وطن اساسِ ملت نہیں ہے
That the country is not the foundation of the community
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
آنچنان قطع اخوت کرده اند
بر وطن تعمیر ملت کرده اند
اہل یورپ نے وطن کی بنا پر قوم کی تعمیر شروع کی، اس طرح اخوت کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ۔
Now brotherhood has been so cut to shreds That in the stead of the community The Country has been given pride of place In men’s allegiance and constructive work;
تا وطن را شمع محفل ساختند
نوع انسان را قبائل ساختند
جس سے ان لوگوں نے وطن کو اپنی محفل کی شمع بنا لیا ، عالم انسانیت کو قبیلوں میں بانٹ کر رکھ دیا ۔
The Country is the darling of their hearts, And wide humanity is whittled down Into dismembered tribes.
جنتی جستند در بئس القرار
تا «احلوا قومهم دار البوار»
انھوں نے برے ٹھکانے میں بہشت کی تلاش شروع کی ۔ یہاں تک کہ اپنے گروہ کو ہلاکت میں کے گھر میں جا اتارا
Men thought to find Paradise in that miserable abode Of ruin where they made the peoples dwell.
این شجر جنت ز عالم برده است
تلخی پیکار بار آورده است
اس شجر (نظریے) نے دنیا سے جنت کا وجود مٹا کر رکھ دیا (بہشت اس دنیا سے رخصت ہو گئی ) اور اس درخت میں قتل و خون کی تلخی کا پھل آنے لگا ۔
This tree has banished heaven from the world And borne for fruit the bitterness of war;
مردمی اندر جهان افسانه شد
آدمی از آدمی بیگانه شد
اس دنیا میں آدمیت افسانہ بن گئی اور یوں انسان ، انسان سے بیگانہ غیر ہوتا چلا گیا ۔
Humanity is but a legend, man Become a stranger to his fellow-man.
روح از تن رفت و هفت اندام ماند
آدمیت گم شد و اقوام ماند
روح جسم سے نکل گئی اور صرف جسمانی اعضا باقی رہ گئے ۔ بے شک قو میں موجود ہیں لیکن آدمیت ختم ہو گئی (یورپ رقبے کے لحاظ سے بہت چھوٹا بر اعظم ہے اور قدم قدم پر وہاں مستقل حکومتیں موجود ہیں ۔ ہر حکومت کی ایک جغرافیائی حد ہے جس کے اندر کے باشندے ایک خاص قوم کہلاتے ہیں ، گویا چھوٹے سے براعظم میں بہت سی قو میں پیدا ہو گئیں اور ہر قوم ایک دوسرے کی رقیب اور دشمن ہے ۔ ان میں بار ہا لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں ۔ اقبال فرماتے ہیں کہ یہ تمام مصیبتیں وطن کی بنا پر تنظیم ملت کے باعث پیدا ہوئیں ۔ انسانیت گروہوں میں بٹ کر رہ گئی ۔ انسانوں میں وہ جذبات باقی نہ رہے جو انسانیت کے لیے باعث شرف تھے ۔ اقبال نے سچ کہا ہے کہ مذہب حق نے انسانوں کو صلح دامن اور عدل و حق رسی کی تعلیم دے کر اور دنیا میں بہت کا سروسامان کیا تھا ۔ لیکن یورپ کی ملعون قومیت اس بہشت کو بھی کھا گئی اور اس کی جگہ خونریزی کی تلخی چھوڑ گئی ۔
The spirit has departed from the flesh, Only the seven disjointed limbs remain; Vanished is humankind, there but abide The disunited nations.
تا سیاست مسند مذهب گرفت
این شجر در گلشن مغرب گرفت
سیاست نے مذہب کی گدی سنبھال لی یعنی مذہب کی جگہ سیاست نے لے لی تو یہ درخت جس نے دنیا کو جنت سے محروم کیا تھا یورپ کے باغ میں جا لگا ۔
Politics Dethroned religion, this tree first struck root Within a Western garden
قصه ی دین مسیحائی فسرد
شعله ی شمع کلیسائی فسرد
نتیجہ یہ نکلا کہ مسیحی مذہب کا قصہ تمام ہوا اور کلیسا نے جو چراغ جلایا تھا اس کا شعلہ بجھ گیا ۔
and the tale Of Christianity was all rolled up, The radiance of the Church’s lantern dimmed;
اسقف از بی طاقتی در مانده ئی
مهره ها از کف برون افشانده ئی
لاٹ پادری بے طاقتی کے باعث عاجز اور بے بس ہو کر رہ گیا ۔ اس نے سارے مہرے ہاتھ سے پھینک دیے۔ یعنی پوپ کا اقتدار باقی نہ رہا اور وہ بے دست و پا اور عاجز ہو کر بیٹھ گیا ۔
Pope powerless and baffled, from his hand The counters scattered;
قوم عیسی بر کلیسا پازده
نقد آئین چلیپا وازده
مسیحیت کے پیرووَں نے کلیسا کو ٹھکرا دیا اور صلیبی دین کے سکے کھوٹے قرار پائے (وہ مذہب سے دور ہوتے گئے)
Jesus’ followers Spurning the Church; debased the coinage Of the True Cross’s Law.
دهریت چون جامه ی مذهب درید
مرسلی از حضرت شیطان رسید
دہریت نے مذہب کا لباس پھاڑ ڈالا اور شیطان کی بارگاہ سے ایک قاصد آ پہنچا (یہ قاصد کون تھا) ۔
When atheism Fist rent religion’s garment, there arrived That Satan’s messenger,
آن فلارنساوی باطل پرست
سرمه ی او دیده ی مردم شکست
فلارنس کا وہ باطل پرست میکاوَلی جس کے سرمے نے انسانوں کی آنکھیں پھوڑ کر رکھ دیں ۔
the Florentine Who worshipped falsehood, whose collyrium Shattered the sight of men.
نسخه ئی بهر شهنشاهان نوشت
در گل ما دانه ی پیکار کشت
اس باطل پرست نے بادشاہوں کے لیے ایک کتاب لکھی اور ہماری زمین میں جنگ و خونریزی کا بیج بو دیا (انسانیت ختم ہو گئی اور جھوٹ اور فریب میں اضافہ ہوا ) ۔
He wrote a scroll For Princes, and so scattered in our clay The seed of conflict;
فطرت او سوی ظلمت برده رخت
حق ز تیغ خامه ی او لخت لخت
اس کی فطرت انسانیت کے قافلے کو تاریکی کی جانب لے گئی ۔ حق اس کے قلم کے تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ۔
his fell genius Decamped to darkness, and his sword like pen Struck Truth asunder
بتگری مانند آزر پیشه اش
بست نقش تازه ئی اندیشه اش
آزر کی طرح اس کا پیشہ بھی یہی بت تراشی تھا ۔ چنانچہ اس کی قوت فکر نے ایک نیا نقشہ تیار کیا ۔ وہ نقشہ کیا تھا ۔
Carving images Like Azar was his trade; his fertile mind Conceived a new design;
مملکت را دین او معبود ساخت
فکر او مذموم را محمود ساخت
اس نے ایک نیا دین پیدا کیا جس میں مملکت کو معبود بنا دیا ۔ یعنی خدا کی جگہ مملکت کو دے دی ۔ اس کی حق ناشناس فکر نے نہایت بری چیز کو نہایت اچھی چیز بنا کر پیش کیا ۔
his novel faith Proclaimed the State the only worship; His thoughts the ignoble turned to praise-worthy.
بوسه تا بر پای این معبود زد
نقد حق را بر عیار سود زد
اس معبود کے پاؤں چومنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس نے نقد حق کو نفع کی کسوٹی پر پرکھنا شروع کیا (مراد یہ ہے کہ انسانوں کے تمام اعمال میں بنیادی حیثیت حق کو حاصل تھی لیکن میکاوَلی نے سیاست کو ایک ایسا مسلک پیش کیا جس میں مملکت کو مرکزی حیثیت دی گئی ۔ یعنی اس کو معبود بنا لیا گیا اور حق کے بجائے مملکت کے نفع اور فائدے کو اچھائی اور برائی کا معیار قرار دیا)
So, when the feet of this adorable He kissed, the touchstone that he introduced To test the truth was Gain.
باطل از تعلیم او بالیده است
حیله اندازی فنی گردیده است
(میکاوَلی کی تعلیم کا نتیجہ یہ نکلا کہ ) اس سے باطل کو خوب فروغ حاصل ہوا ۔ حیلہ گری اور فریب کاری ایک فن بن گئی
His doctrine caused Falsehood to flourish; plotting stratagems Became an art.
طرح تدبیر زبون فرجام ریخت
این خسک در جاده ی ایام ریخت
میکاوَلی نے ایک ایسے مسلک کی بنیاد رکھی جس کا انجام بہت برا تھا ۔ گویا اس نے زمانے کے راستے پر کانٹے بکھیر دیے ۔
A sad and sorry end Attended the regime which he devised, That caltrop which he scattered on the road Of advancing days.
شب بچشم اهل عالم چیده است
مصلحت تزویر را نامیده است
اس نے اہل جہان کی نگاہوں کے سامنے رات کی تاریکی پھیلا دی ۔ دھوکے اور فریب کا نام مصلحت رکھ دیا ۔
Dark night he wrapped About the peoples’ eyes; deception called, In his vocabulary, expediency.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور