تیر کی شمشیر سے گفتگو
Conversation of the arrow and the sword
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
سر حق تیر از لب سوفار گفت
تیغ را در گرمی پیکار گفت
تیر نے عین گھمسان کے رن میں سوفار کے لب سے کام لیتے ہوئے سچائی کا ایک راز تلوار سے بیان کیا ۔
How truthfully the well-notched arrow spoke Unto the sword in heat of battletide:
ای پریها جوهر اندر قاف تو
ذوالفقار حیدر از اسلاف تو
اے تلوار! تیرے اندر جو جوہر موجود ہیں وہ تیرے کوہ و قاف کی پریاں ہیں ۔ حضرت علی علیہ السلام کی ذوالفقار بھی تیرے ہی آبا اجداد میں سے تھی ۔
“What magic lustre glitters in thy steel Like fairy dancers in the Caucasus? Thou, who canst boast in thy long ancestry Of Ali’s trusty weapon, Dhul-Faqar;
قوت بازوی خالد دیده ئی
شام را بر سر شفق پاشیده ئی
تو نے اللہ کی تلوار یعنی خالد بن ولید کے بازو کی قوت دیکھی ہے ۔ کیونکہ انھوں نے تجھ سے کام لیا اور ملک شام کے سر پر شفق کا چھڑکاوَ کر دیا ۔
Who hast beheld the might of Khalid’s arm, Sprinkled red sunset on the head of night
آتش قهر خدا سرمایه ات
جنت الفردوس زیر سایه ات
ایک طرف تیرا سرمایہ خدا کے قہر و غضب کی آگ ہے دوسری طرف تیرے سائے کے نیچے بہشت بریں ہے ۔
Thine is the fire of God’s omnipotence, And neath thy shadow Paradise awaits.
در هوایم یا میان ترکشم
هر کجا باشم سراپا آتشم
میں ترکش میں رہوں یا ہوا میں چلوں ، جہاں کہیں بھی ہوں سراپا آگ رہتا ہوں ۔
Whether I wing in air, or lie encased Within the quiver, wheresoe’er I be I am all fire.
از کمان آیم چو سوی سینه من
نیک می بینم به توی سینه من
جب میں کمان سے نکل کر مقابل کے سینے کی طرف آتا ہوں تو سینے کی گہرائی میں خوب چھان بین کرتا ہوں ۔
When from the bow I speed Towards a human breast, right well I see Into its depth,
گر نباشد در میان قلب سلیم
فارغ از اندیشه های یأس و بیم
اگر مجھے وہاں قلب سلیم نظر نہ آئے اور ایسا قلب ملے جو خوف اور مایوسی کی آلائشوں میں لتھڑا ہوا ہو ۔
and if it do not hold A heart unflawed, unvisited by thoughts Of terror or despair
چاک چاک از نوک خود گردانمش
نیمه ئی از موج خون پوشانمش
تو میں اپنی نوک سے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے موج خون کا کرتا پہنا دیتا ہوں ۔
swiftly my point Plucks it asunder, and I spread it o’er With surging gore for shift.
ور صفای او ز قلب مؤمن است
ظاهرش روشن ز نور باطن است
اگر میں دیکھوں کہ اندر مومن کا دل ہے جس کی وجہ سے پورا سینہ آئینہ کی طرف صاف اور باطن کے نور سے اس کا ظاہر بھی روشن ہے ۔
But if that breast Serenely throb with a believer’s heart And glow reflective to an inward light,
از تف او آب گردد جان من
همچو شبنم می چکد پیکان من
تو اس کی حرارت سے میری جان پانی پانی ہو جاتی ہے اور میری نوک شبنم کی طرح قطرے بن کر ٹپک جاتی ہے ۔
My soul is turned to water by its flame, My shafts fall soft as the innocuous dew.”
فارسی متن کا ماخذ: گنجور