یہ کہ کمزوری ، ناتوانی اور نامرادی نا امیدی ہی سے پیدا ہوتی ہے) ۔

impotence is the slave Of its poor favours, unambition hangs Upon its skirts.

5

زندگی را یأس خواب آور بود

این دلیل سستی عنصر بود

مایوسی زندگی کو سلا دیتی ہے اور اس کے اجزا میں سستی کی رہبر بن جاتی ہے یعنی اس کے اجزا سست کر ڈالتی ہے ۔

Despair lulls life asleep, And proves the langour of its element;

6

چشم جانرا سرمه اش اعمی کند

روز روشن را شب یلدا کند

مایوسی کا سرمہ جان کی آنکھ کو اندھا کر دیتا ہے ۔ روز روشن اس کی وجہ سے اندھیری رات بن جاتا ہے ۔

The spirit’s eye is blinded by the smear Of its collyrium, and brightest day Transformed to pitchy night;

7

از دمش میرد قوای زندگی

خشک گردد چشمه های زندگی

مایوسی کے سانس سے زندگی کی قوتیں مر جاتی ہیں اور اسکے چشمے خشک ہو جاتے ہیں ۔

life’s faculties Die at its breath, Life’s springs are all dried up.

8

خفته با غم در ته یک چادر است

غم رگ جان را مثال نشتر است

مایوسی غم کے ساتھ ایک چادر میں سوتی ہے اور غم جان کی رگ کے لیے نشتر ہے (ایک چادر میں سونے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے مستقل ساتھی ہیں ) ۔

Despair and Sorrow sleep beneath one quilt; Grief, like a lancet, pierces the soul’s vein.

9

ای که در زندان غم باشی اسیر

از نبی تعلیم لاتحزن بگیر

اے مخاطب تو کیوں غم کے قیدخانے میں جکڑا بیٹھا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ سے لاتحزن کا سبق حاصل کر یعنی حالات کتنے ہی ناموافق ہوں لیکن غمگین کبھی نہ ہو ۔

O thou who art a prisoner of care, Learn from the Prophet’s message, Do not grieve!

10

این سبق صدیق را صدیق کرد

سر خوش از پیمانه ی تحقیق کرد

لاتحزن کا سبق صدیق نے صدیق کو پڑھایا تھا اور تحقیق کا جام پلا کر اسے مست کر دیا تھا ۔

This lesson fortified with trusty faith The heart of Abu Bakr, and with the cup Of blessed certitude rejoiced his soul.

11

از رضا مسلم مثال کوکب است

در ره هستی تبسم بر لب است

مسلمان نے رضا کی بدولت روشن ستارے کی حیثیت اختیار کر لی ہے ۔ ہستی کے راستے میں اس کے لبوں پر ہمیشہ ہمیشہ تبسم رقصاں رہتا ہے ۔ مسلمان راہ رضا پر چلتا ہوا زندگی کی منزل طے کرتا ہے ۔

The Muslim, well content with God’s good grace, Is like a star, and goes upon his way Smiling.

12

گر خدا داری ز غم آزاد شو

از خیال بیش و کم آزاد شو

اگر خدا پر تیرا عقیدہ پختہ ہے تو غم کے بندھن سے آزاد ہو جا ۔ یہ کم ، زیادہ کا خیال کیوں تجھے پریشان کر رہا ہے ۔ اسے دل سے نکال ڈال ۔

If thou acknowledgest a God, Shake free from sorrow, and deliver thee From vain imaging of Fortune’s turns.

13

قوت ایمان حیات افزایدت

ورد «لا خوف علیهم» بایدت

ایمان کی قوت تیری زندگی بڑھاتی ہے ۔ تجھے چاہیے کہ لاخوف علیہم کا ورد جاری رکھے یعنی خوف تیرے پاس بھٹکنے نہ پائے ۔

Life more abundant strength of faith bestows. No fear shall be upon them: let this be Constantly on thy lips.

14

چون کلیمی سوی فرعونی رود

قلب او از لاتخف محکم شود

جب اللہ کا کوئی پیغامبر حضرت موسیٰ کی طرح فرعون جیسے جابر کے پاس پیغام حق لے کر جاتا ہے تو اس کا دل لاتخف سے مضبوط ہو جاتا ہے ۔

When Moses strides Before the Pharaoh, steadfast is his heart As he remembereth Thou shalt not fear.

15

بیم غیر الله عمل را دشمن است

کاروان زندگی را رهزن است

اللہ کے سوا کسی اور کا خوف عمل کی قوت کا دشمن ہے ۔ اور زندگی کے قافلے کو لوٹ لیتا ہے ۔

Fear, save of God, is the dire enemy Of Works, the highwayman that plundereth Life‘s caravan.

16

عزم محکم ممکنات اندیش ازو

همت عالی تأمل کیش ازو

بڑے مضبوط ارادے والے آدمی پر خوف چھا جائے تو وہ سوچنے لگ جائے گا اور اس کا عزم تذبذب میں پڑ جائے گا ۔ زیادہ سوچ بچار انسان کی قوت عمل کو شل کر کے رکھ دیتی ہے ۔

Purpose most resolute. When fear attends, thinks upon what may be, And lofty zeal to circumspection yields.

17

تخم او چون در گلت خود را نشاند

زندگی از خود نمائی باز ماند

جب خوف کا بیج انسان کی مٹی میں جگہ پیدا کر لیتا ہے تو زندگی اپنے پورے جوہر نمایاں کرنے سے محروم ہو جاتی ہے ۔

Or let its seed be sown within thy soil, Life remains stunted of its full display.

18

فطرت او تنگ تاب و سازگار

با دل لرزان و دست رعشه دار

خوف کی فطرت قوت اور توانائی سے محروم ہے ۔ وہ لرزنے والے دل اور کانپنے والے ہاتھ ہی سے سازگار ہوتی ہے ۔

Feeble its nature is, and well accords. With heart a-tremble and with palsied hand.

19

دزدد از پا طاقت رفتار را

می رباید از دماغ افکار را

خوف پاؤں سے چلنے کی قوت چرا لیتا ہے ۔ وہ دماغ سے سوچ بچار کی صلاحیت چھین لے جاتا ہے ۔

Fear robs the foot of strength to rove abroad, And filches from the brain the power of thought.

20

دشمنت ترسان اگر بیند ترا

از خیابانت چو گل چیند ترا

تیرا دشمن اگر تجھے خوف زدہ دیکھے گا تو وہ تجھے اسی طرح اچک لے جائے گا جس طرح پھول کیاری سے توڑ لیا جاتا ہے ۔

Thy enemy, observing thee afraid, Will pluck thee from thy bower like a bloom;

21

ضرب تیغ او قوی تر می فتد

هم نگاهش مثل خنجر می فتد

محض دشمن کی تلوار ہی تجھ پر زیادہ قوت سے نہیں پڑے گی بلکہ خوف کی حالت میں اس کی نظر بھی تیرے لیے تلوار بن جائے گی ۔

Stronger will be the impact of his swords, His very glance transfix thee like a knife.

22

بیم چون بند است اندر پای ما

ورنه صد سیل است در دریای ما

خوف نے ہمارے پاؤں زنجیر سے جکڑ رکھے ہیں ورنہ ہمارے دریا میں سینکڑوں طوفان اٹھ سکتے ہیں ۔

Fear is a chain that fetters close our feet, A hundred torrents roaring in our sea.

23

بر نمی آید اگر آهنگ تو

نرم از بیم است تار چنگ تو

تیرے سانس سے لے کیوں نہیں اٹھتی صرف اس لیے کہ خوف نے تیرے ساز کے تار بہت ڈھیلے کر دیے ہیں ۔

And if thy melody not freely soars, Fear has relaxed the tension of thy strings;

24

گوشتابش ده که گردد نغمه خیز

بر فلک از ناله آرد رستخیز

تو وہ تار کس لے کہ ان سے نغمے اٹھنے لگیں اور آہ و نالہ سے آسمان پر محشر بپا ہو جائے

Then twist the pegs that keep thy lute in tune, And hear its music mount into the skies In unrestrained and passionate lament.

25

بیم ، جاسوسی است از اقلیم مرگ

اندرونش تیره مثل میم مرگ

خوف موت کی ولایت کا جاسوس ہے یعنی وہ موت کی خاطر سرگرم عمل ہے ۔ اس کا باطن لفظ مرگ کے میم کی طرح تاریک ہے ۔

Fear is a spy sent from the clime of Death, Its spirit dark and chill as Death’s own heart;

26

چشم او برهمزن کار حیات

گوش او بزگیر اخبار حیات

خوف کی آنکھ زندگی کا کارخانہ درہم برہم کر ڈالتی ہے ۔ اورا س کا کان زندگی کے اخبار کا چور ہے ۔ یعنی جو چیزیں زندگی کا سازوسامان ہیں انہیں چرا کر لے جاتا ہے ۔

Its eye wreaks havoc in the realm of Life, Its ear’s a thief of Life’s intelligence.

27

هر شر پنهان که اندر قلب تست

اصل او بیم است اگر بینی درست

جو برائیاں تیرے دل کے اندر چھپی ہوئی ہیں اگر تو غور کرے تو واضح ہو جائے گا کہ وہ سب خوف سے پیدا ہوئیں (ان کی اصل جڑ خوف ہی ہے) ۔

Whatever evil lurks within thy heart Thou canst be certain that its origin Is fear:

28

لابه و مکاری و کین و دروغ

این همه از خوف می گیرد فروغ

مکاری اور ریاکاری کے پردے سے خوف کا پیراہن تیار ہوتا ہے ، خوشامد، مکر و حیلہ ، کینہ ، جھوٹ یہ سب خوف ہی سے فروغ پاتے ہیں ۔

Is fear: fraud, cunning, malice, lies – all these Flourish on terror

29

پرده ی زور و ریا پیراهنش

فتنه را آغوش مادر دامنش

مکاری اور ریاکاری کے پردے سے خوف کا پیراہن تیار ہوتا ہے اور اس کا دامن فتنوں کے لیے ماں کی گود ہے ۔

who is wrapped about With falsehood and hypocrisy for veil, And fondles foul sedition at her breast.

30

زانکه از همت نباشد استوار

می شود خوشنود با ناسازگار

جس شخص کا دل ہمت سے مضبوط و مستحکم نہیں ہوتا وہ ناموافق چیزوں کو بھی خوشی خوشی قبول کر لیتا ہے ۔

And since it is least strong when zeal is high, It is most happy in disunion.

31

هر که رمز مصطفی فهمیده است

شرک را در خوف مضمر دیده است

جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی حقیقت سمجھ لی وہ یقینا شرک کو خوف میں چھپا ہوا پائے گا

Who understands the Prophet’s clue aright Sees infidelity concealed in fear.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در جهان کیف و کم گردید عقل

پی به منزل برد از توحید عقل

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 4 - ارکان اساسی ملیهٔ اسلامیه رکن اول: توحید

اگلی نظم

سر حق تیر از لب سوفار گفت

تیغ را در گرمی پیکار گفت

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 6 - محاورهٔ تیر و شمشیر

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور