صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 12 - در معنی حریت اسلامیه و سر حادثهٔ کربلا

بخش 12 - در معنی حریت اسلامیه و سر حادثهٔ کربلا

بیان حریتِ اسلامیہ اور سرِ حادثہَ کربلا

Concerning Muslim Freedom, and the secret of the Tragedy of Kerbala

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
صداکار: فاطمه زندی
Toggle stanza 1
11
هر که پیمان با هوالموجود بست
گردنش از بند هر معبود رست

جس نے حاضر و ناظر اور زندہ و قائم خدا سے عبودیت کا رشتہ استوار کر لیا اس کی گردن ہر معبود کی بندش سے آزاد ہو گئی ۔ (مراد یہ ہے کہ خدا سے رشتہ استوار کر لینے کے بعد انسان نے تمام معبودوں کو ٹھکرا دیا ہے) ۔

Whoever maketh compact with the One That is, hath been delivered from the yoke Of every idol.

22
مؤمن از عشق است و عشق از مؤمنست
عشق را ناممکن ما ممکن است

مومن کی ہستی عشق پر موقوف ہے، عشق کا وجود مومن پر موقوف ہے ۔ عشق ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے ۔

Whoever maketh compact with the One That is, hath been delivered from the yoke Of every idol.

33
عقل سفاک است و او سفاک تر
پاک تر چالاک تر بیباک تر

عقل بڑی سنگدل اور خونریز ہے لیکن عشق اس سے بھی زیادہ خونریز ہے ۔ عشق اغراض سے پاک ہوتا ہے کبھی کسی مقصد کے لیے ناجائز تدبیریں گوارا نہیں کرتا ۔ راہ حق میں اس تیزی سے قدم اٹھاتا ہے کہ عقل کبھی وہ تیزی اختیار کر ہی نہیں سکتی ۔ سب سے آخر میں یہ کہ عشق ہر خوف اور ڈر سے کاملاً آزاد ہوتا ہے ۔

Reason is ruthless; Love is even more, Purer, and nimbler, and more unafraid.

44
عقل در پیچاک اسباب و علل
عشق چوگان باز میدان عمل

عقل اپنے مقصد کے لیے قدم اٹھانے سے پہلے اسباب اور وسائل پر غور کرتی ہے اور یہ سوچتی ہے کہ فلاں قدم اٹھانے کا نتیجہ کیا ہو گا ۔ اس کے برعکس عشق عمل کے میدان کا شہ سوار ہوتا ہے وہ ہمیشہ آگے بڑھتا ہے ، سرگرم ہوتا ہے کہ اسباب اور ساتھیوں کا کیا حال ہے ۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا ۔ وہ صرف یہ جانتا ہے کہ فلاں کام اگر حق ہے تو ضرور ہونا چاہئے اور اس کے لیے میدان میں اتر آتا ہے ۔

Lost in the maze of cause and of effect Is Reason; Love strikes boldly in the field Of Action.

55
عشق صید از زور بازو افکند
عقل مکار است و دامی میزند

عشق اپنے بازو کی قوت سے شکار کرتا ہے لیکن عقل فطرتاً مکار ہے اور وہ مکر و فریب کے جال پھیلاتی رہتی ہے ۔

Crafty Reason sets a snare; Love overthrows the prey with strong right arm.

66
عقل را سرمایه از بیم و شک است
عشق را عزم و یقین لاینفک است

عقل کا سارا سرمایہ خوف اور شک و شبہ ہے ۔ اس کے برعکس عشق سے عزم اور یقین جدا ہو ہی نہیں سکتے ۔

Reason is rich in fear and doubt; but Love Has firm resolve, faith indissoluble.

77
آن کند تعمیر تا ویران کند
این کند ویران که آبادان کند

عقل جو تعمیر کرتی ہے اس کا نتیجہ ویرانی ہوتا ہے ۔ لیکن عشق اس غرض سے ویران کرتا ہے کہ اسے مستقبل طور پر آباد کر دے ۔ عقل کی تعمیر میں تخریب کا پہلو ہوتا ہے جبکہ عشق کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ۔

Reason constructs, to make a wilderness; Love lays wide waste, to build all up anew.

88
عقل چون باد است ارزان در جهان
عشق کمیاب و بهای او گران

عقل اس دنیا میں ہوا سے بھی زیادہ سستی ہے ۔ عشق بہت کمیاب ہے اور اسکی قیمت بہت زیادہ ہے ۔

Reason is cheap, and plentiful as air; Love is most scarce to find, and of great price.

99
عقل محکم از اساس چون و چند
عشق عریان از لباس چون و چند

عقل چون و چند کی بنیاد پر مستحکم ہوتی ہے ۔ عشق چون و چند کا روادار ہو ہی نہیں سکتا وہ اس لباس سے عاری ہے ۔

Reason stands firm upon phenomena, But Love is naked of material robes.

1010
عقل می گوید که خود را پیش کن
عشق گوید امتحان خویش کن

عقل کہتی ہے کہ اپنے آپ کو آگے بڑھا یعنی دولت، عزت، حکومت اور شہرت حاصل کر ۔ عشق کہتا ہے کہ آگے بڑھانے کا کیا مطلب اپنے آپ کو آزمانا چاہیے ۔

Reason says, “Thrust thyself into the fore;” Love answers “Try thy heart, and prove thyself.”

1111
عقل با غیر آشنا از اکتساب
عشق از فضل است و با خود در حساب

عقل کا سارا زور خودنمائی پر ہے جبکہ عشق اپنا محاسبہ خود کرتا ہے ۔ عقل کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ کسب سے حاصل کی جاتی ہے اور مشق سے بڑھ سکتی ہے ۔ دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اسے غیر سے آشنائی پیدا کر نے میں تامل نہیں ہوتا (بشرطیکہ کوئی فائدہ پہنچنے کی امید ہو ) ۔ اس کے برعکس عشق صرف خدا کے فضل پر موقوف ہے ۔ غیر سے اسے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ۔ وہ ہروقت اپنے ہی حساب اور جانچ پڑتال میں مصروف رہتا ہے ۔

Reason by acquisition is informed Of other; Love is born of inward grace And makes account with self.

1212
عقل گوید شاد شو آباد شو
عشق گوید بنده شو آزاد شو

عقل کہتی ہے کہ عیش و عشرت اور موج مستی میں کھو کر زندگی گزار ۔ جبکہ عشق کہتا ہے کہ اللہ کا فرمانبردار بندہ بن جا اور ہر غلامی سے آزاد ہو کر زندگی گزار ۔

Reason declares, “Be happy and be prosperous”; Love replies, “Become a servant, that thou mayest be free.”

1313
عشق را آرام جان حریت است
ناقه اش را ساربان حریت است

عشق کے لیے حریت آرام، سکون اور راحت کا باعث ہے ۔ اس کے ناقے (اونٹنی) کی ساربا ن حریت ہے ۔

Freedom brings full contentment to Love’s soul, Freedom, the driver of Love’s riding-beast.

1414
آن شنیدستی که هنگام نبرد
عشق با عقل هوس پرور چه کرد

تو نے سنا کہ لڑائی کے وقت عشق نے ہوس پرور عقل سے کیا سلوک کیا (لڑائی سے مراد جنگ کربلا ہے ۔ عشق کے علمدار حضرت امام حسین علیہ السلام ہیں اور عقل ہوس پرور یزید کو کہا گیا ہے )

Hast thou not heard what things in time of war Love wrought with lustful Reason?

1515
آن امام عاشقان پور بتول
سرو آزادی ز بستان رسول

وہ عاشقوں کے امام اور پیشوا حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے فرزند ارجمند جنھیں رسول اللہ کے باغ میں سرو آزاد کی حیثیت حاصل تھی ۔

would speak Of that great leader of all men who love Truly the Lord, that upright cypress-tree Of the Apostle’s garden,

1616
الله الله بای بسم الله پدر
معنی ذبح عظیم آمد پسر

ان کے والد ماجد حضرت علی علیہ السلام بسم اللہ کی ب تھے اور فرزند یعنی امام حسین قرآن مجید کی آیت ، وفدینہ بذبح عظیم کا مطلب و مفہوم بن گئے، ۔

Ali’s son, Whose father led the sacrificial feast That he might prove a mighty offering;

1717
بهر آن شهزاده ی خیر الملل
دوش ختم المرسلین نعم الجمل

سب سے بہتر امت یعنی ملت اسلامیہ کے اس شہزادے کی شان یہ تھی کہ رسول خاتم کا دوش مبارک اس کے لیے اچھی سواری قرار پایا ۔

And for that prince of the best race of men The Last of the Apostles gave his back To ride upon, a camel passing fair.

1818
سرخ رو عشق غیور از خون او
شوخی این مصرع از مضمون او

عشق غیور حضرت امام حسین ہی کے خون سے سرخرو ہوا ۔ انہیں کے مضمون سے اس مصرع میں شوخی پیدا ہوئی ۔ عشق کو غیور اس لیے کہا کہ وہ باطل کے مقابلے میں دبنا یا پیچھے ہٹنا گوارا ہی نہیں کر سکتا ۔

Crimsoned his blood the cheek of jealous Love (Which theme adorns my verse in beauty bold)

1919
در میان امت ان کیوان جناب
همچو حرف قل هو الله در کتاب

امت کے درمیان ان کی حیثیت وہی تھی جو سورۃ اخلاص کو قرآن کے درمیان حاصل ہے ۔ یعنی جس طرح سورہ اخلاص کو قرآن مجید میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے اسی طرح امام حسین کو ملت اسلامیہ میں ایک خاص حیثیت حاصل ہے ۔

Who is sublime in our community As Say, the Lord is God exalts the Book.

2020
موسی و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیات آید پدید

موسیٰ اور فرعون ، شبیر اور یزید یہ دو قوتیں ہیں جو زندگی سے ظاہر ہوئیں ۔ ان میں حضرت موسیٰ اور حضرت امام حسین حق کے علمدار ہیں ا ور فرعون اور یزید نے باطل کی پاسداری کی ۔ دونوں قوتیں ابتدا ہی سے چلی آ رہی ہیں ان کے درمیان کشمکش بھی ہوتی رہی ہے ۔

Moses and Pharaoh, Shabbir and Yazid – From Life spring these conflicting potencies;

2121
زنده حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است

تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ حق قوت شبیری سے زندہ ہے ۔ حضرت موسیٰ اور حضرت امام حسین جیسے بزرگ اس کی خدمت انجام دیتے ہیں ۔ باطل آخر حسرت کی موت کا داغ بن جاتا ہے ۔ (حق کا بول بالا قوت خیر سے ہوتا ہے جبکہ باطل قوتوں کا انجام ذلت و خواری ہے ۔ ) ۔

Truth lives in Shabbir’s strength; Untruth is that Fierce, final anguish of regretful death.

2222
چون خلافت رشته از قرآن گسیخت
حریت را زهر اندر کام ریخت

جب خلافت نے قرآن مجید سے تعلق توڑ لیا تو حریت کے حلق میں زہر ڈال دیا گیا ۔

And when the Caliphate first snapped its thread From the Quran, in Freedom’s throat was poured A fatal poison

2323
خاست آن سر جلوه ی خیرالامم
چون سحاب قبله باران در قدم

یہ حالت دیکھ کر سب سے بہتر امت کا وہ نمایاں تر جلوہ یوں اٹھا جیسے قبلے کی جانب سے گھنگھور گھٹا اٹھتی ہے اور اٹھتے ہی جل تھی ایک کر دیتی ہے ۔

like a rain-charged cloud The effulgence of the best of peoples rose Out of the West,

2424
بر زمین کربلا بارید و رفت
لاله در ویرانه ها کارید و رفت

یہ گھنگھور گھٹا کربلا کی زمین پر برسی اور چھٹ گئی ۔ ویرانوں کو لالہ زار بنا دیا اور چل دی ۔

to spill on Kerbala, And in that soil, that desert was before, Sowed, as he died, a field of tulip-blood.

2525
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد

قیامت تک کے لیے ظلم و جور اور مطلق العنانی کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ۔ امام حسین کی موج ِ خون نے حریت کا گلزار کھلا دیا ۔

There, till the Resurrection, tyranny Was evermore cut off; a garden fair Immortalizes where his lifeblood surged.

2626
بهر حق در خاک و خون غلتیده است
پس بنای لااله گردیده است

امام حسین حق کی خاطر خاک و خون میں تڑپے ، اس وجہ سے کلمہ توحید لا الہ کی بنیاد بن گئے ۔ امام حسین نے یہ جنگ اس لیے لڑی کہ خلافت ان اصولوں کے مطابق قائم ہو جو قرآن مجید نے پیش کئے ۔

For Truth alone his blood dripped to the dust, Wherefore he has become the edifice Of faith in God’s pure Unity.

2727
مدعایش سلطنت بودی اگر
خود نکردی با چنین سامان سفر

ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ خود سلطنت حاصل کریں ۔ اگر وہ سلطنت کے خواہاں ہوتے تو اتنے تھوڑے ساتھیوں اور معمولی سامان کے ساتھ کیوں مکہ معظمہ سے کوفہ کی طرف جاتے ۔

Had his ambition been for earthly rule, Not so provisioned would he have set forth On his last journey,

2828
دشمنان چون ریگ صحرا لاتعد
دوستان او به یزدان هم عدد

ان کے دشمن صحرا کی ریت کے ذروں کی طرح بے شمار تھے ۔ دوستوں اور رفیقوں کی تعداد اتنی ہی تھی جتنی یزدان کے اعداد کی ہے ۔ یزدان کے عدد بہ قاعدہ ابجد بہتر ہوتے ہیں ۔ امام حسین کے تمام ساتھی بھی کربلا میں اتنے ہی تھے ۔

having enemies Innumerable as the desert sands, Equal his friends in number to God’s Name.

2929
سر ابراهیم و اسمعیل بود
یعنی آن اجمال را تفصیل بود

امام حسین حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی قربانی کے آئینہ دار تھے ۔ یعنی وہ قربانی تو اجمال کی حیثیت رکھتی تھی اس کی تفصیل امام حسین نے پیش کر دی ۔

The mystery that was epitomized In Abraham and Ishmael through his life And death stood forth at last in full revealed.

3030
عزم او چون کوهساران استوار
پایدار و تند سیر و کامگار

ان کا عزم پہاڑوں کی طرح پختہ ، پائیدار اور تیز اور کامیاب تھا ۔ کیوں اس لیے کہ تلوار صرف دین کی عزت کے واسطے بے نیام ہو سکتی ہے ۔

Firm as a mountain-chain was his resolve, Impetuous, unwavering to its goal

3131
تیغ بهر عزت دین است و بس
مقصد او حفظ آئین است و بس

ان کی غرض یہ تھی کہ امام نے صرف دین کے لیے تلوار اٹھائی اور اس میں ان کی ذاتی غرض کوئی نہ تھی ۔

The Sword is for the glory of the Faith And is unsheathed but to defend the Law.

3232
ماسوی الله را مسلمان بنده نیست
پیش فرعونی سرش افکنده نیست

یاد رہے کہ مسلمان خدا کے سوا کسی کا غلام نہیں ہو سکتا اس کا سر کسی فرعون کے آگے نہیں جھک سکتا ۔

The Muslim, servant unto God alone Before no Pharaoh casteth down his head.

3333
خون او تفسیر این اسرار کرد
ملت خوابیده را بیدار کرد

امام حسین کے خون نے دین حقہ اسلام کا یہ راز کھول کر بیان کر دیا اور سوئی ہوئی ملت کو جگا دیا ۔ یعنی ملت اس حق سے غافل تھی امام حسین نے اس کی غفلت دور کر دی ۔

His blood interpreted these mysteries, And waked our slumbering community.

3434
تیغ لا چون از میان بیرون کشید
از رگ ارباب باطل خون کشید

انھوں نے لا کی تلوار میان سے باہر کھینچی تو صاحبان باطل کی رگوں سے خون نکال دیا ۔

He drew the sword There is none other god And shed the blood of them that served the lie;

3535
نقش الا الله بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما نوشت

انھوں نے لا الہ یعنی توحید کا نقش صحرا کے سینے پر بٹھا دیا ۔ یہ نقش ہماری نجات کے عنوان کی سطر لکھ دی ۔

Inscribing in the wilderness save God He wrote for all to read the exordium Of our salvation.

3636
رمز قرآن از حسین آموختیم
ز آتش او شعله ها اندوختیم

ہم نے قرآن مجید کی رمز امام حسین سے سیکھی ہے اور انہیں کی روشن کی ہوئی آگ سے شعلے جمع کرتے رہے ہیں ۔

From Husain we learned The riddle of the Book, and at his flame Kindled our torches.

3737
شوکت شام و فر بغداد رفت
سطوت غرناطه هم از یاد رفت

شام کی شوکت مٹ گئی ۔ بغداد کا جاہ و جلال رخصت ہو گیا ۔ غرناطہ کی شا ن و عظمت یاد بھی نہ رہی ۔

Vanished now from ken Damascus might, the splendour of Baghdad, Granada’s majesty, all lost to mind;

3838
تار ما از زخمه اش لرزان هنوز
تازه از تکبیر او ایمان هنوز

اس کے مقابلے میں امام حسین کی مضراب ہمارے ساز کے تار اب تک بدستور چھیڑ رہی ہے ۔ اور اس سے نغمے نکل رہے ہیں ۔ اب تک ان کے نعرہ تکبیر سے ہمارے ایمان تازہ ہوتے ہیں ۔

Yet still the strings he smote within our soul Vibrate, still ever new our faith abides In his Allahu Akbar

3939
ای صبا ای پیک دور افتادگان
اشک ما بر خاک پاک او رسان

اے صبا اے دور افتادہ لوگوں کی قاصد، ہمارے آنسووَں کا ہدیہ امام حسین کے حرم مقدس پر پہنچا دے ۔

Gentle breeze, Thou messenger of them that are afar, Bear these my tears to lave his holy dust.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

بود معماری ز اقلیم خجند

در فن تعمیر نام او بلند

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 11 - حکایت سلطان مراد و معمار در معنی مساوات اسلامیه

اگلی نظم

جوهر ما با مقامی بسته نیست

باده ی تندش بجامی بسته نیست

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 13 - در معنی اینکه چون ملت محمدیه مؤسس بر توحید و رسالت است پس نهایت مکانی ندارد

◆

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00
◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور

0:000:00