صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 9 - در معنی اینکه مقصود رسالت محمدیه تشکیل و تأسیس حریت و مساوات و اخوت بنی نوع آدم است

بخش 9 - در معنی اینکه مقصود رسالت محمدیه تشکیل و تأسیس حریت و مساوات و اخوت بنی نوع آدم است

بیان مقصود رسالتِ محمدیہ جو تشکیل و تاسیس حریت اور مساوات و اخوتِ بنی آدم کی بنیاد ہے

That the purpose of Muhammad’s mission was to found Freedom, Equality and Brotherhood among all mankind

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

بود انسان در جهان انسان پرست

ناکس و نابود مند و زیر دست

انسان دنیا میں انسانوں کو پوجتے تھے ۔ ان کی کوئی حیثیت باقی نہیں تھی ۔ وہ عاجز و درماندہ تھے ۔

Throughout the world man worshipped tyrant man, Despised, neglected, insignificant;

22

سطوت کسری و قیصر رهزنش

بند ها در دست و پا و گردنش

کسریٰ اور قیصر جیسے شہنشاہوں کا دبدبہ انہیں لوٹ رہا تھا ۔ ان کے ہاتھوں ، پاؤں اور گردنوں میں بندھن پڑے ہوئے تھے ۔

Caesar and Chosroes, highwaymen enthroned, Fettered and chained their subjects, hand and foot.

33

کاهن و پاپا و سلطان و امیر

بهر یک نخچیر صد نخچیر گیر

دینی بزرگ، پوپ ، بادشاہ اور امیر (گویا سینکڑوں شکاری) ایک شکار کے پیچھے لگے ہوئے تھے ۔ یعنی سب غریب انسانوں کو لوٹ رہے تھے ۔

High Priest and Pope, Sultan and Prince—for one Poor prey a hundred huntsmen took the field;

44

صاحب اورنگ و هم پیر کنشت

باج بر کشت خراب او نوشت

تخت کے مالکوں اور بت خانہ و آتش کدہ کے پیشواؤں نے غریب انسانوں کی ویران یا اجڑی ہوئی کھیتی سے وصول خراج کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا ۔

The sceptred monarch and the surpliced priest Each claimed his tribute from the wasted fields;

55

در کلیسا اسقف رضوان فروش

بهر این صید زبون دامی بدوش

جنت کے پروانے بیچنے والے پیشوا کلیسا میں بیٹھا ہوا اس پریشان حال اور بے بس شکار کے لیے جال کندھے پر ڈالے ہوئے تھا اور ان کی جیبیں خالی کرتا تھا ۔

The bishop, eager for this abject game, Bartered God’s pardon with the penitent.

66

برهمن گل از خیابانش ببرد

خرمنش مغ زاده با آتش سپرد

برہمن نے ان کی کیاریوں کے پھول چن لیے تھے اور آتش پرستوں کے مغ زادوں (پیشوا) نے غریبوں کے خرمن کو آگ کے حوالے کر دیا تھا ۔

The Brahman from his garden raped his blooms, The Magian fed his harvest to the fire.

77

از غلامی فطرت او دون شده

نغمه ها اندر نی او خون شده

غلامی نے ان انسانوں کی فطرت بہت پست کر دی تھی ۔ ان کی بانسری میں نغمے خون بن کر رہ گئے تھے (یہ حالت زار تھی جب رحمت عالم ﷺ جیسے امانت دار وجود کا ظہور ہوا) ۔

Serfdom debased man’s nature; while his reed Throbbed with therenody of his heart’s blood.

88

تا امینی حق بحقداران سپرد

بندگان را مسند خاقان سپرد

تمام حق داروں کو ان کے حق مل گئے اور جن لوگوں کو مختلف اشخاص غلام بنائے بیٹھے تھے انہیں بادشاہی کی مسند دے دی ۔

Until one faithful reassigned their rights To those whose rights they were, the Khaqan’s throne Delivering into his subjects’ hand;

99

شعله ها از مرده خاکستر گشاد

کوهکن را پایه ی پرویز داد

اس وجود پاک نے ٹھنڈی راکھ سے زندگی کے شعلے پیدا کئے ۔ پہاڑ کاٹنے والے مزدور کو پرویز جیسے بادشاہ کے برابر رتبہ دیا ۔

Fanned their dead embers into flame anew; Raised up Farhad, poor hewer of the rocks.

1010

اعتبار کار بندان را فزود

خواجگی از کار فرمایان ربود

حضور کی برکت سے مزدوروں کی عزت بڑھ گئی، جو لوگ کارفرما بنے بیٹھے تھے ان سے آقائی اور برتری کا منصب چھین لیا ۔

To Parwiz’ royal height; brought dignity To honest toil, and robbed the taskmasters Of tyrant overlordship.

1111

قوت او هر کهن پیکر شکست

نوع انسان را حصار تازه بست

رحمت عالم ﷺ نے ہر پرانے ڈھانچے کی قوت توڑ کر رکھ دی اور عالم انسانیت کے گرد ایک نیا حصار حفاظت کے لیے قائم کر دیا ۔

By his might He shattered every ancient privilege, And built new walls to fortify mankind.

1212

تازه جان اندر تن آدم دمید

بنده را باز از خداوندان خرید

آدمی کے جسم میں نئی جان ڈال دی، غلاموں کو ان کے مالکوں سے خرید کر آزاد کر دیا ۔

He breathed fresh life in Adam’s weary bones, Redeemed the slave from bondage, set him free.

1313

زادن او مرگ دنیای کهن

مرگ آتشخانه و دیر و شمن

اس وجود پاک کا ظہور پرانی دنیا کے لیے موت کا پیغام تھا ۔ آتش کدے سرد ہو گئے ، بت خانوں کا نام و نشان باقی نہ رہا ۔

His birth was mortal to the ancient world, Death to the temples of idolatry.

1414

حریت زاد از ضمیر پاک او

این می نوشین چکید از تاک او

اس وجود کے پاک ضمیر سے آزادی پیدا ہوئی، یہ لذیذ شراب اسی انگور سے نکلی ۔

Freedom was born out of his holy heart; His vineyard flowed with that delightful wine.

1515

عصر نو کاین صد چراغ آورده است

چشم در آغوش او وا کرده است

عہد جدید نے جو سینکڑوں چراغ پیدا کئے اس عہد کی آنکھ اسی پاک وجود کی آغوش میں کھلی تھی ۔

The world’s new age, its hundred lamps ablaze, Opened its eyes upon his living breast.

1616

نقش نو بر صفحه هستی کشید

امتی گیتی گشائی آفرید

رسول اللہ ﷺ نے ایک نیا نقش ہستی کے صفحے پر کھینچا اور ایک ایسی امت پیدا کی جو دنیا کو فتح کرنے والی تھی ۔

He drew on Being’s page the new design, Brought into life a race of conquerors,

1717

امتی از ما سوا بیگانه ئی

بر چراغ مصطفی پروانه ئی

اس امت نے اللہ تعالیٰ کے سوا ہر شے کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی تھیں اور وہ رسول اللہ کے چراغ کے لیے پروانہ بنی ہوئی تھی ۔

A people deaf to every voice but God’s, A moth devoted to Muhammad‘s flame;

1818

امتی از گرمی حق سینه تاب

ذره اش شمع حریم آفتاب

اس امت نے حق کی حرارت سے سینہ گرما رکھا تھا اور اس کا ایک ذرہ سورج کے گھر کے لیے شمع کی حیثیت رکھتا تھا ۔

The fire of God was glowing in the brilliance Of the Sun’s sanctuary.

1919

کائنات از کیف او رنگین شده

کعبه ها بتخانه های چین شده

کائنات پر اس امت کے نشے سے رنگینی چھا گئی اور چین کے بت خانے اللہ کے گھر بن گئے ۔

His fervour flushed Creation all with joy; new Ka‘bahs rose Where China’s temples once with idols stood.

2020

مرسلان و انبیا آبای او

اکرم او نزد حق اتقای او

اللہ کے تمام رسول اور نبی امت کے آبا و اجداد تھے اور اسکے سب سے زیادہ پرہیزگار افراد اللہ کے نزدیک سب سے بڑھ کر عزت والے تھے ۔

And in the order of his chivalry They were most noble who feared God the best.

2121

«کل مؤمن اخوة» اندر دلش

حریت سرمایه آب و گلش

اس امت کے دل میں یہ پیغام پیوست تھا کہ تمام مومن بھائی بھائی ہیں اور آزادی اس کی آب و گل کی سرمایہ تھی ۔

Belivers all are brothers in his heart, Freedom the sum and substance of his flesh.

2222

نا شکیب امتیازات آمده

در نهاد او مساوات آمده

اس کے نزدیک ہر امتیاز ناقابل برداشت تھا اور مساوات اس کی فطرت اس میں رچی ہوئی تھی ۔

Impatient with discriminations all, His soul was pregnant with Equality.

2323

همچو سرو آزاد فرزندان او

پخته از «قالوا بلی» پیمان او

اس امت کے افراد اسی طرح آزاد تھے جس طرح سرو باغو ں میں آزاد ہوتے ہیں اور ابتدائے آفرینش میں روحوں نے اللہ تعالیٰ سے جو عہد باندھا تھا اس پر قائم و استوار تھے ۔

Therefore his sons stand up erect and free As the tall cypresses, the ancient pledge In him renewing, Yea, thou art our Lord.

2424

سجده ی حق گل بسیمایش زده

ماه و انجم بوسه بر پایش زده

اللہ تعالیٰ کے سامنے مسلسل سجدہ کرنے سے اس کی پیشانی پر پھول کا نقش بن گیا تھا ۔ چاند اور سورج اس کے پاؤں کو بوسہ دیتے تھے ۔

Prostration unto God had marked his brow; The Moon and stars bow down to kiss his feet.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

تارک آفل براهیم خلیل

انبیا را نقش پای او دلیل

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 8 - رکن دوم: رسالت

اگلی نظم

شد اسیر مسلمی اندر نبرد

قائدی از قائدان یزد جرد

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 10 - حکایت بوعبید و جابان در معنی اخوت اسلامیه

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور