صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 6 - محاورهٔ تیر و شمشیر

بخش 6 - محاورهٔ تیر و شمشیر

تیر کی شمشیر سے گفتگو

Conversation of the arrow and the sword

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

سر حق تیر از لب سوفار گفت

تیغ را در گرمی پیکار گفت

تیر نے عین گھمسان کے رن میں سوفار کے لب سے کام لیتے ہوئے سچائی کا ایک راز تلوار سے بیان کیا ۔

How truthfully the well-notched arrow spoke Unto the sword in heat of battletide:

2

ای پریها جوهر اندر قاف تو

ذوالفقار حیدر از اسلاف تو

اے تلوار! تیرے اندر جو جوہر موجود ہیں وہ تیرے کوہ و قاف کی پریاں ہیں ۔ حضرت علی علیہ السلام کی ذوالفقار بھی تیرے ہی آبا اجداد میں سے تھی ۔

“What magic lustre glitters in thy steel Like fairy dancers in the Caucasus? Thou, who canst boast in thy long ancestry Of Ali’s trusty weapon, Dhul-Faqar;

3

قوت بازوی خالد دیده ئی

شام را بر سر شفق پاشیده ئی

تو نے اللہ کی تلوار یعنی خالد بن ولید کے بازو کی قوت دیکھی ہے ۔ کیونکہ انھوں نے تجھ سے کام لیا اور ملک شام کے سر پر شفق کا چھڑکاوَ کر دیا ۔

Who hast beheld the might of Khalid’s arm, Sprinkled red sunset on the head of night

4

آتش قهر خدا سرمایه ات

جنت الفردوس زیر سایه ات

ایک طرف تیرا سرمایہ خدا کے قہر و غضب کی آگ ہے دوسری طرف تیرے سائے کے نیچے بہشت بریں ہے ۔

Thine is the fire of God’s omnipotence, And neath thy shadow Paradise awaits.

5

در هوایم یا میان ترکشم

هر کجا باشم سراپا آتشم

میں ترکش میں رہوں یا ہوا میں چلوں ، جہاں کہیں بھی ہوں سراپا آگ رہتا ہوں ۔

Whether I wing in air, or lie encased Within the quiver, wheresoe’er I be I am all fire.

6

از کمان آیم چو سوی سینه من

نیک می بینم به توی سینه من

جب میں کمان سے نکل کر مقابل کے سینے کی طرف آتا ہوں تو سینے کی گہرائی میں خوب چھان بین کرتا ہوں ۔

When from the bow I speed Towards a human breast, right well I see Into its depth,

7

گر نباشد در میان قلب سلیم

فارغ از اندیشه های یأس و بیم

اگر مجھے وہاں قلب سلیم نظر نہ آئے اور ایسا قلب ملے جو خوف اور مایوسی کی آلائشوں میں لتھڑا ہوا ہو ۔

and if it do not hold A heart unflawed, unvisited by thoughts Of terror or despair

8

چاک چاک از نوک خود گردانمش

نیمه ئی از موج خون پوشانمش

تو میں اپنی نوک سے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے موج خون کا کرتا پہنا دیتا ہوں ۔

swiftly my point Plucks it asunder, and I spread it o’er With surging gore for shift.

9

ور صفای او ز قلب مؤمن است

ظاهرش روشن ز نور باطن است

اگر میں دیکھوں کہ اندر مومن کا دل ہے جس کی وجہ سے پورا سینہ آئینہ کی طرف صاف اور باطن کے نور سے اس کا ظاہر بھی روشن ہے ۔

But if that breast Serenely throb with a believer’s heart And glow reflective to an inward light,

10

از تف او آب گردد جان من

همچو شبنم می چکد پیکان من

تو اس کی حرارت سے میری جان پانی پانی ہو جاتی ہے اور میری نوک شبنم کی طرح قطرے بن کر ٹپک جاتی ہے ۔

My soul is turned to water by its flame, My shafts fall soft as the innocuous dew.”

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

مرگ را سامان ز قطع آرزوست

زندگانی محکم از لاتقنطوا ست

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 5 - در معنی اینکه یأس و حزن و خوف ام الخبائث است و قاطع حیات و توحید ازالهٔ این امراض خبیثه می کند

اگلی نظم

شاه عالمگیر گردون آستان

اعتبار دودمان گورگان

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 7 - حکایت شیر و شهنشاه عالمگیررحمة الله علیه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور