رکن دوم: رسالت
Second pillar: Apostleship
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
تارک آفل براهیم خلیل
انبیا را نقش پای او دلیل
زوال پذیر معبودوں کو ٹھکرا دینے والے حضرت ابراہیم خلیل جن کا نقش پا نبیوں کے لیے رہنما بن گیا ۔
Abraham, friend of God, loved not the things That set; and lo, his footprint was a guide To all successive prophets.
آن خدای لم یزل را آیتی
داشت در دل آرزوی ملتی
حضرت ابراہیم جو خدائے لم یزل کا ایک نشان تھے، اپنے دل میں ایک فرمانبردار ملت کی آرزو رکھتے تھے (جو کفر و الحاد اور شرک سے پاک ہو ) قرآن مجید کے بیان کے مطابق حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے ایک امت کے لیے دعا کی تھی ۔
He, the sign And witness to the everlasting Lord, Yearned in his heart for a Community,
جوی اشک از چشم بیخوابش چکید
تا پیام «طهرابیتی» شنید
حضرت ابراہیم کی بے خواب آنکھوں سے آنسووَں کی ندی بہتی رہی تاکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے انہیں اور ان کے فرزند اسماعیل کو حکم ہوا کہ ایک گھر خدا کے لیے بنائیں اور اسے پاک رکھیں کا پیغام سنا ۔
And from his sleepless eyes the flood of tears Unceasing flowed until the message came, Cleanse thou My House
بهر ما ویرانه ئی آباد کرد
طائفان را خانه ئی بنیاد کرد
انھوں نے ہمارے لیے ایک ایسے مقام پر خانہ خدا تعمیر کیا جہاں دور دور تک ویرانہ تھا ۔ یہ گھر اس لیے بنایا کہ طواف کرنے والے، عبادت کی غرض سے ٹھہرنے والے اور رکوع و سجود کرنے والے اس میں مصروف عبادت رہیں ۔
Then for our sake he made A desert populous, and founded there A temple whither pilgrims might process.
تا نهال «تب علینا» غنچه بست
صورت کار بهار ما نشست
جب تب علینا کے درخت میں غنچہ پیدا ہوا تو ہماری بہار کے لیے کارفرمائی کی صورت نکل آئی ۔
And when the stem of turn thou unto us Burst into bud, the tillage of our Spring Took visible shape
حق تعالی پیکر ما آفرید
وز رسالت در تن ما جان دمید
اللہ تعالیٰ نے ہماری ملت کا جسم پیدا کیا اور اس جسم میں رسالت کے ذریعے سے جان پھونکی ۔
God fashioned forth our form And through Apostleship breathed in our flesh The soul of life.
حرف بی صوت اندرین عالم بدیم
از رسالت مصرع موزون شدیم
ہم اس دنیا میں ایسے الفاظ تھے جن کی آواز کوئی نہ تھی ۔ رسالت کی برکت سے ہم نے ایک موزوں مصرع کی شکل اختیار کر لی ۔
We were a word unvoiced Within this world, that by Apostleship Became a measured verse;
از رسالت در جهان تکوین ما
از رسالت دین ما آئین ما
ہمارا وجود اس دنیا میں رسالت سے ہے ۔ رسالت ہی سے ہمیں دین ملا ، رسالت ہی سے شریعت ملی ۔
and that same grace Both shaped our being, gave us Faith and Law,
از رسالت صد هزار ما یک است
جزو ما از جزو «مالاینفک» است
رسالت ہی کی برکت ہے کہ ہم لاکھوں ہونے کے باوجود ایک ہیں ۔ ہمارا ایک جزو دوسرے جزو سے اس طرح جڑا ہوا ہے کہ اسے کبھی الگ نہیں کیا جا سکتا ۔
Converted our vast myriads into one, And joined our fractions in a mighty whole Inseparable, indivisible.
آن که شان اوست «یهدی من یرید»
از رسالت حلقه گرد ما کشید
وہ پاک ذات جس کی شان یہ ہے کہ جسے چاہتی ہے کامیابی کی راہ پر لگا دیتی ہے ۔ اس نے ہمارے اردگرد رسالت کا حلقہ کھینچ دیا ہے ۔ یعنی ہم سب کو رسالت کے ذریعے سے باہم جوڑ دیا ہے ۔
He, who is pleased to guide whomso he will, Made of Apostleship a magic ring To draw around us;
حلقه ی ملت محیط افزاستی
مرکز او وادی بطحا ستی
وہ ایسا حلقہ ہے جس کا محیط ہر لحظہ بڑھتا جا رہا ہے اور اس کا مرکز وادی بطحا ہے ۔
the community A circle is, whose great circumference Centers on Makkah’s valley
ما ز حکم نسبت او ملتیم
اهل عالم را پیام رحمتیم
ہم رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے ساتھ نسبت کی بنا پر ملت و قوم بن گئے اور دنیا والوں کے لیے رحمت کا پیغام دیا ۔
and by force And virtue of that same relationship Stands our community unshakable, Tidings of mercy to the world entire.
از میان بحر او خیزیم ما
مثل موج از هم نمیریزیم ما
ہم رسول اللہ ﷺ کے سمندر سے موج کی طرح اٹھتے ہیں لیکن خدا کی ہم پر خاص رحمت ہے کہ موج کی طرح بکھر کر نابود نہیں ہوتے ۔
Out of that sea we surge, nor break apart Like scattering waves;
امتش در حرز دیوار حرم
نعره زن مانند شیران در اجم
رسول اللہ ﷺ کی امت حرم پاک کی پناہگاہ میں اس طرح نعرے لگا رہی ہے جس طرح شیر جنگل میں دہاڑتے ہیں
its people, closely fenced Within the ramparts of that holy soil, Roar loud as jungle lions.
معنی حرفم کنی تحقیق اگر
بنگری با دیده ی صدیق اگر
اگر تو میری بات پر اچھی طرح غور کرے اور اس کے اندازے کے لیے حضرت ابوبکر صدیق کی نگاہ پیدا کر لے تو تجھ پر واضح ہو جائے گا کہ،
If thou look To prove the truth that lies within my words, Gazing with Abu Bakr’s veracious eyes,
قوت قلب و جگر گردد نبی
از خدا محبوب تر گردد نبی
ان تمام حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی ذات برکات انسان کے لیے قلب و جگر کی قوت بن جاتی ہے اور حضور اللہ تعالیٰ سے بھی زیادہ محبوب نظر آتے ہیں ۔
The Prophet, power and strength of soul and heart, Becometh more beloved than God Himself.
قلب مؤمن را کتابش قوت است
حکمتش حبل الورید ملت است
رسول اللہ ﷺ جو کتاب یعنی قرآن مجید لائے وہ مومن کے دل کے لیے قوت و استحکام کا سامان ہے اور جو حکیمانہ ارشادات حضور ﷺ کی زبان مبارک پر جاری ہوئے انہیں ملت کی زندگی میں شہ رگ کی حیثیت حاصل ہے ۔
His book is reinforcement to the hearts Of all believers; through his wisdom flows The lifeblood of the whole community;
دامنش از دست دادن ، مردن است
چون گل از باد خزان افسردن است
رسول اللہ ﷺ کا دامن ہاتھ سے دینے کا مطلب یہ ہے کہ موت قبول کر لی جائے اور وہ حالت پیدا ہو جائے جو موسم خزاں میں پھول کی ہوتی ہے یعنی افسردہ ہو کر ختم ہو جاتا ہے ۔
To yield his garment’s hem is death – the rose So withers at the blast of Autumn’s wind.
زندگی قوم از دم او یافت است
این سحر از آفتابش تافت است
قوم نے صرف رسول اللہ ﷺ کے دم سے زندگی پائی ۔ یہ صبح اسی آفتاب کی روشنی سے منور ہوئی ۔
His was the breath that gave the people life; His sun shone glory on their risen dawn.
فرد از حق ، ملت از وی زنده است
از شعاع مهر او تابنده است
افراد اللہ تعالیٰ کے حکم سے زندہ رہتے ہیں ، قوم کی زندگی رسول اللہ پر موقوف ہے ۔ یعنی قوم اس سورج کی کرن سے آب و تاب حاصل کرتی ہے ۔
In God the individual, in him Lives the community, in his sun’s rays Resplendent ever;
از رسالت هم نوا گشتیم ما
هم نفس هم مدعا گشتیم ما
رسالت نے ہمیں ہم نوا اور ہم آہنگ کیا ۔ رسالت ہی کی برکت سے ہم ایک دوسرے کے ساتھ، رفیق اور ہمدرد بنے ۔ اس کی برکت سے ہم سب کا نصب العین ایک ہو گیا ۔
his Apostleship Brought concord to our purpose and our goal.
کثرت هم مدعا وحدت شود
پخته چون وحدت شود ملت شود
جب ایک مدعا، ایک مقصد اور ایک نصب العین والے اکٹھے ہو جاتے ہیں تو ان میں ایک وحدت آ جاتی ہے، یہی وحدت پختہ اور پائیدار ہو جاتی ہے تو ملت کی شکل اختیار کر لیتی ہے ۔
Is unity which when it is mature, Forms the community; the many live
زنده هر کثرت ز بند وحدت است
وحدت مسلم ز دین فطرت است
ہر کثرت صرف وحدت کے بندھن کی بنا پر زندہ ہے اور مسلمان کی وحدت دین فطرت یعنی اسلام پر مبنی ہے ۔
Only by virtue of the single bond. The Muslim’s unity from natural faith Derives
دین فطرت از نبی آموختیم
در ره حق مشعلی افروختیم
ہم نے رسول اللہ ﷺ سے دین فطرت سیکھا اور اللہ کے راستے میں مشعل روشن کر کے کھڑے ہو گئے ۔
and this the Prophet taught to us, So that we lit a lantern on Truth’s way.
این گهر از بحر بی پایان اوست
ما که یک جانیم از احسان اوست
یہ وحدت کا راز ایک موتی ہے جو رسول اللہ کے بے پایاں سمندر سے نکلا، ہم یک جان ہیں تو یہ حضور ہی کا احسان ہے ۔
This pearl was fished from his unfathomed sea, And of his bounty we are one in soul.
تا نه این وحدت ز دست ما رود
هستی ما با ابد همدم شود
اگر وحدت کا یہ رشتہ ہمارے ہاتھ سے نہیں چھوٹے گا تو ہماری ہستی بحیثیت ملت و قوم رہتی دنیا تک باقی رہے گی ۔
Let not this unity go from our hands, And we endure to all eternity.
پس خدا بر ما شریعت ختم کرد
بر رسول ما رسالت ختم کرد
خدا نے ہم پر شریعت ختم کر دی اور ہمارے رسول پر رسالت ختم ہو گئی ۔
God set the seal of holy Law on us, As in our Prophet all Apostleship Is sealed.
رونق از ما محفل ایام را
او رسل را ختم و ما اقوام را
اب زمانے کی مجلس میں رونق ہمارے ہی دم سے رہے گی ۔ ہمارے رسول رسولوں کے خاتم تھے، ہم قوموں کے خاتم ہیں ۔
The concourse of unending days Is radiant in our lustre; he was Seal To all Apotles, to all People we.
خدمت ساقی گری با ما گذاشت
داد ما را آخرین جامی که داشت
اب اللہ تعالیٰ نے ساقی گری کی خدمت ہم پر چھوڑ دی ہے؛ اپنا آخری جام (ہدایت) ہمیں عطا فرمایا دیا۔
ترجمہ: میاں عبدالرشید
The service of Truth’s winebearer is left With us; he gave to us his final glass.
«لا نبی بعدی» ز احسان خداست
پرده ی ناموس دین مصطفی است
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں یہ خدا کا احسان ہے اور یہ دین مصطفی کے ناموس کا پردہ ہے ۔
No Prophet after me is of God’s grace, And veil the modest beauty of the Faith Muhammad brought to men.
قوم را سرمایه ی قوت ازو
حفظ سر وحدت ملت ازو
قوم کو قوت ملتی ہے تو رسول اللہ ہی سے ملتی ہے اور ملت کی وحدت کا راز بھی اسی پاک ذات کی بدولت محفوظ ہے ۔
The people’s strength All rest in this, that still the secret guards Of how the Faith’s Community is one.
حق تعالی نقش هر دعوی شکست
تا ابد اسلام را شیرازه بست
اللہ تعالیٰ نے ہر دعوے کا نقش مٹا دیا اور اسلام کا شیرازہ ابد تک کے لیے باندھ دیا ۔
Almighty God has shattered every shape Carved by imposture, and for evermore Stitched up the sacred volume of Islam.
دل ز غیر الله مسلمان بر کند
نعره ی لا قوم بعدی می زند
مسلمان جب غیر اللہ سے دل کا تعلق توڑ لیتا ہے تو لا قوم بعدی کا نعرہ لگاتا ہے یعنی میرے بعد کوئی قوم نہیں ہے ۔
The Muslim keeps his heart from all but God And shouts abroad, No people after me.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور