صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 11 - حکایت سلطان مراد و معمار در معنی مساوات اسلامیه

بخش 11 - حکایت سلطان مراد و معمار در معنی مساوات اسلامیه

سلطان مراد اور معمار کی حکایت مساواتِ اسلامیہ کی روشنی میں

The story of Sultan Murad and the architect, in illustration of Muslim Equality

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

بود معماری ز اقلیم خجند

در فن تعمیر نام او بلند

خجند کے علاقے میں ایک معمار تھا جس نے فن تعمیر یعنی عمارتیں بنانے میں بڑی ناموری حاصل کر لی تھی ۔

An architect there was, that in Khojand Was born, a famous craftsman of his kind,

22

ساخت آن صنعت گر فرهاد زاد

مسجدی از حکم سلطان مراد

اس ماہر کاریگر نے جسے کمال فن کے اعتبار سے فرہاد کی اولاد کہنا مناسب ہے سلطان مراد کے حکم سے ایک مسجد بنائی ۔

Worthy to be an offspring of Farhad. Sultan Murad commanded him to build A mosque,

33

خوش نیامد شاه را تعمیر او

خشمگین گردید از تقصیر او

سلطان کو اس کی بنائی ہوئی عمارت پسند نہ آئی اور اس کی کوتاہی پر غصے کی آگ بھڑک اٹھی ۔

the which pleased not his majesty, So that he waxed right furious at his faults.

44

آتش سوزنده از چشمش چکید

دست آن بیچاره از خنجر برید

سلطان کی آنکھوں سے جلا دینے والی آگ برسنے لگی اور اس نے غریب معمار کا ہاتھ خنجر سے کاٹ دیا ۔

The baleful fire flared in the ruler’s eyes; Drawing his dagger, he cut off the hand Of that poor wretch,

55

جوی خون از ساعد معمار رفت

پیش قاضی ناتوان و زار رفت

معمار کی کلائی سے خون کی ندی بہہ نکلی وہ بے بس ہو کر حالت زار میں قاضی کے پاس پہنچا ۔

so that the spurting blood Gushed from his forearm. In such hapless plight He came before the qazi

66

آن هنرمندی که دستش سنگ سفت

داستان جور سلطان باز گفت

جس کاریگر کے ہاتھ پتھروں کو ایک دوسرے سے اس طرح پیوست کرتے تھے جس طرح موتی پروئے جاتے اس نے سلطان کے ظلم کی داستان قاضی کو سنا دی ۔

and retold The tyrants’s felony, that had destroyed The cunning hand which shaped the granite rock.

77

گفت ای پیغام حق گفتار تو

حفظ آئین محمد کار تو

اور کہا کہ تیری زبان پر جو کچھ جاری ہوتا ہے وہ پیغام حق ہوتا ہے ۔ تیرا کام ہی شریعت محمدی کی حفاظت ہے ۔

“O thou whose words a message are of Truth,” He cried, “whose toil it is to keep alive Muhammad’s Law,

88

سفته گوش سطوت شاهان نیم

قطع کن از روی قرآن دعویم

میں بادشاہوں کی عظمت اور دبدبے کا غلام نہیں ۔ میری گزارش یہ ہے کہ جو دعویٰ پیش کر رہا ہوں اس کا فیصلہ قرآن مجید کے حکم کے مطابق کیا جائے ۔

I am no ear-bored slave Patient to wear the ring of monarchs’ might. Determine my appeal by the Quran!”

99

قاضی عادل بدندان خسته لب

کرد شه را در حضور خود طلب

انصاف کرنے والے قاضی نے معمار کی درد بھری داستان سنی تو غصے سے ہونٹ چبائے اور بادشاہ کو عدالت میں طلب کیا ۔

The upright cadi bit his lips in ire And summoned to his court the unjust king

1010

رنگ شه از هیبت قرآن پرید

پیش قاضی چون خطاکاران رسید

(بادشاہ سن چکا تھا کہ معمار نے قرآنی حکم کے مطابق فیصلہ چاہا ہے ) قرآن کی ہیبت سے اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور خطاکار کی حیثیت میں قاضی کے سامنے پیش ہوا ۔

Who, hearing the Quran invoked, turned pale With awe, and came like any criminal Before the judge,

1111

از خجالت دیده بر پا دوخته

عارض او لاله ها اندوخته

شرمندگی سے آنکھیں پاؤں پر گڑی ہوئی تھیں ۔ اس کے رخسار شرمندگی سے لالہ کے پھولوں کی طرح سرخ ہو گئے تھے ۔

his eyes cast down in shame, Is cheeks as crimson as the tulip’s glow.

1212

یک طرف فریادی دعوی گری

یک طرف شاهنشه گردون فری

قاضی کی عدالت میں ایک طرف فریادی تھا اور دوسری طرف آسمان جیسے بلند مرتبے والا شہنشاہ تھا ۔

On one side stood the appellant, and on one The high exalted emperor, who spoke.

1313

گفت شه از کرده خجلت برده ام

اعتراف از جرم خود آورده ام

بادشاہ بولا میں اپنے کیے پر پشیمان ہوں اور اقبال جرم کرتا ہوں ۔

“I am ashamed of this that I have wrought And make confession of my grievous crime.”

1414

گفت قاضی فی القصاص آمد حیوة

زندگی گیرد باین قانون ثبات

قاضی نے کہا یہ معاملہ تو قصاص کا ہے اور ارشاد قرآنی کے مطابق قصاص ہی زندگی ہے ۔ اسی قانون کے ذریعے سے زندگی استوار ہوتی ہے ۔

“In retribution” quoth the judge, “is life, And by that law life finds stability.

1515

عبد مسلم کمتر از احرار نیست

خون شه رنگین تر از معمار نیست

ظاہر ہے کہ مسلمان غلام درجے میں احرار سے کم نہیں سمجھا جا سکتا ۔ بادشاہ کا خون معمار کے خون سے زیادہ سرخ نہیں ۔

The Muslim slave no less is than free men, Nor is the emperor’s blood of richer hue Than the poor builder’s.”

1616

چون مراد این آیه ی محکم شنید

دست خویش از آستین بیرون کشید

جب سلطان مراد نے قرآن مجید کی یہ محکم آیت سنی تو اپنا ہاتھ آستین سے نکال کر آگے کر دیا (تاکہ قصاص لے لیا جائے اور حکم قرآنی پورا ہو) ۔

Listening to these words Of Holy Writ, Murad shook off his sleeve And bared his hand.

1717

مدعی را تاب خاموشی نماند

آیه ی «بالعدل و الاحسان» خواند

دعویٰ کرنے والے معمار کو اب خاموشی کی تاب نہ رہی ۔ اس کی زبان پر قرآن مجید کی وہ آیت جاری ہو گئی جس میں عدل کے ساتھ احسان کی بھی تلقین فرمائی گئی ہے ۔

The plaintiff thereupon No Longer could keep silence. “God commands Justice and kindliness,” recited he.

1818

گفت از بهر خدا بخشیدمش

از برای مصطفی بخشیدمش

اس نے کہا کہ میں نے بادشاہ کو خدا اور رسول کے لیے معاف کر دیا بدلہ لینا نہیں چاہتا احسان رکھ کر چھوڑتا ہوں

For God’s sake and Muhammad’s, he declared, “I do forgive him.”

1919

یافت موری بر سلیمانی ظفر

سطوت آئین پیغمبر نگر

رسول اللہ کی شریعت کا رعب اور ادب دیکھیے کہ ایک کمزور چیونٹی نے سلیمان پر فتح پائی ۔ یعنی ایک معمولی معمار سلطان کے مقابلے میں کامیاب ہوا ۔

Note the majesty Of the Apostle’s Law, and how an ant Triumphantly outfought a Solomon!

2020

پیش قرآن بنده و مولا یکی است

بوریا و مسند دیبا یکی است

حق یہ ہے کہ قرآن مجید کے نزدیک آقا اور غلام کی حیثیت ایک ہے ۔ چٹائی پر بیٹھنے والے درویش اور اطلس کی گدی کو زینت دینے والے بادشاہ میں کوئی فرق نہیں ۔

Before the tribunal of the Quran Master and salve are one, the mat of reeds Coequal with the throne of rich brocade.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

شد اسیر مسلمی اندر نبرد

قائدی از قائدان یزد جرد

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 10 - حکایت بوعبید و جابان در معنی اخوت اسلامیه

اگلی نظم

هر که پیمان با هوالموجود بست

گردنش از بند هر معبود رست

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 12 - در معنی حریت اسلامیه و سر حادثهٔ کربلا

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور