صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 8 - رکن دوم: رسالت

بخش 8 - رکن دوم: رسالت

رکن دوم: رسالت

Second pillar: Apostleship

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

تارک آفل براهیم خلیل

انبیا را نقش پای او دلیل

زوال پذیر معبودوں کو ٹھکرا دینے والے حضرت ابراہیم خلیل جن کا نقش پا نبیوں کے لیے رہنما بن گیا ۔

Abraham, friend of God, loved not the things That set; and lo, his footprint was a guide To all successive prophets.

22

آن خدای لم یزل را آیتی

داشت در دل آرزوی ملتی

حضرت ابراہیم جو خدائے لم یزل کا ایک نشان تھے، اپنے دل میں ایک فرمانبردار ملت کی آرزو رکھتے تھے (جو کفر و الحاد اور شرک سے پاک ہو ) قرآن مجید کے بیان کے مطابق حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے ایک امت کے لیے دعا کی تھی ۔

He, the sign And witness to the everlasting Lord, Yearned in his heart for a Community,

33

جوی اشک از چشم بیخوابش چکید

تا پیام «طهرابیتی» شنید

حضرت ابراہیم کی بے خواب آنکھوں سے آنسووَں کی ندی بہتی رہی تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے انہیں اور ان کے فرزند اسماعیل کو حکم ہوا کہ ایک گھر خدا کے لیے بنائیں اور اسے پاک رکھیں کا پیغام سنا ۔

And from his sleepless eyes the flood of tears Unceasing flowed until the message came, Cleanse thou My House

44

بهر ما ویرانه ئی آباد کرد

طائفان را خانه ئی بنیاد کرد

انھوں نے ہمارے لیے ایک ایسے مقام پر خانہ خدا تعمیر کیا جہاں دور دور تک ویرانہ تھا ۔ یہ گھر اس لیے بنایا کہ طواف کرنے والے، عبادت کی غرض سے ٹھہرنے والے اور رکوع و سجود کرنے والے اس میں مصروف عبادت رہیں ۔

Then for our sake he made A desert populous, and founded there A temple whither pilgrims might process.

55

تا نهال «تب علینا» غنچه بست

صورت کار بهار ما نشست

جب تب علینا کے درخت میں غنچہ پیدا ہوا تو ہماری بہار کے لیے کارفرمائی کی صورت نکل آئی ۔

And when the stem of turn thou unto us Burst into bud, the tillage of our Spring Took visible shape

66

حق تعالی پیکر ما آفرید

وز رسالت در تن ما جان دمید

اللہ تعالیٰ نے ہماری ملت کا جسم پیدا کیا اور اس جسم میں رسالت کے ذریعے سے جان پھونکی ۔

God fashioned forth our form And through Apostleship breathed in our flesh The soul of life.

77

حرف بی صوت اندرین عالم بدیم

از رسالت مصرع موزون شدیم

ہم اس دنیا میں ایسے الفاظ تھے جن کی آواز کوئی نہ تھی ۔ رسالت کی برکت سے ہم نے ایک موزوں مصرع کی شکل اختیار کر لی ۔

We were a word unvoiced Within this world, that by Apostleship Became a measured verse;

88

از رسالت در جهان تکوین ما

از رسالت دین ما آئین ما

ہمارا وجود اس دنیا میں رسالت سے ہے ۔ رسالت ہی سے ہمیں دین ملا ، رسالت ہی سے شریعت ملی ۔

and that same grace Both shaped our being, gave us Faith and Law,

99

از رسالت صد هزار ما یک است

جزو ما از جزو «مالاینفک» است

رسالت ہی کی برکت ہے کہ ہم لاکھوں ہونے کے باوجود ایک ہیں ۔ ہمارا ایک جزو دوسرے جزو سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ اسے کبھی الگ نہیں کیا جا سکتا ۔

Converted our vast myriads into one, And joined our fractions in a mighty whole Inseparable, indivisible.

1010

آن که شان اوست «یهدی من یرید»

از رسالت حلقه گرد ما کشید

وہ پاک ذات جس کی شان یہ ہے کہ جسے چاہتی ہے کامیابی کی راہ پر لگا دیتی ہے ۔ اس نے ہمارے اردگرد رسالت کا حلقہ کھینچ دیا ہے ۔ یعنی ہم سب کو رسالت کے ذریعے سے باہم جوڑ دیا ہے ۔

He, who is pleased to guide whomso he will, Made of Apostleship a magic ring To draw around us;

1111

حلقه ی ملت محیط افزاستی

مرکز او وادی بطحا ستی

وہ ایسا حلقہ ہے جس کا محیط ہر لحظہ بڑھتا جا رہا ہے اور اس کا مرکز وادی بطحا ہے ۔

the community A circle is, whose great circumference Centers on Makkah’s valley

1212

ما ز حکم نسبت او ملتیم

اهل عالم را پیام رحمتیم

ہم رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ نسبت کی بنا پر ملت و قوم بن گئے اور دنیا والوں کے لیے رحمت کا پیغام دیا ۔

and by force And virtue of that same relationship Stands our community unshakable, Tidings of mercy to the world entire.

1313

از میان بحر او خیزیم ما

مثل موج از هم نمیریزیم ما

ہم رسول اللہ ﷺ کے سمندر سے موج کی طرح اٹھتے ہیں لیکن خدا کی ہم پر خاص رحمت ہے کہ موج کی طرح بکھر کر نابود نہیں ہوتے ۔

Out of that sea we surge, nor break apart Like scattering waves;

1414

امتش در حرز دیوار حرم

نعره زن مانند شیران در اجم

رسول اللہ ﷺ کی امت حرم پاک کی پناہگاہ میں اس طرح نعرے لگا رہی ہے جس طرح شیر جنگل میں دہاڑتے ہیں

its people, closely fenced Within the ramparts of that holy soil, Roar loud as jungle lions.

1515

معنی حرفم کنی تحقیق اگر

بنگری با دیده ی صدیق اگر

اگر تو میری بات پر اچھی طرح غور کرے اور اس کے اندازے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق کی نگاہ پیدا کر لے تو تجھ پر واضح ہو جائے گا کہ،

If thou look To prove the truth that lies within my words, Gazing with Abu Bakr’s veracious eyes,

1616

قوت قلب و جگر گردد نبی

از خدا محبوب تر گردد نبی

ان تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی ذات برکات انسان کے لیے قلب و جگر کی قوت بن جاتی ہے اور حضور اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ محبوب نظر آتے ہیں ۔

The Prophet, power and strength of soul and heart, Becometh more beloved than God Himself.

1717

قلب مؤمن را کتابش قوت است

حکمتش حبل الورید ملت است

رسول اللہ ﷺ جو کتاب یعنی قرآن مجید لائے وہ مومن کے دل کے لیے قوت و استحکام کا سامان ہے اور جو حکیمانہ ارشادات حضور ﷺ کی زبان مبارک پر جاری ہوئے انہیں ملت کی زندگی میں شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے ۔

His book is reinforcement to the hearts Of all believers; through his wisdom flows The lifeblood of the whole community;

1818

دامنش از دست دادن ، مردن است

چون گل از باد خزان افسردن است

رسول اللہ ﷺ کا دامن ہاتھ سے دینے کا مطلب یہ ہے کہ موت قبول کر لی جائے اور وہ حالت پیدا ہو جائے جو موسم خزاں میں پھول کی ہوتی ہے یعنی افسردہ ہو کر ختم ہو جاتا ہے ۔

To yield his garment’s hem is death – the rose So withers at the blast of Autumn’s wind.

1919

زندگی قوم از دم او یافت است

این سحر از آفتابش تافت است

قوم نے صرف رسول اللہ ﷺ کے دم سے زندگی پائی ۔ یہ صبح اسی آفتاب کی روشنی سے منور ہوئی ۔

His was the breath that gave the people life; His sun shone glory on their risen dawn.

2020

فرد از حق ، ملت از وی زنده است

از شعاع مهر او تابنده است

افراد اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ رہتے ہیں ، قوم کی زندگی رسول اللہ پر موقوف ہے ۔ یعنی قوم اس سورج کی کرن سے آب و تاب حاصل کرتی ہے ۔

In God the individual, in him Lives the community, in his sun’s rays Resplendent ever;

2121

از رسالت هم نوا گشتیم ما

هم نفس هم مدعا گشتیم ما

رسالت نے ہمیں ہم نوا اور ہم آہنگ کیا ۔ رسالت ہی کی برکت سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ، رفیق اور ہمدرد بنے ۔ اس کی برکت سے ہم سب کا نصب العین ایک ہو گیا ۔

his Apostleship Brought concord to our purpose and our goal.

2222

کثرت هم مدعا وحدت شود

پخته چون وحدت شود ملت شود

جب ایک مدعا، ایک مقصد اور ایک نصب العین والے اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ان میں ایک وحدت آ جاتی ہے، یہی وحدت پختہ اور پائیدار ہو جاتی ہے تو ملت کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔

Is unity which when it is mature, Forms the community; the many live

2323

زنده هر کثرت ز بند وحدت است

وحدت مسلم ز دین فطرت است

ہر کثرت صرف وحدت کے بندھن کی بنا پر زندہ ہے اور مسلمان کی وحدت دین فطرت یعنی اسلام پر مبنی ہے ۔

Only by virtue of the single bond. The Muslim’s unity from natural faith Derives

2424

دین فطرت از نبی آموختیم

در ره حق مشعلی افروختیم

ہم نے رسول اللہ ﷺ سے دین فطرت سیکھا اور اللہ کے راستے میں مشعل روشن کر کے کھڑے ہو گئے ۔

and this the Prophet taught to us, So that we lit a lantern on Truth’s way.

2525

این گهر از بحر بی پایان اوست

ما که یک جانیم از احسان اوست

یہ وحدت کا راز ایک موتی ہے جو رسول اللہ کے بے پایاں سمندر سے نکلا، ہم یک جان ہیں تو یہ حضور ہی کا احسان ہے ۔

This pearl was fished from his unfathomed sea, And of his bounty we are one in soul.

2626

تا نه این وحدت ز دست ما رود

هستی ما با ابد همدم شود

اگر وحدت کا یہ رشتہ ہمارے ہاتھ سے نہیں چھوٹے گا تو ہماری ہستی بحیثیت ملت و قوم رہتی دنیا تک باقی رہے گی ۔

Let not this unity go from our hands, And we endure to all eternity.

2727

پس خدا بر ما شریعت ختم کرد

بر رسول ما رسالت ختم کرد

خدا نے ہم پر شریعت ختم کر دی اور ہمارے رسول پر رسالت ختم ہو گئی ۔

God set the seal of holy Law on us, As in our Prophet all Apostleship Is sealed.

2828

رونق از ما محفل ایام را

او رسل را ختم و ما اقوام را

اب زمانے کی مجلس میں رونق ہمارے ہی دم سے رہے گی ۔ ہمارے رسول رسولوں کے خاتم تھے، ہم قوموں کے خاتم ہیں ۔

The concourse of unending days Is radiant in our lustre; he was Seal To all Apotles, to all People we.

2929

خدمت ساقی گری با ما گذاشت

داد ما را آخرین جامی که داشت

اب اللہ تعالیٰ نے ساقی گری کی خدمت ہم پر چھوڑ دی ہے؛ اپنا آخری جام (ہدایت) ہمیں عطا فرمایا دیا۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

The service of Truth’s winebearer is left With us; he gave to us his final glass.

3030

«لا نبی بعدی» ز احسان خداست

پرده ی ناموس دین مصطفی است

رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں یہ خدا کا احسان ہے اور یہ دین مصطفی کے ناموس کا پردہ ہے ۔

No Prophet after me is of God’s grace, And veil the modest beauty of the Faith Muhammad brought to men.

3131

قوم را سرمایه ی قوت ازو

حفظ سر وحدت ملت ازو

قوم کو قوت ملتی ہے تو رسول اللہ ہی سے ملتی ہے اور ملت کی وحدت کا راز بھی اسی پاک ذات کی بدولت محفوظ ہے ۔

The people’s strength All rest in this, that still the secret guards Of how the Faith’s Community is one.

3232

حق تعالی نقش هر دعوی شکست

تا ابد اسلام را شیرازه بست

اللہ تعالیٰ نے ہر دعوے کا نقش مٹا دیا اور اسلام کا شیرازہ ابد تک کے لیے باندھ دیا ۔

Almighty God has shattered every shape Carved by imposture, and for evermore Stitched up the sacred volume of Islam.

3333

دل ز غیر الله مسلمان بر کند

نعره ی لا قوم بعدی می زند

مسلمان جب غیر اللہ سے دل کا تعلق توڑ لیتا ہے تو لا قوم بعدی کا نعرہ لگاتا ہے یعنی میرے بعد کوئی قوم نہیں ہے ۔

The Muslim keeps his heart from all but God And shouts abroad, No people after me.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شاه عالمگیر گردون آستان

اعتبار دودمان گورگان

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 7 - حکایت شیر و شهنشاه عالمگیررحمة الله علیه

اگلی نظم

بود انسان در جهان انسان پرست

ناکس و نابود مند و زیر دست

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 9 - در معنی اینکه مقصود رسالت محمدیه تشکیل و تأسیس حریت و مساوات و اخوت بنی نوع آدم است

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور