صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 13 - در معنی اینکه چون ملت محمدیه مؤسس بر توحید و رسالت است پس نهایت مکانی ندارد

بخش 13 - در معنی اینکه چون ملت محمدیه مؤسس بر توحید و رسالت است پس نهایت مکانی ندارد

چونکہ ملتِ محمدیہ کی بنیاد توحید و رسالت پر ہے اس لیے حدود مکانی سے بے نیاز ہے

That since the Muhammadan Community is founded upon belief in one god and apostleship, therefore it is not bounded by space

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

جوهر ما با مقامی بسته نیست

باده ی تندش بجامی بسته نیست

ہماری ملت کا جوہر کسی مقام سے وابستہ نہیں ہے ۔ یہ ایک تند شراب ہے جسے کسی خاص پیالے کا پابند نہیں بنایا جا سکتا (ملت اسلامیہ جغرافیائی حدود سے ماورا ہے ) ۔

Our Essence is not bound to any Place; The vigour of our wine is not contained In any bowl

22

هندی و چینی سفال جام ماست

رومی و شامی گل اندام ماست

بے شک ہمارے جام ہندی و چینی مٹی سے بنے ہیں ۔ رومی و شامی ہمارے جسم کی مٹی ہیں ۔

Chinese and Indian Alike the sherd that constitutes our jar, Turkish and Syrian alike the clay Forming our body;

33

قلب ما از هند و روم و شام نیست

مرز و بوم او به جز اسلام نیست

ہمارے دل کا تعلق ہند، روم و شام سے نہیں ہے ان کا وطن اسلام کے سوا اور کوئی نہیں ہے ۔

neither is our heart Of India, or Syria, or Rum, Nor any fatherland do we profess Except Islam.

44

پیش پیغمبر چو کعب پاک زاد

هدیه یی آورد از بانت سعاد

ہمارے رسول کی خدمت میں حضرت کعب نے جو پاک سرشت تھے قصیدہ بانت سعاد بہ طور ہدیہ پیش کیا ۔

When pure-descended Ka‘ab Brought to the Prophet for an offering His famed Banat Su’ad

55

در ثنایش گوهر شب تاب سفت

سیف مسلول از سیوف الهند گفت

اس قصیدے میں رسول اللہ کی مدح و نعت میں بڑے بیش قیمت موتی پروئے ۔ اس میں کہا کہ حضور ہندوستان کی تلواروں میں سے ایک سونتی ہوئی تلوار ہیں ۔

whereon he strung The night-illuming jewels of his praise, And there addressed him as an unsheathed sword Of India

66

آن مقامش برتر از چرخ بلند

نامدش نسبت به اقلیمی پسند

حضور اکرم کا مقام آسمان سے بھی بلند تھا اور کسی ایک ولایت سے نسبت پسند نہ آئی ۔

it did not please his heart (Being sublimer than high heaven’s sphere) To be attributed to any clime;

77

گفت سیف من سیوف الله گو

حق پرستی جز براه حق مپو

فرمایا اللہ کی تلوار میں سے سونتی ہوئی تلوار کہو ۔ تم حق پرست ہو ، راہ حق کے سوا کہیں گامزن نہ ہو ۔ (ان اشعار میں جس نکتے پر زور دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ رسول اللہ نے کسی سرزمین سے نسبت پسند نہ فرمائی ۔ اسی طرح حضور ملت کو کسی مقام سے وابستہ نہ دیکھنا چاہتے تھے ۔ حالانکہ کعب نے سیف الہند صرف ہندوستانی تلواروں کی برتری کی بنا پر کہا تھا ۔ حضور نے فرمایا کہ سیف الہند کی جگہ سیوف اللہ کہو ) ۔

And so the Prophet answered, “Rather say A Sword of God, if Truth thou worshippest, No other pathway travel but of Truth.”

88

همچنان آن رازدان جزو و کل

گرد پایش سرمه ی چشم رسل

اسی طرح اس ذات پاک نے جس پر چھوٹی بڑی چیزوں کے بھید کھلے ہوئے تھے اور جس کی گرد پا انبیاء کی آنکھوں کے لیے سرمہ تھی ۔

Full well he knew the mystery of Part And Whole, the very dust beneath his feet Being the magical collyrium Laid on the eyes of all God’s messengers;

99

گفت با امتز دنیای شما

دوست دارم طاعت و طیب و نسا

امت سے فرمایا کہ تمہاری دنیا سے مجھے نماز، خوشبو اور عورتیں پسند ہیں ۔ یہاں دو باتوں کی طرف سرسری اشارہ ضروری ہے ۔ جن تین چیزوں کا ذکر ہے ان کے متعلق غلط فہمی نہ ہونی چاہیے ۔ اول نماز کو آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا، گویا انسان کے لیے اہم اور محبوب ترین مصروفیت خدا کی عبادت ہے ۔ دوم خوشبو کی پسندیدگی حسن ذوق اور لطافت فطرت کی روشن دلیل ہے ۔ سوم نساء سے محبت انسانی زندگی کا ایک پاکیزہ وظیفہ ہے ۔ عورت ماں ہے یا بیوی یا بیٹی ، تینوں حالتوں میں اس سے محبت فطرت سلیمہ کا اظہار ہے ۔

And so he spoke to his community, “Of all this world of yours, I love alone Obedient hearts, sweet perfumes, women chaste.”

1010

گر ترا ذوق معانی رهنماست

نکته ئی پوشیده در حرف «شما»ست

اگر معنی کا ذوق تیرا رہنما ہے تو اس حرف، شما میں ایک خاص نکتہ چھپا ہوا ہے یعنی رسول اللہ نے فرمایا کہ تمہاری دنیا میں سے مجھے تین چیزیں پسند ہیں ۔

If the perception of realities Guideth thy steps, the subtlety confined In that word yours will not be hid from thee.

1111

یعنی آن شمع شبستان وجود

بود در دنیا و از دنیا نبود

اس سے ثابت ہوا کہ پاک ذات جسے ہستی کے شبستان میں شمع کی حیثیت حاصل تھی یعنی جس کی وجہ سے اندھیرے کی جگہ اجالا ہوا ۔ د نیا میں موجود رہی لیکن دنیا سے کوئی تعلق پیدا نہ کیا ۔

Indeed, that lantern of all beings’ night Dwelt in the world, but was not of the world;

1212

جلوه ی او قدسیان را سینه سوز

بود اندر آب و گل آدم هنوز

جب آدم علیہ السلام آب و گل ہی میں تھے یعنی پیدا نہیں ہوئے تھے اس وقت حضور کا جلوہ فرشتوں کے سینوں میں حرارت پیدا کر رہا تھا (یہاں اس مشہور عام حدیث کی طرف ہے کہ میں اس وقت بھی نبی تھا جب آدم مٹی اور پانی کے درمیان تھے) ۔

His splendour, that consumed the adoring breasts Of holy angels, shone while Adam yet Was clay and water.

1313

من ندانم مرز و بوم او کجاست

این قدر دانم که با ما آشناست

مجھے معلوم نہیں کہ حضور کا وطن کہاں ہے صرف اتنا جانتا ہوں کہ حضور ہم سے آشنا تھے ۔

Of what land he was I know not; this much only I do know, He is our comrade.

1414

این عناصر را جهان ما شمرد

خویشتن را میهمان ما شمرد

حضور عناصر کے اس مجموعے کو ہمارا جہان شمار فرماتے تھے اور اپنے آپ کو ہمارا مہمان قرار دیتے تھے ۔ (حضور اس انداز سے یہاں رہے گویا مہمان تھے، اس دنیا سے تعلق محض اتنا تھا کہ ناگزیر تھا) ۔

These base elements He reckoned for our world, himself our guest.

1515

زانکه ما از سینه جان گم کرده ایم

خویش را در خاکدان گم کرده ایم

ہمارے سینوں میں جانیں نہیں رہیں اور ہم اپنے آپ کو مٹی کے اس گھروندے میں گم کر بیٹھے ۔

We, who have lost the souls within our breasts, Have therefore lost ourselves in this mean dust.

1616

مسلم استی دل به اقلیمی مبند

گم مشو اندر جهان چون و چند

اگر تو مسلمان ہے تو دل کسی ایک ولایت سے وابستہ نہ کر اور چون و چند کے اس جہان میں گم نہ ہو (مادی دنیا سے دل نہ لگا) ۔

Thou art a Muslim, do not bind thy heart. To any clime, nor lose thyself within This world dimensionate.

1717

می نگنجد مسلم اندر مرز و بوم

در دل او یاوه گردد شام و روم

مسلمان کسی سرزمین کے اندر نہیں سماتا ۔ اس کے دل میں شام و روم خود گم ہو جاتے ہیں ۔

The Muslim true Is not contained in any land on earth; Syria and Rum are lost within his heart

1818

دل بدست آور که در پهنای دل

می شود گم این سرای آب و گل

تو دل ہاتھ میں لے (دل پر قابو پا) خود میں دل زندہ پیدا کر کیونکہ دل کی وسعت میں مٹی اور پانی کی یہ دنیا گم ہو جاتی ہے ۔

Grasp thou the heart, and in its vast expanse Lose this mirage of water and of clay.

1919

عقده ی قومیت مسلم گشود

از وطن آقای ما هجرت نمود

ہمارے آقا یعنی رسول اللہ نے وطن سے ہجرت کی اور اس طرح اسلامی قومیت کا عقدہ کھول دیا ۔ (مراد یہ ہے کہ رسول اللہ نے مکہ معظمہ کو چھوڑ کر مدینہ منورہ میں رہائش اختیار کر لی ۔

Our Master, fleeing from his fatherland, Resolved the knot of Muslim nationhood.

2020

حکمتش یک ملت گیتی نورد

بر اساس کلمه ئی تعمیر کرد

رسول اللہ کی حکمت نے ایک ایسی ملت کی بنیاد رکھی جو پوری دنیا میں پھیلی ہوئی تھی اور یہ بنیاد کلمہ توحید پر رکھی (کلمہ توحید ہی تمام مسلمانوں کے درمیان سب سے بڑا اور بنیادی رشتہ ہے) ۔

His wisdom founded one community— The world its parish—on the sacred charge To civilize

2121

تا ز بخششهای آن سلطان دین

مسجد ما شد همه روی زمین

پھر دین کے سلطان یعنی رسول اللہ کی ایک اورنوازش ملاحظہ ہو اور وہ یہ کہ روئے زمین کو ہماری سجدہ گاہ بنا دیا (باقی مذہبوں کی عبادت صرف ان مقامات میں ہو سکتی ہے جو خاص اس غرض سے تعمیر کیے گئے ہوں لیکن مسلمانوں کے لیے کوئی پابندی نہیں ۔ اقبال نے اس سے یہ نکتہ پیدا کیا کہ روئے زمین کو سجدہ گاہ قرار دے دینے سے ملکی انتسابات ختم ہو گئے، گویا اسے بھی اپنے اصل مقصد یعنی ملت کی آفاقیت کا ثبوت بنا دیا) ۔

that Ruler of our faith Of his abundant bounty gave the earth Entire to be the confines of our mosque.

2222

آنکه در قرآن خدا او را ستود

آن که حفظ جان او موعود بود

رسول اللہ کی تعریف تو خود قرآن میں آئی ہے ۔ خدا نے آپ سے حفاظت جان کا وعدہ کر لیا تھا ۔ قرآن مجید میں آیا ہے کہ ، اور اللہ تمہیں انسانوں کے شر سے محفوظ رکھے گا ۔

He, whom god eulogized in the Quran And promised He would save his soul alive,

2323

دشمنان بی دست و پا از هیبتش

لرزه بر تن از شکوه فطرتش

دشمن آپ کی ہیبت سے بے دست و پا ہو جاتے تھے اور آپ کی فطرت کا شکوہ ان کے جسموں پر لرزہ طاری کر دیتا تھا

Struck hapless awe into his enemies So that they trembled at his majesty.

2424

پس چرا از مسکن آبا گریخت

تو گمان داری که از اعدا گریخت

پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے آبا کا وطن کیوں چھوڑا کیا تیرے دل میں یہ خیال ہے کہ دشمنوں کے ڈر سے بھاگ گئے

Why fled he, then, from his ancestral home? Supposest thou he ran before his foes?

2525

قصه گویان حق ز ما پوشیده اند

معنی هجرت غلط فهمیده اند

اقبال کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے دشمنوں کے خوف سے وطن نہیں چھوڑا ، قصہ گو واعظوں نے سچی بات ہم سے چھپا لی اور ہجرت کے معنی غلط بیان کر دے ۔

The chroniclers, ill understanding what The Flight portends, have hid the truth from us.

2626

هجرت آئین حیات مسلم است

این ز اسباب ثبات مسلم است

ہجرت مسلمان کی زندگی کا دستور العمل ہے ۔ یہ بھی ان اسباب میں سے ہے جس سے ملت کے قدم مضبوط و مستحکم ہوتے ہیں ۔

Flight is the law that rules the Muslim’s life, And is a cause of his stability;

2727

معنی او از تنک آبی رم است

ترک شبنم بهر تسخیر یم است

ہجرت کا مطلب یہ ہے کہ جہاں پانی کم ہو وہاں سے چلے جاوَ ۔ شبنم کو چھوڑ دو لیکن اس مقصد سے کہ تم دریا کو قبضے میں لے آوَ ۔

Its meaning is to leap from shallowness, To quit the dew, the ocean to subdue.

2828

بگذر از گل گلستان مقصود تست

این زیان پیرایه بند سود تست

تو پھول کو چھوڑ دے، تیرا نصب العین وہ باغ ہے جو پھولوں سے لبریز ہو ۔ تو پھول کو چھوڑنے کو اپنا نقصان سمجھتا ہے بظاہر یہ نقصان ہے لیکن ایسا نقصان جس کی تراش خراش سے بہت بڑے نفع کا سروسامان ہوتا ہے ۔

Transgress the bloom; the garden is thy goal; The loss of less more vastly gain adorns.

2929

مهر را آزاده رفتن آبروست

عرصه ی آفاق زیر پای اوست

دیکھو سورج کی عزت و آبرو اس کی آزادانہ گردش میں ہے ۔ اس لیے عرصہ آفاق (دنیا کا میدان ) اس کے پاؤں کے نیچے ہے ۔

The sun’s great glory is in ranging free; The skies’ arena lies beneath his feet.

3030

همچو جو سرمایه از باران مخواه

بیکران شو در جهان پایان مخواه

تو ندی کی طرح بارش سے پانی کا سرمایہ نہ لے ۔ تو دنیا میں کناروں سے بے نیاز ہو جا اور حدود نہایت طلب نہ کر ۔ تو حدود کا پابند نہ ہو بلکہ تو پیش نظر رکھ ۔

Be not a streamlet, seeking wealth from rain; Be boundless; quest no limit in the world.

3131

بود بحر تلخ رو یک ساده دشت

ساحلی ورزید و از شرم آب گشت

کبھی سوچا کہ ہیبت ناک (یا کڑوے پانی کے) سمندر کی حقیقت کیا ہے یہ ایک چٹیل میدان تھا یا جنگل تھا جب اس نے ساحل اختیار کر لیا تو اس کی ہستی محدود ہو گئی تو شرم سے پانی پانی ہو گیا ۔

The frowning sea was once a simple plain, Played being shore, and liquefied of shame.

3232

بایدت آهنگ تسخیر همه

تا تو می باشی فراگیر همه

تجھے چاہیے کہ ہر شے کی تسخیر کا پختہ ارادہ کرے اسی طرح تو تمام چیزوں کو اپنے اندر سمیٹ لینے کا اہل بن جائے گا ۔

Have thou the will to master everything, That thou mayest win dominion over all;

3333

صورت ماهی به بحر آباد شو

یعنی از قید مقام آزاد شو

مچھلی کی طرح سمندر میں آباد ہو جا ، یعنی کسی ایک مقام کا پابند نہ رہ (جس طرح دریا میں مچھلی جہاں چاہتی ہے چلی جاتی ہے اور آزادانہ زندگی بسر کرتی ہے اسی طرح مسلمان کو بھی مقامیت سے آزاد ہونا چاہیے ۔ )

Plunge like a fish, and populate the sea; Shake off the chains of too constricted space.

3434

هر که از قید جهات آزاد شد

چون فلک در شش جهت آباد شد

جس شخص نے اطراف و حدود کی قید سے آزادی حاصل کر لی وہ آسمان کی طرح چھ طرفوں میں آباد ہو گیا ۔ یہ خصوصیت آسمان کو اس وجہ سے ملی کہ اس نے اپنے آپ کو اطراف کی قید سے آزاد کر لیا ۔

He who has burst from all dimension’s bonds Ranges through all directions, like the sky.

3535

بوی گل از ترک گل جولانگر است

در فراخای چمن خود گسترست

خوشبو پھول سے نکلتی ہے تو جولانی اختیار کرتی ہے ۔ یعنی ہر طرف پھیلتی ہے اور باغ کی وسعت میں اپنے آپ کو پھیلا دیتی ہے ۔

The rose’s scent by parting from the rose Leaps far abroad, and through the garden’s breadth Disseminates itself.

3636

ای که یک جا در چمن انداختی

مثل بلبل با گلی در ساختی

اے مخاطب تو نے باغ میں اپنے آپ کو ایک جگہ وابستہ کر رکھا ہے ۔ بلبل کی طرح تو نے ایک پھول سے عہد محبت باندھ لیا ہے ۔

Thou, who hast snatched One corner of the meadow for thine own, Like the poor nightingale art satisfied To serenade one rose.

3737

چون صبا بار قبول از دوش گیر

گلشن اندر حلقه ی آغوش گیر

تجھے چاہیے کہ صبا کی طرح اپنے کندھے سے قبول کا بوجھ اتار دے، یعنی محتلف خوشبوئیں اپنے دامن میں سمیٹنے کی روش ترک کر دے اور پورے باغ کو اپنی آغوش میں لے لے ۔

Be like the breeze; Cast off the burden of complacency From thy broad shoulders; in thy wide embrace Gather the garden

3838

از فریب عصر نو هشیار باش

ره فتد ای رهرو هشیار باش

جدید دور کے فریب سے ہوشیار ، خبردار ۔ ذرا سوچ سنبھل کر قدم اٹھا کر چلتا رہ ۔ اے چلنے والے ذرا چوکس ہو کر چل ۔

Be thou wary; lo, These times are full of treachery, the way Beset by brigands; wayfarer, beware!

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

هر که پیمان با هوالموجود بست

گردنش از بند هر معبود رست

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 12 - در معنی حریت اسلامیه و سر حادثهٔ کربلا

اگلی نظم

آنچنان قطع اخوت کرده اند

بر وطن تعمیر ملت کرده اند

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 14 - در معنی اینکه وطن اساس ملت نیست

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور