صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 7 - حکایت شیر و شهنشاه عالمگیررحمة الله علیه

بخش 7 - حکایت شیر و شهنشاه عالمگیررحمة الله علیه

شیر اور شہنشاہ عالمگیر بارے حکایت

Emperor Alamgir and the tiger

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

شاه عالمگیر گردون آستان

اعتبار دودمان گورگان

شہنشاہ عالمگیر کا رتبہ اتنا بلند تھا کہ آسمان اس کے دروازے کی دہلیز تھا ۔ وہ شہنشاہ جو گورگانی خاندان کے لیے عزت و افتخار کا باعث تھا ۔

Shah Alamgir, that high and mighty king, Pride and renown of Gurgan Timur’s line,

22

پایه ی اسلامیان برتر ازو

احترام شرع پیغمبر ازو

مسلمانوں کا درجہ اس کی وجہ سے بہت بلند ہوا اور رسول اللہ ﷺ کی شریعت کا احترام قائم و عام ہو گیا ۔

In whom Islam attained a loftier fame And wider honour graced the Prophet’s Law,

33

در میان کارزار کفر و دین

ترکش ما را خدنگ آخرین

کفر اور دین کی کشمکش میں شہنشاہ عالم گیر ہندوستان کے اندر اسلام کے ترکش کا آخری تیر تھا ۔

He the last arrow to our quiver left In the affray of Faith with Unbelief;

44

تخم الحادی که اکبر پرورید

باز اندر فطرت دارا دمید

جلال الدین اکبر نے اپنے دور سلطنت میں ایسی روش اختیار کر لی تھی کہ الحاد کا بیج یہاں نشوونما پانے لگا ۔ پھر یہ بیج شاہجہان کے بڑے بیٹے دارا شکوہ کی فطرت میں اگ آیا ۔

When that the impious seed of heresy, By Akbar nourished, sprang and sprouted fresh In Dara’s soul

55

شمع دل در سینه ها روشن نبود

ملت ما از فساد ایمن نبود

سینوں میں دلوں کی شمعیں روشن نہ تھیں ۔ اور ہماری ملت فتنہ و فساد سے محفوظ نہیں سمجھی جا سکتی تھی ۔

the candle of the heart Was dimmed in every breast, no more secure Against corruption our community Continued;

66

حق گزید از هند عالمگیر را

آن فقیر صاحب شمشیر را

ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہندوستان سے عالمگیر کو چن لیا اور عالمگیر جو درویش بھی تھا اور بے پناہ شمشیر کا مالک تھا ۔

then God chose from India That humble-minded warrior, Alamgir,

77

از پی احیای دین مأمور کرد

بهر تجدید یقین مأمور کرد

عالمگیر کو اس غرض سے چنا کہ ہندوستان میں دین از سر نو زندہ ہو جائے اور مسلمانوں کی رگوں میں پھر سے یقین و ایمان کا خون دوڑنے لگا ۔

Religion to revive, faith to renew.

88

برق تیغش خرمن الحاد سوخت

شمع دین در محفل ما بر فروخت

عالمگیری شمشیر کی بجلی نے الحاد کا خرمن جلا کر راکھ کر ڈالا اور ہماری مجلس میں د ین کی شمع روشن کر دی ۔

The lightning of his sword set all ablaze The harvest of impiety; faith’s torch Once more its radiance o’er our counsels shed.

99

کور ذوقان داستانها ساختند

وسعت ادراک او نشناختند

حقیقت حال کے ذوق سے عاری لوگوں نے عالمگیر کے متعلق عجیب و غریب من گھڑت داستانیں وضع کر لیں ۔ انہیں اس شہنشاہ کی دور اندیشی اور وسیع النظری کا اندازہ نہ ہو سکا ۔

Many the tales misguided spirits told, Blind to the breadth of his percipient mind;

1010

شعله ی توحید را پروانه بود

چون براهیم اندرین بتخانه بود

عالمگیر توحید کی شمع کا پروانہ تھا اور ہندوستان کے بت خانے میں اس کی حیثیت ابراہیم کی تھی (اس نے کفر و الحاد کا خاتمہ کیا) ۔

He was a moth that ever beat its wings About the candle-flame of Unity, An Abraham in India’s idol-house.

1111

در صف شاهنشان یکتاستی

فقر او از تربتش پیداستی

شاہنشاہوں میں اس کا درجہ بے مثل و یگانہ ہے اور اس کی دور اندیشی قبر ہی سے ظاہر ہے (اس کی قبر پر کوئی عظیم الشان مقبرہ تعمیر نہیں کیا گیا ۔ اس نے وصیت کر دی تھی کہ نہ مقبرہ بنایا جائے اور نہ قبر پختہ کی جائے) ۔

In all the line of kings he stands alone; His tomb is witness to his saintliness.

1212

روزی آن زیبنده ی تاج و سریر

آن سپهدار و شهنشاه و فقیر

ایک روز شہنشاہ عالمگیر جو تاج و تخت دونوں کے لیے زیب و زینت تھا ، جو سالار لشکر بھی تھا ، شہنشاہ بھی اور درویش بھی تھا ۔

One day that ornament of crown and throne, That lord of battle, saint and emperor,

1313

صبحگاهان شد به سیر بیشه ئی

با پرستاری وفا اندیشه ئی

وہ صبح کے وقت ایک جنگل کی سیر کے لیے نکل گیا ۔ صرف ایک وفادار غلام ساتھ تھا ۔

Set forth into the jungle with the dawn Attended by one faithful follower;

1414

سر خوش از کیفیت باد سحر

طایران تسبیح خوان بر هر شجر

صبح کی تازہ اور پاکیزہ ہوا سے مست ہو کر پرندے درخت پر تسبیح پڑھ رہے تھے ۔

Exultant in the joyous breath of morn, Birds sang their hymns to God on every tree.

1515

شاه رمز آگاه شد محو نماز

خیمه بر زد در حقیقت از مجاز

حقیقت شناس بادشاہ بھی مصلا بچھا کر نماز میں مصروف ہو گیا اس نے عالم مجاز سے نکل کر عالم حقیقت میں خیمہ نصب کر لیا

The conscient king became absorbed in prayer, Striking his tent from this contingent world To pitch it in the realm of truth sublime.

1616

شیر ببر آمد پدید از طرف دشت

از خروش او فلک لرزنده گشت

عین اس وقت جنگل کی طرف سے ببر شیر نکلا ۔ اس کی دھاڑ کا یہ عالم تھا کہ محسوس ہوتا تھا کہ آسمان لرز اٹھا ہے ۔

A tiger at that instant from the plain Suddenly sprang; heaven trembled at his roar;

1717

بوی انسان دادش از انسان خبر

پنجه عالمگیر را زد بر کمر

انسان کی بو پا کر شیرکو معلوم ہو گیا کہ انسان موجود ہے ۔ چنانچہ وہ آیا اور نماز میں مصروف عالمگیر کی کمر پر پنجہ مارا ۔

Scenting afar the presence of a man, He leaped on Alamgir, and smote his loins.

1818

دست شه نادیده خنجر بر کشید

شرزه شیری را شکم از هم درید

بادشاہ نے آنکھ اٹھائے بغیر خنجر کھینچا اور غضب ناک شیر کا پیٹ چیر کر رکھ دیا ۔

The king, unviewing, drew his dagger forth And rent the belly of the furious beast;

1919

دل بخود راهی نداد اندیشه را

شیر قالین کرد شیر بیشه را

اس کے دل میں ہرگز خوف پیدا نہ ہوا اور ایک لمحے میں جنگل کے شیر کو قالین کا شیر بنا دیا ۔

His heart admitting not a thought of fear, He stretched the tiger prostrate at his feet,

2020

باز سوی حق رمید آن ناصبور

بود معراجش نماز با حضور

اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کا بے حد شوق رکھنے والا بادشاہ پھر اس بارگاہ میں جا کھڑا ہوا، یعنی از سرنو نماز شروع کر دی ۔ سچ یہ ہے کہ حضوری کی نماز اس کے لیے معراج تھی ۔

Then sped again impatiently to God Mounting prayer’s ladder to his heavenly throne.

2121

این چنین دل خود نما و خود شکن

دارد اندر سینه ی مؤمن وطن

ایسا ہی خودنما اور خودشکن دل مومن کے سینے میں جگہ پاتا ہے (خودنما اس لیے کہ شیر نے حملہ کیا تو بیباکانہ ایک ہی وار سے اسے مار گرایا ۔ دلی قوت کی اس سے بڑی نمائش کیا ہو سکتی ہے ۔ خود شکن اس لیے کہ شیر کو مار کر گراتے ہی انتہائی عجز و نیاز سے اپنے مولا کی پیش گاہ میں جا کھڑا ہوا ۔ ) ۔

A heart so humble and at once so proud No other lodge but the believer’s breast Possesses;

2222

بنده ی حق پیش مولا لاستی

پیش باطل از نعم بر جاستی

اقبال کہتے ہیں کہ حق پرست بندہ خدا کے سامنے اپنے آپ کو مٹا کر نفی کے آخری درجے پر پہنچ جاتا ہے ۔ لیکن جب باطل سے مقابلہ پیش آ جائے تو نعم کا نعرہ لگا کر اپنی جگہ قائم ہو جاتا ہے یعنی خدا کے سامنے بے حقیقت اور باطل کے سامنے اٹل ۔

for the servitor of Truth Is naught before his Master, but stand firm Against Untruth, and positive indeed.

2323

تو هم ای نادان دلی آور بدست

شاهدی را محملی آور بدست

مخاطب سے فرماتے ہیں اے نادان (مسلمان) تو بھی ایسا ہی دل پیدا کر اور اسی طرح محبوب کے لیے محمل کا سامان پیدا کر جو محبوب کے لائق ہو ۔

Thou too, O ignorant man, take such a heart Into thy hold; let it a litter be Wherein immortal Beauty may be borne.

2424

خویش را در باز و خود را بازگیر

دام گستر از نیاز و ناز گیر

اپنے آپ کو قربا ن کر دے تاکہ تو اپنے آپ کو پائے نیاز کا جال بچھا اور ناز کا شکار کر ۔

Stake self, to win self back; spread out the snare Of supplication, glory to entrap;

2525

عشق را آتش زن اندیشه کن

روبه حق باش و شیری پیشه کن

یہ تیرے دل میں جو وسوسے ہیں انہیں عشق کی آگ میں جلا دے ۔ خدا کے سامنے لومڑی بنا رہ اور غیر حق کے سامنے شیری کے مسلک پر جم جا ۔

Let Love set fire to pale Anxiety; Be thou God’s fox, to learn the tiger’s trade

2626

خوف حق عنوان ایمان است و بس

خوف غیر از شرک پنهان است و بس

اللہ کا خوف ایمان کی دلیل ہے اور بس، غیر اللہ کا خوف چھپا ہوا شرک ہے اور بس ۔

The fear of God faith’s only preface is, All other fear is secret disbelief.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

سر حق تیر از لب سوفار گفت

تیغ را در گرمی پیکار گفت

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 6 - محاورهٔ تیر و شمشیر

اگلی نظم

تارک آفل براهیم خلیل

انبیا را نقش پای او دلیل

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 8 - رکن دوم: رسالت

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور