شیر اور شہنشاہ عالمگیر بارے حکایت
Emperor Alamgir and the tiger
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
شاه عالمگیر گردون آستان
اعتبار دودمان گورگان
شہنشاہ عالمگیر کا رتبہ اتنا بلند تھا کہ آسمان اس کے دروازے کی دہلیز تھا ۔ وہ شہنشاہ جو گورگانی خاندان کے لیے عزت و افتخار کا باعث تھا ۔
Shah Alamgir, that high and mighty king, Pride and renown of Gurgan Timur’s line,
پایه ی اسلامیان برتر ازو
احترام شرع پیغمبر ازو
مسلمانوں کا درجہ اس کی وجہ سے بہت بلند ہوا اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت کا احترام قائم و عام ہو گیا ۔
In whom Islam attained a loftier fame And wider honour graced the Prophet’s Law,
در میان کارزار کفر و دین
ترکش ما را خدنگ آخرین
کفر اور دین کی کشمکش میں شہنشاہ عالم گیر ہندوستان کے اندر اسلام کے ترکش کا آخری تیر تھا ۔
He the last arrow to our quiver left In the affray of Faith with Unbelief;
تخم الحادی که اکبر پرورید
باز اندر فطرت دارا دمید
جلال الدین اکبر نے اپنے دور سلطنت میں ایسی روش اختیار کر لی تھی کہ الحاد کا بیج یہاں نشوونما پانے لگا ۔ پھر یہ بیج شاہجہان کے بڑے بیٹے دارا شکوہ کی فطرت میں اگ آیا ۔
When that the impious seed of heresy, By Akbar nourished, sprang and sprouted fresh In Dara’s soul
شمع دل در سینه ها روشن نبود
ملت ما از فساد ایمن نبود
سینوں میں دلوں کی شمعیں روشن نہ تھیں ۔ اور ہماری ملت فتنہ و فساد سے محفوظ نہیں سمجھی جا سکتی تھی ۔
the candle of the heart Was dimmed in every breast, no more secure Against corruption our community Continued;
حق گزید از هند عالمگیر را
آن فقیر صاحب شمشیر را
ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہندوستان سے عالمگیر کو چن لیا اور عالمگیر جو درویش بھی تھا اور بے پناہ شمشیر کا مالک تھا ۔
then God chose from India That humble-minded warrior, Alamgir,
از پی احیای دین مأمور کرد
بهر تجدید یقین مأمور کرد
عالمگیر کو اس غرض سے چنا کہ ہندوستان میں دین از سر نو زندہ ہو جائے اور مسلمانوں کی رگوں میں پھر سے یقین و ایمان کا خون دوڑنے لگا ۔
Religion to revive, faith to renew.
برق تیغش خرمن الحاد سوخت
شمع دین در محفل ما بر فروخت
عالمگیری شمشیر کی بجلی نے الحاد کا خرمن جلا کر راکھ کر ڈالا اور ہماری مجلس میں د ین کی شمع روشن کر دی ۔
The lightning of his sword set all ablaze The harvest of impiety; faith’s torch Once more its radiance o’er our counsels shed.
کور ذوقان داستانها ساختند
وسعت ادراک او نشناختند
حقیقت حال کے ذوق سے عاری لوگوں نے عالمگیر کے متعلق عجیب و غریب من گھڑت داستانیں وضع کر لیں ۔ انہیں اس شہنشاہ کی دور اندیشی اور وسیع النظری کا اندازہ نہ ہو سکا ۔
Many the tales misguided spirits told, Blind to the breadth of his percipient mind;
شعله ی توحید را پروانه بود
چون براهیم اندرین بتخانه بود
عالمگیر توحید کی شمع کا پروانہ تھا اور ہندوستان کے بت خانے میں اس کی حیثیت ابراہیم کی تھی (اس نے کفر و الحاد کا خاتمہ کیا) ۔
He was a moth that ever beat its wings About the candle-flame of Unity, An Abraham in India’s idol-house.
در صف شاهنشان یکتاستی
فقر او از تربتش پیداستی
شاہنشاہوں میں اس کا درجہ بے مثل و یگانہ ہے اور اس کی دور اندیشی قبر ہی سے ظاہر ہے (اس کی قبر پر کوئی عظیم الشان مقبرہ تعمیر نہیں کیا گیا ۔ اس نے وصیت کر دی تھی کہ نہ مقبرہ بنایا جائے اور نہ قبر پختہ کی جائے) ۔
In all the line of kings he stands alone; His tomb is witness to his saintliness.
روزی آن زیبنده ی تاج و سریر
آن سپهدار و شهنشاه و فقیر
ایک روز شہنشاہ عالمگیر جو تاج و تخت دونوں کے لیے زیب و زینت تھا ، جو سالار لشکر بھی تھا ، شہنشاہ بھی اور درویش بھی تھا ۔
One day that ornament of crown and throne, That lord of battle, saint and emperor,
صبحگاهان شد به سیر بیشه ئی
با پرستاری وفا اندیشه ئی
وہ صبح کے وقت ایک جنگل کی سیر کے لیے نکل گیا ۔ صرف ایک وفادار غلام ساتھ تھا ۔
Set forth into the jungle with the dawn Attended by one faithful follower;
سر خوش از کیفیت باد سحر
طایران تسبیح خوان بر هر شجر
صبح کی تازہ اور پاکیزہ ہوا سے مست ہو کر پرندے درخت پر تسبیح پڑھ رہے تھے ۔
Exultant in the joyous breath of morn, Birds sang their hymns to God on every tree.
شاه رمز آگاه شد محو نماز
خیمه بر زد در حقیقت از مجاز
حقیقت شناس بادشاہ بھی مصلا بچھا کر نماز میں مصروف ہو گیا اس نے عالم مجاز سے نکل کر عالم حقیقت میں خیمہ نصب کر لیا
The conscient king became absorbed in prayer, Striking his tent from this contingent world To pitch it in the realm of truth sublime.
شیر ببر آمد پدید از طرف دشت
از خروش او فلک لرزنده گشت
عین اس وقت جنگل کی طرف سے ببر شیر نکلا ۔ اس کی دھاڑ کا یہ عالم تھا کہ محسوس ہوتا تھا کہ آسمان لرز اٹھا ہے ۔
A tiger at that instant from the plain Suddenly sprang; heaven trembled at his roar;
بوی انسان دادش از انسان خبر
پنجه عالمگیر را زد بر کمر
انسان کی بو پا کر شیرکو معلوم ہو گیا کہ انسان موجود ہے ۔ چنانچہ وہ آیا اور نماز میں مصروف عالمگیر کی کمر پر پنجہ مارا ۔
Scenting afar the presence of a man, He leaped on Alamgir, and smote his loins.
دست شه نادیده خنجر بر کشید
شرزه شیری را شکم از هم درید
بادشاہ نے آنکھ اٹھائے بغیر خنجر کھینچا اور غضب ناک شیر کا پیٹ چیر کر رکھ دیا ۔
The king, unviewing, drew his dagger forth And rent the belly of the furious beast;
دل بخود راهی نداد اندیشه را
شیر قالین کرد شیر بیشه را
اس کے دل میں ہرگز خوف پیدا نہ ہوا اور ایک لمحے میں جنگل کے شیر کو قالین کا شیر بنا دیا ۔
His heart admitting not a thought of fear, He stretched the tiger prostrate at his feet,
باز سوی حق رمید آن ناصبور
بود معراجش نماز با حضور
اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کا بے حد شوق رکھنے والا بادشاہ پھر اس بارگاہ میں جا کھڑا ہوا، یعنی از سرنو نماز شروع کر دی ۔ سچ یہ ہے کہ حضوری کی نماز اس کے لیے معراج تھی ۔
Then sped again impatiently to God Mounting prayer’s ladder to his heavenly throne.
این چنین دل خود نما و خود شکن
دارد اندر سینه ی مؤمن وطن
ایسا ہی خودنما اور خودشکن دل مومن کے سینے میں جگہ پاتا ہے (خودنما اس لیے کہ شیر نے حملہ کیا تو بیباکانہ ایک ہی وار سے اسے مار گرایا ۔ دلی قوت کی اس سے بڑی نمائش کیا ہو سکتی ہے ۔ خود شکن اس لیے کہ شیر کو مار کر گراتے ہی انتہائی عجز و نیاز سے اپنے مولا کی پیش گاہ میں جا کھڑا ہوا ۔ ) ۔
A heart so humble and at once so proud No other lodge but the believer’s breast Possesses;
بنده ی حق پیش مولا لاستی
پیش باطل از نعم بر جاستی
اقبال کہتے ہیں کہ حق پرست بندہ خدا کے سامنے اپنے آپ کو مٹا کر نفی کے آخری درجے پر پہنچ جاتا ہے ۔ لیکن جب باطل سے مقابلہ پیش آ جائے تو نعم کا نعرہ لگا کر اپنی جگہ قائم ہو جاتا ہے یعنی خدا کے سامنے بے حقیقت اور باطل کے سامنے اٹل ۔
for the servitor of Truth Is naught before his Master, but stand firm Against Untruth, and positive indeed.
تو هم ای نادان دلی آور بدست
شاهدی را محملی آور بدست
مخاطب سے فرماتے ہیں اے نادان (مسلمان) تو بھی ایسا ہی دل پیدا کر اور اسی طرح محبوب کے لیے محمل کا سامان پیدا کر جو محبوب کے لائق ہو ۔
Thou too, O ignorant man, take such a heart Into thy hold; let it a litter be Wherein immortal Beauty may be borne.
خویش را در باز و خود را بازگیر
دام گستر از نیاز و ناز گیر
اپنے آپ کو قربا ن کر دے تاکہ تو اپنے آپ کو پائے نیاز کا جال بچھا اور ناز کا شکار کر ۔
Stake self, to win self back; spread out the snare Of supplication, glory to entrap;
عشق را آتش زن اندیشه کن
روبه حق باش و شیری پیشه کن
یہ تیرے دل میں جو وسوسے ہیں انہیں عشق کی آگ میں جلا دے ۔ خدا کے سامنے لومڑی بنا رہ اور غیر حق کے سامنے شیری کے مسلک پر جم جا ۔
Let Love set fire to pale Anxiety; Be thou God’s fox, to learn the tiger’s trade
خوف حق عنوان ایمان است و بس
خوف غیر از شرک پنهان است و بس
اللہ کا خوف ایمان کی دلیل ہے اور بس، غیر اللہ کا خوف چھپا ہوا شرک ہے اور بس ۔
The fear of God faith’s only preface is, All other fear is secret disbelief.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور