صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 15 - در معنی اینکه ملت محمدیه نهایت زمانی هم ندارد، که دوام این ملت شریفه موعود است

بخش 15 - در معنی اینکه ملت محمدیه نهایت زمانی هم ندارد، که دوام این ملت شریفه موعود است

ملت محمدیہ بربنائے وعدہ دوام حدود زمانے سے بھی آزاد ہے

That the Muhammadan Community is also unbounded in time, since the survival of this noble community has been divinely promised

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

در بهاران جوش بلبل دیده‌ای

رستخیز غنچه و گل دیده‌ای

تو نے بہار کے موسم میں بلبل کاجوش و خروش تو دیکھا ہو گا ۔ باغ میں ہر طرف کلیوں اور پھولوں کا ہنگامہ بھی دیکھا ہو گا یعنی کثرت سے پھول کھلے ہیں ۔

In Spring thou hast heard the clamorous nightingale, And watched the resurrection of the flowers;

2

چون عروسان غنچه ها آراسته

از زمین یک شهر انجم خاسته

کلیاں دلہنوں کی طرح آراستہ ہوتی ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا زمین سے ستاروں کی پوری بستی نکل آئی ۔

The buds arrayed like brides; from the dark earth A veritable city of stars arise;

3

سبزه از اشک سحر شوییده‌ای

از سرود آب جو خوابیده‌ای

سبزے کی کیفیت عجیب ہے ۔ نہر کا پانی لوریاں گا گا کر اسے سلاتا ہے ۔

The meadow bathed in the soft tear of dawn That slumbered to the river’s lullaby.

4

غنچه ئی بر می دمد از شاخسار

گیردش باد نسیم اندر کنار

ایک غنچہ شاخ سے پھوٹ کر نکلتا ہے ۔ باد نسیم اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے ۔

A bud bursts into blossom on the branch; The breeze new-risen takes it to her breast;

5

غنچه ئی از دست گلچین خون شود

از چمن مانند بو بیرون رود

ایک غنچہ پھول چننے والے کے ہاتھ سے ٹوٹتا ہے اور خوشبو کی مانند باغ سے باہر نکل جاتا ہے ۔

A bloom lies bleeding in the gatherer’s hand And like a perfume from the mead departs.

6

بست قمری آشیان بلبل پرید

قطره ی شبنم رسید و بو رمید

قمری گھونسلا بنا لیتی ہے بلبل اڑ جاتی ہے ۔ شبنم کا قطرہ آ جاتا ہے اور خوشبو رخصت ہو جاتی ہے ۔

The ring-dove builds his nest; the nightingale Takes wing; the dew drops softly, and the scent Is sped.

7

رخصت صد لاله ی ناپایدار

کم نسازد رونق فصل بهار

اسی طرح ہزاروں گل لالہ پیدا ہوتے ہیں ۔ تھوڑی دیر کے لیے چمن کی رونق بنتے ہیں اور مرجھا جاتے ہیں ۔ تب بھی فصل بہار کی رونق نہیں گھٹتی ۔

What though these mortal tulips die, They lessen not the splendour of the spring:

8

از زیان گنج فراوانش همان

محفل گلهای خندانش همان

اس نقصان کے باوجود اس کے خزانے میں بہتات کا وہی عالم ویسے کا ویسا رہتا ہے ۔ ہنسنے والے پھولوں کی محفل بدستور سجی رہتی ہے ۔

For all the loss, its treasure still abides Abundant, still the thronging blossoms smile.

9

فصل گل از نسترن باقی تر است

از گل و سرو و سمن باقی تر است

سیوتی، گل ، چمبیلی کے پھول کھلتے ہیں اور مرجھا جاتے ہیں ۔ بہار کی فصل ان سب سے زیادہ پائیدار ہوتی ہے اور باقی رہتی ہے ۔

The season of the rose endures beyond The fragile eglantine time, yea, it outlives The rose’s self, the cypress, and the fir;

10

کان گوهر پروری گوهر گری

کم نگردد از شکست گوهری

جس کان میں گوہر بنتے اور پرورش پاتے ہیں وہ ایک گوہر کے ٹوٹ جانے سے قدروقیمت میں گھٹ نہ جائے گی اور اس کی گوہر آفرینیوں میں کوئی فرق نہ آئے گا ۔

The jewel-nourishing mine bears jewels yet, Unminished by the shattering of one gem.

11

صبح از مشرق ز مغرب شام رفت

جام صد روز از خم ایام رفت

مشرق سے صبحیں اور مغرب سے شا میں آتی جاتی رہتی ہیں ۔ زمانے کے خم سے سینکڑوں دنوں کا جام نکل جاتا ہے

Dawn is departed from the East, and night Gone from the West: their too-brief-historied up Visits no more the wine-vault of the days;

12

باده ها خوردند و صهبا باقی است

دوشها خون گشت و فردا باقی است

کئی لوگ آئے اور شراب پی گئے لیکن شراب بدستور باقی رہی ۔ کئی گزرے ہوئے کل خون میں نہا گئے ، گزر گئے ۔

Yet, though the draught be drunk, the wine remains Eternal as the morrow that awaits When all our yesterdays are drowned in death.

13

همچنان از فردهای پی سپر

هست تقویم امم پاینده تر

اسی طرح افراد زندگی کی منزلیں طے کرتے جاتے ہیں اور قو میں اپنی جگہ باقی ہیں بلکہ افراد کی آمد و رفت سے قوموں کا استحکام زیادہ پائیدار ہوتا ہے ۔

So individuals, as they depart, Are fallen pages from the calendar Of peoples more enduring:

14

در سفر یار است و صحبت قائم است

فرد ره گیر است و ملت قائم است

اگرچہ ایک دوست سفر میں ہے لیکن محفل قائم رہتی ہے ۔ افراد آتے ہیں اور نکل جاتے ہیں جبکہ ملت کا قیام اپنی جگہ برقرار ہے ۔

though the friend Is on journey, the companionship Still stays; the individual is gone Abroad, unstirring the community.

15

ذات او دیگر صفاتش دیگر است

سنت مرگ و حیاتش دیگر است

فرد کی ذات الگ ہے اور ملت کی صفات الگ ہیں ۔ ان دونوں کی موت و حیات کے قواعد و اصول بھی الگ ہیں ۔

Other each essence is, the qualities Other; they differ both in how each lives And how they die.

16

فرد بر می خیزد از مشت گلی

قوم زاید از دل صاحب دلی

فرد مٹی کی مٹھی سے پیدا ہوتا ہے اور قوم ان مقاصد اور اصول کی بنا پر ترکیب پاتی ہے جو ایک صاحب دل کے قلب میں پیدا ہوتے ہیں ۔

The individual Arises from a handful of mere clay, The nation owes its birth to one brave heart;

17

فرد پور شصت و هفتاد است و بس

قوم را صد سال مثل یک نفس

فرد کی عمر عموماً ساٹھ ستر سال کی ہوتی ہے اور قوم کی زندگی میں سو سال بھی زیادہ سے زیادہ ایک سانس کی حیثیت رکھتے ہیں ۔

The individual has for his span Sixty or seventy years, a century Is for the nation as single breath.

18

زنده فرد از ارتباط جان و تن

زنده قوم از حفظ ناموس کهن

فرد کی زندگی اس امر پر موقوف ہے کہ جان اور جسم کے درمیان ربط تعلق اور میل جول قائم رہے ۔ اس تعلق میں خلل پیدا ہوتے ہی فرد کی زندگی ختم ہو جائے گی ۔ لیکن قوم کی زندگی جان و تن کے ربط پر نہیں بلکہ قدیم روایات کی حفاظت پر موقوف ہوتی ہے ۔

The individual is kept alive By the concomitance of soul and flesh, The nation lives by guarding ancient laws;

19

مرگ فرد از خشکی رود حیات

مرگ قوم از ترک مقصود حیات

فرد زندگی کی ندی خشک ہوتے ہی مر جاتا ہے ۔ لیکن قوم جب تک اپنی زندگی کے مقاصد نہ چھوڑے موت کے گھاٹ نہیں اترتی ۔

Death comes upon the individual When dries life’s river and the nation dies When it forsakes the purpose of its life.

20

گرچه ملت هم بمیرد مثل فرد

از اجل فرمان پذیرد مثل فرد

اگرچہ افراد کی طرح قو میں بھی مر جاتی ہیں ۔ لیکن ان کے لیے بھی قدرت کی طرف سے ایک خاص وقت مقرر ہے ۔

Though the community must pass away Like any individual when Fate, Issues the fiat none may disobey,

21

امت مسلم ز آیات خداست

اصلش از هنگامه ی «قالوا بلی» ست

لیکن امت مسلمہ ہرگز نہیں مرے گی کیونکہ یہ خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ اس کا وجود اس وقت سے چلا آتا ہے جب ابتدائے آفرینش میں کائنات کی روحوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد باندھا تھا کہ بے شک تو ہی ہمارا پروردگار ہے ۔

Islam’s Community is divine Undying marvel, having origin In that great compact, Yea, Thou art our Lord.

22

از اجل این قوم بی پرواستی

استوار از «نحن نزلنا»ستی

ملت اسلامیہ موت سے بالکل بے پروا ہے اسے موت آ ہی نہیں سکتی کیونکہ خدا نے فرمایا کہ بلا شبہ ہم نے الذکر (قرآ ن) اتارا ہے اور بلاشبہ خود ہمیں اس کے نگہبان ہیں (سورہ حجر) کی بشارت کے ذریعے سے ہماری پائیداری اور استواری کا وعدہ کر رکھا ہے ۔

This people is indifferent to Fate, Immovable in Lo, We have sent down Remembrance,

23

ذکر قائم از قیام ذاکر است

از دوام او دوام ذاکر است

ذکر (قرآن) اس وقت قائم رہ سکتا ہے جب تک ذاکر یعنی ذکر کرنے والا موجود ہو ۔ جب ذکر کے دوام کا وعدہ ہو چکا تو یہ مان لینے میں کوئی دقت باقی نہیں رہتی کہ ذاکر کے دوام کا بھی وعدہ ہو چکا ۔

Which abides while there is yet One to remember, whose continuance Persists with it.

24

تا خدا «ان یطفئوا» فرموده است

از فسردن این چراغ آسوده است

جب قرآن مجید میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دین حق کی روشنی پوری کیے بغیر رہنے والا نہیں ۔ اگرچہ کافروں کو پسند نہ آئے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ ہماری ملت کا چراغ بجھنے سے محفوظ ہے یعنی ہمیشہ روشن رہے گا اور کبھی نہ بجھے گا ۔

When God revealed the words They seek God’s light to extinguish, this bright lamp Was never troubled it might flicker out.

25

امتی در حق پرستی کاملی

امتی محبوب هر صاحبدلی

ہم وہ امت ہیں جس نے حق پرستی میں درجہ کمال حاصل کر لیا اور جو ہر صاحب دل کو محبوب و عزیز ہے ۔

’Tis a community that worships God In perfect faith, a people well-beloved By every man who has a conscient heart.

26

حق برون آورد این تیغ اصیل

از نیام آرزوهای خلیل

اللہ تعالیٰ نے اس تیز ترین تلوار کو حضرت ابراہیم کی آرزووَں اور دعاؤں کے نیام سے نکالا ۔

God drew this trusty blade out of the sheath Of Abraham’s desires,

27

تا صداقت زنده گردد از دمش

غیر حق سوزد ز برق پیهمش

یہی امت ہے جس کے دم سے حق و صداقت زندہ ہوتے ہیں اور اس سے جو بجلیاں پے در پے کوند رہی ہیں وہ غیر حق یعنی باطل کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں ۔

that by its edge Sincerity might live, and all untruth Consume before the lightning of its stroke.

28

ما که توحید خدارا حجتیم

حافظ رمز کتاب و حکمتیم

ہم خدا کی توحید کے لیے دلیل و حجت ہیں ۔ ہمیں خدا نے کتاب اور حکمت کے بھیدوں کا محافظ بنا دیا ہے ۔

We, who are proof of God’s high Unity And guardians of the Wisdom and the Book,

29

آسمان با ما سر پیکار داشت

در بغل یک فتنه ی تاتار داشت

ہم کو آسمان سے ہمیشہ دشمنی رہی اور ہم سے الجھنے پر آمادہ رہا ۔ اس سلسلے میں اس کی بغل میں ایک فتنہ تاتار تھا ۔

Encountered heaven’s malice long ago, The unsuspected menace of the hordes Of savage Tartary,

30

بندها از پا گشود آن فتنه را

بر سر ما آزمود آن فتنه را

پھر یکایک اس فتنے اور اس خوفناک مصیبت کے پاؤں کے بندھ کھول دیے اور اسے ہم پر نازل کر دیا ۔

loosed on our heads To prove its terror.

31

فتنه ئی پامال راهش محشری

کشته ی تیغ نگاهش محشری

یہ فتنہ ایسا ہولناک تھا کہ خود محشر بھی اسکی راہ میں روندا ہوا اور اسکی تیغ نگاہ سے ٹکڑے ٹکڑے تھا ۔

Not the Judgment Day Shall match the staring horror of those swords, The thunder of those legions armed with death.

32

خفته صد آشوب در آغوش او

صبح امروزی نزاید دوش او

سینکڑوں طوفان اس کی گود میں سوئے ہوئے تھے ۔ اس کی گزشتہ کل کی یہ کیفیت تھی کہ اس سے امروز کی صبح پیدا نہیں ہو سکتی تھی(اس فتنہ نے ہر چیز کا خاتمہ ہمیشہ کے لیے کر دیا ۔ نہ زندگی رہی نہ امید نہ گزشتہ کل کے بعد امروز کے پیدا ہونے کا کوئی امکان رہا ۔ )

Confusion sore confounded in the breast Of that disaster slept; its yesterday Gave birth to no glad morrow.

33

سطوت مسلم بخاک و خون تپید

دید بغداد آنچه روما هم ندید

اس فتنے نے ملت اسلامیہ کی قوت کو خاک و خون میں تڑپا دیا ۔ بغداد کو جو ملت کا مرکز تھا وہ کچھ دیکھنا پڑا جو رومہ نے بھی نہیں دیکھا ۔ دوسرے مصرع کا مطلب یہ ہے کہ رومہ پر وحشی قبیلوں نے خوفناک حملے کر کے لوٹ مار اور تباہی مچا دی ۔ لیکن چنگیز کے پوتے ہلاکو نے ایک ہی حملے میں بغداد کے اندر و تباہی پھیلائی وہ خونریزی کی کہ رومہ نے تو اس کا تصور بھی نہیں کیا ہو گا ۔

Muslim might Quivered in dust and blood; Baghdad beheld Such scenes as Rome ne’er witnessed in her throes

34

تو مگر از چرخ کج رفتار پرس

زان نو آئین کهن پندار پرس

اے مخاطب یہ آسمان جس کی چال ہمیشہ ٹیڑھی رہی جس کی عقل بہت پرانی اور پختہ ہے ساتھ ہی وہ نئے نئے حیلے اور نئے نئے ہتھکنڈے تجویز کرتا رہتا ہے ہمارا دشمن تھا ۔

Now ask, if so thou wilt, what new design Purposing Fate, malignant as of old, Proposed this holocaust;

35

آتش تاتاریان گلزار کیست؟

شعله های او گل دستار کیست؟

مگر اس سے پوچھ ، تاتاریوں کی جلائی ہوئی آگ کس کا گلزار بنی اور اس کے شعلے پھول بن کر کس کی زینت دستار ہوئے

whose garden sprang Out of the Tartar fire? Whose turban wears The rose transmuted from those lambent flames?

36

زانکه ما را فطرت ابراهیمی است

هم به مولا نسبت ابراهیمی است

ہماری فطرت میں حضرت ابراہیم کی خصوصیت موجود ہے ۔ خدا سے ہماری نسبت بھی وہی ہے جو حضرت ابراہیم کی تھی ۔

Because our nature is of Abraham And our relationship to God the same As that great patriach’s:

37

از ته آتش بر اندازیم گل

نار هر نمرود را سازیم گل

ہم انہیں کی ملت ہیں جس طرح حضرت ابراہیم کے لیے آگ گلزار بن گئی تھی اسی طرح ہم ہر آگ کے نیچے پھول پیدا کر لیتے ہیں اور ہر نمرود کی آگ گلزار بنا لیتے ہیں ۔

out of the fire’s depths Anew we blossom, every Nimrod’s blaze Convert to roses.

38

شعله های انقلاب روزگار

چون بباغ ما رسد گردد بهار

بلاشبہ زمانے کے پاس انقلاب کے شعلے موجود ہیں لیکن یہ شعلے ہمارے باغ میں پہنچتے ہیں تو بہار بن جاتے ہیں ۔ یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ ہم مسلمان بہ حیثیت ملت مر نہیں سکتے ۔ ہم پر مصیبتیں تو آ سکتی ہیں مگر وہ ہمیں ختم نہیں کر سکتیں ۔ اس کے برعکس ہم ان مصیبتوں کو اپنے لیے فروغ و ترقی کا ذریعہ بھی بنا لیتے ہیں ۔ وہی تاتاری اور ترک جنھوں نے ہماری سات سو سال کی عظمت کو نقصان پہنچایا تھا جب انھوں نے خود اسلام کو قبول کیا تو اسلام کی حفاظت کے لیے ڈٹ گئے ۔

When the burning brands Of Time’s great revolution ring our mead, Then Spring returns.

39

رومیان را گرم بازاری نماند

آن جهانگیری ، جهانداری نماند

ایک زمانہ تھا جب رومیوں کا بازار حکومت گرم تھا ۔ انھوں نے بہت بڑی سلطنت پیدا کر لی تھی ۔ لیکن ان کی جہانگیری اور حکومت ختم ہو گئی ۔

The mighty power of Rome, Conqueror and ruler of the world entire, Sank into small account;

40

شیشه ی ساسانیان در خون نشست

رونق خمخانه یونان شکست

ایران کے ساسانیوں کا شیشہ شراب کی جگہ خون سے بھر گیا یعنی وہ بھی ختم ہو گئے ۔ یونان کے شراب خانے کی رونق بھی جاتی رہی ۔

the golden glass Of the Sassanians was drowned in blood; Broken the brilliant genius of Greece;

41

مصر هم در امتحان ناکام ماند

استخوان او ته اهرام ماند

مصر بھی امتحان میں ناکام رہا اور اس کی ہڈیاں قدیم مقبروں میں پڑی رہ گئیں ۔ یعنی وہ بڑی بڑی قو میں مٹ گئیں ۔

Egypt too failed in the great test of Time, Her bones lie buried ’neath the Pyramids.

42

در جهان بانگ اذان بودست و هست

ملت اسلامیان بودست و هست

ان کے برعکس ملت اسلامیہ پہلے بھی تھی اور اب بھی موجود ہے ۔ اذان کی صدائے حق دنیا کی فضا میں پہلے بھی بلند ہو رہی تھی اور اب بھی بلند ہے ۔

Yet still the voice of the muezzin rings Throughout the earth, still the Community Of World – Islam -- maintains its ancient forms

43

عشق آئین حیات عالم است

امتزاج سالمات عالم است

ہمارے دوام کا سبب کیا ہے دیکھو، اس دنیا کی زندگی کا دستور عشق ہے اور عشق ہی کی بدولت اس کے مختلف اجزا و عناصر میں میل جول اور ربط قائم ہے ۔

Love is the universal law of life, Mingling the fragmentary elements Of a disordered world.

44

عشق از سوز دل ما زنده است

از شرار لااله تابنده است

عشق ہمارے دل ہی کی حرارت کے باعث زندہ ہے ۔ کلمہ توحید کی چنگاری سے اس میں چمک دمک ہے ۔

Through our hearts’ glow Love lives, irradiated by the spark There is no god but God.

45

گرچه مثل غنچه دلگیریم ما

گلستان میرد اگر میریم ما

اگرچہ ہم کلی کی طرح ملول اور دلگیر ہیں تاہم اگر ہم مر جائیں تو پورا گلستان مر جائے گا ۔ جب تک ہم ہیں یہ دنیا قائم ہے جب ہم نہ ہوں گے تو یہ بھی ختم ہو جائے گی ۔

Though, like a bud, Our hearts are prisoned by oppressive care, If we should die, the graden too will die.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

آنچنان قطع اخوت کرده اند

بر وطن تعمیر ملت کرده اند

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 14 - در معنی اینکه وطن اساس ملت نیست

اگلی نظم

ملتی را رفت چون آئین ز دست

مثل خاک اجزای او از هم شکست

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 16 - در معنی اینکه نظام ملت غیر از آئین صورت نبندد و آئین ملت محمدیه قرآن است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور