صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 9 - در معنی اینکه مقصود رسالت محمدیه تشکیل و تأسیس حریت و مساوات و اخوت بنی نوع آدم است

بخش 9 - در معنی اینکه مقصود رسالت محمدیه تشکیل و تأسیس حریت و مساوات و اخوت بنی نوع آدم است

بیان مقصود رسالتِ محمدیہ جو تشکیل و تاسیس حریت اور مساوات و اخوتِ بنی آدم کی بنیاد ہے

That the purpose of Muhammad’s mission was to found Freedom, Equality and Brotherhood among all mankind

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

بود انسان در جهان انسان پرست

ناکس و نابود مند و زیر دست

انسان دنیا میں انسانوں کو پوجتے تھے ۔ ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں تھی ۔ وہ عاجز و درماندہ تھے ۔

Throughout the world man worshipped tyrant man, Despised, neglected, insignificant;

2

سطوت کسری و قیصر رهزنش

بند ها در دست و پا و گردنش

کسریٰ اور قیصر جیسے شہنشاہوں کا دبدبہ انہیں لوٹ رہا تھا ۔ ان کے ہاتھوں ، پاؤں اور گردنوں میں بندھن پڑے ہوئے تھے ۔

Caesar and Chosroes, highwaymen enthroned, Fettered and chained their subjects, hand and foot.

3

کاهن و پاپا و سلطان و امیر

بهر یک نخچیر صد نخچیر گیر

دینی بزرگ، پوپ ، بادشاہ اور امیر (گویا سینکڑوں شکاری) ایک شکار کے پیچھے لگے ہوئے تھے ۔ یعنی سب غریب انسانوں کو لوٹ رہے تھے ۔

High Priest and Pope, Sultan and Prince—for one Poor prey a hundred huntsmen took the field;

4

صاحب اورنگ و هم پیر کنشت

باج بر کشت خراب او نوشت

تخت کے مالکوں اور بت خانہ و آتش کدہ کے پیشواؤں نے غریب انسانوں کی ویران یا اجڑی ہوئی کھیتی سے وصول خراج کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا ۔

The sceptred monarch and the surpliced priest Each claimed his tribute from the wasted fields;

5

در کلیسا اسقف رضوان فروش

بهر این صید زبون دامی بدوش

جنت کے پروانے بیچنے والے پیشوا کلیسا میں بیٹھا ہوا اس پریشان حال اور بے بس شکار کے لیے جال کندھے پر ڈالے ہوئے تھا اور ان کی جیبیں خالی کرتا تھا ۔

The bishop, eager for this abject game, Bartered God’s pardon with the penitent.

6

برهمن گل از خیابانش ببرد

خرمنش مغ زاده با آتش سپرد

برہمن نے ان کی کیاریوں کے پھول چن لیے تھے اور آتش پرستوں کے مغ زادوں (پیشوا) نے غریبوں کے خرمن کو آگ کے حوالے کر دیا تھا ۔

The Brahman from his garden raped his blooms, The Magian fed his harvest to the fire.

7

از غلامی فطرت او دون شده

نغمه ها اندر نی او خون شده

غلامی نے ان انسانوں کی فطرت بہت پست کر دی تھی ۔ ان کی بانسری میں نغمے خون بن کر رہ گئے تھے (یہ حالت زار تھی جب رحمت عالم ﷺ جیسے امانت دار وجود کا ظہور ہوا) ۔

Serfdom debased man’s nature; while his reed Throbbed with therenody of his heart’s blood.

8

تا امینی حق بحقداران سپرد

بندگان را مسند خاقان سپرد

تمام حق داروں کو ان کے حق مل گئے اور جن لوگوں کو مختلف اشخاص غلام بنائے بیٹھے تھے انہیں بادشاہی کی مسند دے دی ۔

Until one faithful reassigned their rights To those whose rights they were, the Khaqan’s throne Delivering into his subjects’ hand;

9

شعله ها از مرده خاکستر گشاد

کوهکن را پایه ی پرویز داد

اس وجود پاک نے ٹھنڈی راکھ سے زندگی کے شعلے پیدا کئے ۔ پہاڑ کاٹنے والے مزدور کو پرویز جیسے بادشاہ کے برابر رتبہ دیا ۔

Fanned their dead embers into flame anew; Raised up Farhad, poor hewer of the rocks.

10

اعتبار کار بندان را فزود

خواجگی از کار فرمایان ربود

حضور کی برکت سے مزدوروں کی عزت بڑھ گئی، جو لوگ کارفرما بنے بیٹھے تھے ان سے آقائی اور برتری کا منصب چھین لیا ۔

To Parwiz’ royal height; brought dignity To honest toil, and robbed the taskmasters Of tyrant overlordship.

11

قوت او هر کهن پیکر شکست

نوع انسان را حصار تازه بست

رحمت عالم ﷺ نے ہر پرانے ڈھانچے کی قوت توڑ کر رکھ دی اور عالم انسانیت کے گرد ایک نیا حصار حفاظت کے لیے قائم کر دیا ۔

By his might He shattered every ancient privilege, And built new walls to fortify mankind.

12

تازه جان اندر تن آدم دمید

بنده را باز از خداوندان خرید

آدمی کے جسم میں نئی جان ڈال دی، غلاموں کو ان کے مالکوں سے خرید کر آزاد کر دیا ۔

He breathed fresh life in Adam’s weary bones, Redeemed the slave from bondage, set him free.

13

زادن او مرگ دنیای کهن

مرگ آتشخانه و دیر و شمن

اس وجود پاک کا ظہور پرانی دنیا کے لیے موت کا پیغام تھا ۔ آتش کدے سرد ہو گئے ، بت خانوں کا نام و نشان باقی نہ رہا ۔

His birth was mortal to the ancient world, Death to the temples of idolatry.

14

حریت زاد از ضمیر پاک او

این می نوشین چکید از تاک او

اس وجود کے پاک ضمیر سے آزادی پیدا ہوئی، یہ لذیذ شراب اسی انگور سے نکلی ۔

Freedom was born out of his holy heart; His vineyard flowed with that delightful wine.

15

عصر نو کاین صد چراغ آورده است

چشم در آغوش او وا کرده است

عہد جدید نے جو سینکڑوں چراغ پیدا کئے اس عہد کی آنکھ اسی پاک وجود کی آغوش میں کھلی تھی ۔

The world’s new age, its hundred lamps ablaze, Opened its eyes upon his living breast.

16

نقش نو بر صفحه هستی کشید

امتی گیتی گشائی آفرید

رسول اللہ ﷺ نے ایک نیا نقش ہستی کے صفحے پر کھینچا اور ایک ایسی امت پیدا کی جو دنیا کو فتح کرنے والی تھی ۔

He drew on Being’s page the new design, Brought into life a race of conquerors,

17

امتی از ما سوا بیگانه ئی

بر چراغ مصطفی پروانه ئی

اس امت نے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی تھیں اور وہ رسول اللہ کے چراغ کے لیے پروانہ بنی ہوئی تھی ۔

A people deaf to every voice but God’s, A moth devoted to Muhammad‘s flame;

18

امتی از گرمی حق سینه تاب

ذره اش شمع حریم آفتاب

اس امت نے حق کی حرارت سے سینہ گرما رکھا تھا اور اس کا ایک ذرہ سورج کے گھر کے لیے شمع کی حیثیت رکھتا تھا ۔

The fire of God was glowing in the brilliance Of the Sun’s sanctuary.

19

کائنات از کیف او رنگین شده

کعبه ها بتخانه های چین شده

کائنات پر اس امت کے نشے سے رنگینی چھا گئی اور چین کے بت خانے اللہ کے گھر بن گئے ۔

His fervour flushed Creation all with joy; new Ka‘bahs rose Where China’s temples once with idols stood.

20

مرسلان و انبیا آبای او

اکرم او نزد حق اتقای او

اللہ کے تمام رسول اور نبی امت کے آبا و اجداد تھے اور اسکے سب سے زیادہ پرہیزگار افراد اللہ کے نزدیک سب سے بڑھ کر عزت والے تھے ۔

And in the order of his chivalry They were most noble who feared God the best.

21

«کل مؤمن اخوة» اندر دلش

حریت سرمایه آب و گلش

اس امت کے دل میں یہ پیغام پیوست تھا کہ تمام مومن بھائی بھائی ہیں اور آزادی اس کی آب و گل کی سرمایہ تھی ۔

Belivers all are brothers in his heart, Freedom the sum and substance of his flesh.

22

نا شکیب امتیازات آمده

در نهاد او مساوات آمده

اس کے نزدیک ہر امتیاز ناقابل برداشت تھا اور مساوات اس کی فطرت اس میں رچی ہوئی تھی ۔

Impatient with discriminations all, His soul was pregnant with Equality.

23

همچو سرو آزاد فرزندان او

پخته از «قالوا بلی» پیمان او

اس امت کے افراد اسی طرح آزاد تھے جس طرح سرو باغو ں میں آزاد ہوتے ہیں اور ابتدائے آفرینش میں روحوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد باندھا تھا اس پر قائم و استوار تھے ۔

Therefore his sons stand up erect and free As the tall cypresses, the ancient pledge In him renewing, Yea, thou art our Lord.

24

سجده ی حق گل بسیمایش زده

ماه و انجم بوسه بر پایش زده

اللہ تعالیٰ کے سامنے مسلسل سجدہ کرنے سے اس کی پیشانی پر پھول کا نقش بن گیا تھا ۔ چاند اور سورج اس کے پاؤں کو بوسہ دیتے تھے ۔

Prostration unto God had marked his brow; The Moon and stars bow down to kiss his feet.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تارک آفل براهیم خلیل

انبیا را نقش پای او دلیل

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 8 - رکن دوم: رسالت

اگلی نظم

شد اسیر مسلمی اندر نبرد

قائدی از قائدان یزد جرد

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 10 - حکایت بوعبید و جابان در معنی اخوت اسلامیه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور