سلطان مراد اور معمار کی حکایت مساواتِ اسلامیہ کی روشنی میں
The story of Sultan Murad and the architect, in illustration of Muslim Equality
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
بود معماری ز اقلیم خجند
در فن تعمیر نام او بلند
خجند کے علاقے میں ایک معمار تھا جس نے فن تعمیر یعنی عمارتیں بنانے میں بڑی ناموری حاصل کر لی تھی ۔
An architect there was, that in Khojand Was born, a famous craftsman of his kind,
ساخت آن صنعت گر فرهاد زاد
مسجدی از حکم سلطان مراد
اس ماہر کاریگر نے جسے کمال فن کے اعتبار سے فرہاد کی اولاد کہنا مناسب ہے سلطان مراد کے حکم سے ایک مسجد بنائی ۔
Worthy to be an offspring of Farhad. Sultan Murad commanded him to build A mosque,
خوش نیامد شاه را تعمیر او
خشمگین گردید از تقصیر او
سلطان کو اس کی بنائی ہوئی عمارت پسند نہ آئی اور اس کی کوتاہی پر غصے کی آگ بھڑک اٹھی ۔
the which pleased not his majesty, So that he waxed right furious at his faults.
آتش سوزنده از چشمش چکید
دست آن بیچاره از خنجر برید
سلطان کی آنکھوں سے جلا دینے والی آگ برسنے لگی اور اس نے غریب معمار کا ہاتھ خنجر سے کاٹ دیا ۔
The baleful fire flared in the ruler’s eyes; Drawing his dagger, he cut off the hand Of that poor wretch,
جوی خون از ساعد معمار رفت
پیش قاضی ناتوان و زار رفت
معمار کی کلائی سے خون کی ندی بہہ نکلی وہ بے بس ہو کر حالت زار میں قاضی کے پاس پہنچا ۔
so that the spurting blood Gushed from his forearm. In such hapless plight He came before the qazi
آن هنرمندی که دستش سنگ سفت
داستان جور سلطان باز گفت
جس کاریگر کے ہاتھ پتھروں کو ایک دوسرے سے اس طرح پیوست کرتے تھے جس طرح موتی پروئے جاتے اس نے سلطان کے ظلم کی داستان قاضی کو سنا دی ۔
and retold The tyrants’s felony, that had destroyed The cunning hand which shaped the granite rock.
گفت ای پیغام حق گفتار تو
حفظ آئین محمد کار تو
اور کہا کہ تیری زبان پر جو کچھ جاری ہوتا ہے وہ پیغام حق ہوتا ہے ۔ تیرا کام ہی شریعت محمدی کی حفاظت ہے ۔
“O thou whose words a message are of Truth,” He cried, “whose toil it is to keep alive Muhammad’s Law,
سفته گوش سطوت شاهان نیم
قطع کن از روی قرآن دعویم
میں بادشاہوں کی عظمت اور دبدبے کا غلام نہیں ۔ میری گزارش یہ ہے کہ جو دعویٰ پیش کر رہا ہوں اس کا فیصلہ قرآن مجید کے حکم کے مطابق کیا جائے ۔
I am no ear-bored slave Patient to wear the ring of monarchs’ might. Determine my appeal by the Quran!”
قاضی عادل بدندان خسته لب
کرد شه را در حضور خود طلب
انصاف کرنے والے قاضی نے معمار کی درد بھری داستان سنی تو غصے سے ہونٹ چبائے اور بادشاہ کو عدالت میں طلب کیا ۔
The upright cadi bit his lips in ire And summoned to his court the unjust king
رنگ شه از هیبت قرآن پرید
پیش قاضی چون خطاکاران رسید
(بادشاہ سن چکا تھا کہ معمار نے قرآنی حکم کے مطابق فیصلہ چاہا ہے ) قرآن کی ہیبت سے اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور خطاکار کی حیثیت میں قاضی کے سامنے پیش ہوا ۔
Who, hearing the Quran invoked, turned pale With awe, and came like any criminal Before the judge,
از خجالت دیده بر پا دوخته
عارض او لاله ها اندوخته
شرمندگی سے آنکھیں پاؤں پر گڑی ہوئی تھیں ۔ اس کے رخسار شرمندگی سے لالہ کے پھولوں کی طرح سرخ ہو گئے تھے ۔
his eyes cast down in shame, Is cheeks as crimson as the tulip’s glow.
یک طرف فریادی دعوی گری
یک طرف شاهنشه گردون فری
قاضی کی عدالت میں ایک طرف فریادی تھا اور دوسری طرف آسمان جیسے بلند مرتبے والا شہنشاہ تھا ۔
On one side stood the appellant, and on one The high exalted emperor, who spoke.
گفت شه از کرده خجلت برده ام
اعتراف از جرم خود آورده ام
بادشاہ بولا میں اپنے کیے پر پشیمان ہوں اور اقبال جرم کرتا ہوں ۔
“I am ashamed of this that I have wrought And make confession of my grievous crime.”
گفت قاضی فی القصاص آمد حیوة
زندگی گیرد باین قانون ثبات
قاضی نے کہا یہ معاملہ تو قصاص کا ہے اور ارشاد قرآنی کے مطابق قصاص ہی زندگی ہے ۔ اسی قانون کے ذریعے سے زندگی استوار ہوتی ہے ۔
“In retribution” quoth the judge, “is life, And by that law life finds stability.
عبد مسلم کمتر از احرار نیست
خون شه رنگین تر از معمار نیست
ظاہر ہے کہ مسلمان غلام درجے میں احرار سے کم نہیں سمجھا جا سکتا ۔ بادشاہ کا خون معمار کے خون سے زیادہ سرخ نہیں ۔
The Muslim slave no less is than free men, Nor is the emperor’s blood of richer hue Than the poor builder’s.”
چون مراد این آیه ی محکم شنید
دست خویش از آستین بیرون کشید
جب سلطان مراد نے قرآن مجید کی یہ محکم آیت سنی تو اپنا ہاتھ آستین سے نکال کر آگے کر دیا (تاکہ قصاص لے لیا جائے اور حکم قرآنی پورا ہو) ۔
Listening to these words Of Holy Writ, Murad shook off his sleeve And bared his hand.
مدعی را تاب خاموشی نماند
آیه ی «بالعدل و الاحسان» خواند
دعویٰ کرنے والے معمار کو اب خاموشی کی تاب نہ رہی ۔ اس کی زبان پر قرآن مجید کی وہ آیت جاری ہو گئی جس میں عدل کے ساتھ احسان کی بھی تلقین فرمائی گئی ہے ۔
The plaintiff thereupon No Longer could keep silence. “God commands Justice and kindliness,” recited he.
گفت از بهر خدا بخشیدمش
از برای مصطفی بخشیدمش
اس نے کہا کہ میں نے بادشاہ کو خدا اور رسول کے لیے معاف کر دیا بدلہ لینا نہیں چاہتا احسان رکھ کر چھوڑتا ہوں
For God’s sake and Muhammad’s, he declared, “I do forgive him.”
یافت موری بر سلیمانی ظفر
سطوت آئین پیغمبر نگر
رسول اللہ کی شریعت کا رعب اور ادب دیکھیے کہ ایک کمزور چیونٹی نے سلیمان پر فتح پائی ۔ یعنی ایک معمولی معمار سلطان کے مقابلے میں کامیاب ہوا ۔
Note the majesty Of the Apostle’s Law, and how an ant Triumphantly outfought a Solomon!
پیش قرآن بنده و مولا یکی است
بوریا و مسند دیبا یکی است
حق یہ ہے کہ قرآن مجید کے نزدیک آقا اور غلام کی حیثیت ایک ہے ۔ چٹائی پر بیٹھنے والے درویش اور اطلس کی گدی کو زینت دینے والے بادشاہ میں کوئی فرق نہیں ۔
Before the tribunal of the Quran Master and salve are one, the mat of reeds Coequal with the throne of rich brocade.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور