صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 10 - حکایت بوعبید و جابان در معنی اخوت اسلامیه

بخش 10 - حکایت بوعبید و جابان در معنی اخوت اسلامیه

بوعبید اور جابان کی حکایت اخوت اسلامیہ کی روشنی میں

The Story of Bu Ubaid and Jaban, in illustration of Muslim Brotherhood

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

شد اسیر مسلمی اندر نبرد

قائدی از قائدان یزد جرد

ایران کے بادشاہ یزد جرد کے سالاروں میں سے ایک سالار میدان میں ایک مسلمان سپاہی کے ہاتھوں گرفتار ہوا ۔

A certain general of kind Yazdajerd Became a Muslim’s captive in the wars;

2

گبر باران دیده و عیار بود

حیله جو و پرفن و مکار بود

آتش پرست یعنی ایرانی سالار بڑا تجربہ کار، عیار، حیلہ باز، چالاک اور مکار تھا ۔

A Guebre he was, inured to every trick Of fortune, crafty, cunning, full of guile.

3

از مقام خود خبردارش نکرد

هم ز نام خود خبردارش نکرد

اس نے مسلمان سپاہی کو اپنے نام یا رتبے سے آگاہ نہ کیا ۔

He kept his captor ignorant of his rank Nor told him who he was, or what his name,

4

گفت می خواهم که جان بخشی مرا

چون مسلمانان امان بخشی مرا

اس نے درخواست کی کہ میری جان بخشی کی جائے اور مسلمانوں کے شیوے کے مطابق مجھے امان دے دی جائے ۔

But said, “I beg that you will spare my life And grant to me the quarter Muslims gain.”

5

کرد مسلم تیغ را اندر نیام

گفت خونتریختن بر من حرام

مسلمان نے یہ سنتے ہی تلوار میان میں کر لی اور کہا کہ اب تیرا خون بہانا میرے لیے حرام ہے ۔

The Muslim sheathed his sword. “To shed thy blood,” He cried, “were impious and forbidden sin.”

6

چون درفش کاویانی چاک شد

آتش اولاد ساسان خاک شد

جب ایران کا جھنڈا اور فش کاویانی پھٹ گی یعنی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا اور ساسانی خاندان کی آگ راکھ بن گئی یعنی لڑائی ختم ہو گئی ۔

When Kaveh’s banner had rent to shreds, The fire of Sasan’s sons turned all to dust,

7

آشکارا شد که جابان است او

میر سربازان ایران است او

تو اس وقت بھید کھلا کہ یہ سالار جس نے نام اور منصب بتائے بغیر امان حاصل کر لی تھی جابان ہے جو ایران کے جاں بازوں کا سالار ہے ۔

It was disclosed the captive Jaban was, Supreme commander of the Persian host.

8

قتل او از میر عسکر خواستند

از فریب او سخن آراستند

چنانچہ مسلمان اپنے سالار کی خدمت میں پہنچے اور کہا کہ قتل کی اجازت دیجیے ساتھ ہی اس کا فریب واضح کر دیا (مراد یہ کہ اس شخص نے دھوکہ سے امان حاصل کی اور ایسی امان کی کچھ حیثیت نہیں اس کے ہاتھ سے مسلمانوں کو جو دکھ پہنچے ان کا تقاضا یہی ہے کہ اسے قتل کیا جائے) ۔

Then was his fraud reported, and his blood Petitioned of the Arab general;

9

بوعبید آن سید فوج حجاز

در وغا عزمش ز لشکر بی نیاز

حجازی فوج کے سالار حضرت ابوعبیدہ ثقفی تھے ۔ میدان جنگ میں ان کا عزم بلند تھا ۔

But Bu Ubaid, famed leader of the ranks From far Hijaz, who needed not the aid Of armies to assist his bold resolve In battletide, thus answered their request.

10

گفت ای یاران مسلمانیم ما

تار چنگیم و یک آهنگیم ما

انھوں نے فرمایا ، دوستو ہم مسلمان ، ہم ایک ساز کے تار ہیں اور ہم میں سے ایک ہی نغمہ پیدا ہوتا ہے ۔

“Friend, we are Muslims, strings upon one lute And of one concord.

11

نعره ی حیدر نوای بوذر است

گرچه از حلق بلال و قنبر است

وہ حضرت علی کا نعرہ اور حضرت ابوذر ہی کی نوا ہے اگرچہ وہ نعرہ بلا ل اور قنبر ہی کے حلق سے کیوں نہ بلند ہوا ہو ۔ کوئی نعرہ یا نوا بلال اور قنبر کے حلق سے بھی پیدا ہو تو ہم اسے علی المرتضیٰ کا نعرہ اور ابوذر کی نوا سمجھیں گے ۔

Ali’s voice attunes With Abu Dharr’s, although the throat be that Of Qanbar or Bilal.

12

هر یکی از ما امین ملت است

صلح وکینش ، صلح وکین ملت است

ہم میں سے ہر شخص ملت کا امانت دار ہے ۔ ہر شخص کی صلح اور لڑائی ملت کی صلح اور لڑائی قرار پائی ۔

Each one of us Is trustee to the whole community And one with it, in malice or in truce.

13

ملت ار گردد اساس جان فرد

عهد ملت می شود پیمان فرد

جب ملت ہر فرد کی جان کی بنیاد بن جائے تو اس فرد کا عہد و پیمان ملت کا عہد قرار پاتا ہے ۔

As the community is the sure base On which the individual rests secure, So is its covenant his sacred bond.

14

گرچه جابان دشمن ما بوده است

مسلمی او را امان بخشوده است

اگرچہ جابان ہمارا دشمن رہ چکا ہے لیکن چونکہ ہمارا ایک مسلمان بھائی اسے امان دے چکا ہے ۔

Though Jaban was a foeman to Islam, A Muslim granted him immunity;

15

خون او ای معشر خیرالانام

بر دم تیغ مسلمانان حرام

لہذا اے کائنات کے بہترین انسان کی امت کے لوگو اب جابان کا خون مسلمانوں کی تلوار کے لیے حرام ہو گیا ہے ۔

His blood, O followers of the best of men, May not be spilled by any Muslim sword.”

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بود انسان در جهان انسان پرست

ناکس و نابود مند و زیر دست

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 9 - در معنی اینکه مقصود رسالت محمدیه تشکیل و تأسیس حریت و مساوات و اخوت بنی نوع آدم است

اگلی نظم

بود معماری ز اقلیم خجند

در فن تعمیر نام او بلند

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 11 - حکایت سلطان مراد و معمار در معنی مساوات اسلامیه

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور