صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 16 - در معنی اینکه نظام ملت غیر از آئین صورت نبندد و آئین ملت محمدیه قرآن است

بخش 16 - در معنی اینکه نظام ملت غیر از آئین صورت نبندد و آئین ملت محمدیه قرآن است

نظامِ ملت آئین کے بغیر صورت پزیر نہیں ہوتا ۔ ملت محمدیہ کا آئین قرآن ہے

That the organization of the community is only possible though law, and that the law of the Muhammadan Community is the Quran

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

ملتی را رفت چون آئین ز دست

مثل خاک اجزای او از هم شکست

جب کسی ملت کے ہاتھ سے آئین و دستور جاتا رہتا ہے تو مٹی کی طرح اس ملت کے اجزا ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں ۔

When a community forsakes its Law Its parts are severed, like the scattered dust.

2

هستی مسلم ز آئین است و بس

باطن دین نبی این است و بس

مسلمان کی ہستی بھی دستور و آئین پر موقوف ہے اور بس ۔ رسول اللہ ﷺ کے دین کی بس یہی حقیقت یا روح ہے ۔

The being of the Muslim rests alone On Law which is in truth the inner core Of the Apostle’s faith.

3

برگ گل شد چون ز آئین بسته شد

گل ز آئین بسته شد گلدسته شد

جب ایک چھوٹی سی پتی یا پنکھڑی ایک آئین و دستور کی پابند ہوتی ہے تو وہ پھول بن جاتی ہے ۔ اسی طرح پھولوں نے اپنے آپ کو آئین کا پابند بنا لیا تو وہ گلدستہ ہو جاتے ہیں ۔

A rose is born When its component petals are conjoined By Law; and roses, being likewise bound By Law together, fashion a bouquet.

4

نغمه از ضبط صدا پیداستی

ضبط چون رفت از صدا غوغاستی

اسی طرح نغمے کی حقیقت کیا ہوتی ہے ۔ جب انسان آواز کو ایک خاص طریقے پر ضبط اور آئین میں لے آتا ہے اور ایک خاص پابندی کے سانچے میں ڈھال لیتا ہے تو نغمہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ یہ ضبط اور یہ پابندی رخصت ہو جائے تو وہ شور و غوغا بن جاتا ہے ۔

As sound controlled creates a melody So, when control is absent, dissonance Results.

5

در گلوی ما نفس موج هواست

چون هوا پابند نی گردد ، نواست

ہمارے گلے میں جو سانس آتا جاتا ہے وہ ہوا کی ایک لہر ہے ۔ یہ ہوا بانسری میں خاص طریق پر پابند ہو جاتی ہے تو نوا سریلی آواز بن جاتی ہے ۔ (غرض تینوں مثالیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کائنات کا نظام صرف آئین و دستور کے تحت چل رہا ہے یہاں کی ہر چیز اسی وقت تک قائم رہتی ہے جب تک مقرر آئین کے مطابق کام کرتی ہے ) ۔

The breath we draw within our throat Is but a wave of air which, in the reed Being constricted, blows a tuneful note.

6

تو همی دانی که آئین تو چیست؟

زیر گردون سر تمکین تو چیست؟

(اے مسلم) کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرا آئین کیا ہے اور اس آسمان (دنیا) کے نیچے تیرا قیام اور تیری قدر و عزت کا راز کیا ہے

Knowest thou what thy Law is, wherein lies Beneath yon spheres the secret of thy power?

7

آن کتاب زنده قرآن حکیم

حکمت او لایزال است و قدیم

ہاں تیرا دستور وہ زندہ کتاب ہے جو قرآن حکیم کے نام سے معروف ہے ۔ اس کی حکمتیں ابتدائے آفرینش سے مسلم چلی آ رہی ہیں اور انھیں کبھی زوال نہ آئے گا ۔

It is the living Book, that wise Quran Whose wisdom is eternal, uncreate.

8

نسخه ی اسرار تکوین حیات

بی ثبات از قوتش گیرد ثبات

قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جو زندگی کے وجود پذیر ہونے کے راز بتاتی ہے اس کی قوت سے ناپائیدار، فانی بھی پائیداری حاصل کر لیتا ہے ۔

The secrets of the fashioning of life Are therein written; instability Is firmly established by its potency.

9

حرف او را ریب نی تبدیل نی

آیه اش شرمنده ی تأویل نی

قرآن مجید وہ کتاب ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے ۔ نہ کوئی ردو بدل کر سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے کاموں میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اس کی آیتیں واضح اور روشن ہیں اور ان کے مطلب کے لیے ہیر پھیر کی ضرورت نہیں پڑتی ۔

Undoubted and unchanging are its words, Its verses to interpretation not Beholden;

10

پخته تر سودای خام از زور او

در فتد با سنگ ، جام از زور او

اس کے زور و قوت کا یہ عالم ہے کہ کسی کے دل میں خام آرزو ہو تو اس کی بدولت پختہ و پائیدار ہو جاتی ہے اور اس کی اسی قوت کے طفیل جام پتھر سے ٹکرا جاتا ہے ۔

in its strength the raw desire Acquires maturity, the bowl fears not To dash against the rock.

11

می برد پابند و آزاد آورد

صید بندان را بفریاد آورد

قرآن مجید کی پابندی غلاموں کو آزادی کی نعمت بخشتی ہے جو لوگ دوسروں کا شکار کرنے کی فکر میں ہوں انہیں قرآن مجید فریاد پر مجبور کر دیتا ہے ۔

The shackling chains, and leads the free man forth But brings the exultant captor unto woe.

12

نوع انسان را پیام آخرین

حامل او رحمة للعالمین

قرآن مجید انسانوں کے لیے خدا کا آخری پیغام ہے ۔ یہ کتاب اس ذات پاک کے ذریعے ہم تک پہنچی جو تمام جہانوں کے لیے سراپا رحمت ہیں ۔

The final message to all humankind Was borne by him elect of God to be A mercy unto every living thing;

13

ارج می گیرد ازو ناارجمند

بنده را از سجده سازد سر بلند

اس کتاب مقدس سے ایک بے حقیقت اور بے وقعت انسان کو بھی عزت و وقعت ملتی ہے ۔ یہ کتاب پاک انسان کو سجدے کے ذریعے سربلندی عطا کرتی ہے ۔ قرآن مجید نے جس توحید کی دعوت دی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان خدا کا فرمانبردار بندہ بن جائے ۔ صرف اس کے آگے جھکے صرف اسے سجدہ کرے ۔ یہ بندگی، یہ فرمانبرداری اور یہ سجدہ ریزی اسے خدا کے سوا ہر وجود کی غلامی اور محکومی سے آزاد کر دیتی ہے ۔

By this the worthless unto worth attains, The prostrate slave lifts up his head on high.

14

رهزنان از حفظ او رهبر شدند

از کتابی صاحب دفتر شدند

یہی کتاب ہے جس نے ڈاکووَں اور لٹیروں کو انسانیت کے رہنما بنا دیا اور اسی کتاب مقدس کی بدولت انھوں نے علوم کے دفتر تیار کر دیئے ۔

Having by heart this message, highwaymen Turned guides upon the road, and by this book Were qualified high masters of the rolls;

15

دشت پیمایان ز تاب یک چراغ

صد تجلی از علوم اندر دماغ

اس ایک چراغ کی روشنی نے صحراؤں میں پھرنے والوں کے دماغ میں علوم کی سینکڑوں تجلیاں پیدا کر دیں ۔

Rude desert-farers through one lantern’s glow A hundred revelations to their brain In every science won.

16

آنکه دوش کوه بارش بر نتافت

سطوت او زهره ی گردون شکافت

یہی کتاب ہے جس کا بوجھ پہاڑوں کے کندھے بھی نہ سنبھال سکے جس کے دبدبے اور ہیبت سے آسمان کا پتا پھٹ گیا ۔

So he, whose load The mountain’s massive shoulders could not bear, Clove by his might the power of the spheres.

17

بنگر آن سرمایه ی آمال ما

گنجد اندر سینه ی اطفال ما

ہماری خواہشوں اور آرزووَں کا سرمایہ ہمارے بچوں کے سینوں میں سمایا ہوا ہے ۔ اشارہ مسلمان بچوں کے حفظ قرآن کی طرف ہے ۔ یعنی اتنا بڑا بار مسلمان بچے اپنے سینوں میں اٹھائے پھرتے ہیں ) ۔

See how the capital of all our hopes Is lodged securely in our children’s breasts!

18

آن جگر تاب بیابان کم آب

چشم او احمر ز سوز آفتاب

وہ بے آب بیابان میں پھرنے والا عرب جس کی آنکھیں سورج کی حرارت سے سرخ تھیں وہاں کی گرمی سے اس کا جگر جلا ہوا تھا ۔

The weary wanderer in the wilderness Unwatered, eyes aflame in the hot sun,

19

خوشتر از آهو رم جمازه اش

گرم چون آتش دم جمازه اش

اس کی سانڈنی کا چلنا ہرن کے چلنے سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا بلکہ اس کی سانڈنی کا سانس آگ کی طرح گرم تھا ۔

His camel nimbler than the agile deer, Its breath as fire

20

رخت خواب افکنده در زیر نخیل

صبحدم بیدار از بانگ رحیل

وہ کھجوروں کے نیچے بستر بچھا کر سو رہنے کا عادی تھا ۔ علی الصبح کوچ کی صدا بلند ہوتی تو جاگ اٹھتا ۔

when he would look to sleep Casting him down bencath some shady palm, Then with the dawn awake, the caravan Clanged to departure,

21

دشت سیر از بام و در ناآشنا

هرزه گردد از حضر ناآشنا

رات دن صحرا میں پھرتا رہتا تھا نہ کبھی گھر بنایا نہ دروازے کی شکل دیکھی ۔ برابر ادھر ادھر چکر لگاتا رہتا، کبھی کسی جگہ جم کر نہ بیٹھتا ۔

ever journeying Through the wide prairies, unfamiliar With roof and door, stranger to fixed abodes

22

تا دلش از گرمی قرآن تپید

موج بیتابش چو گوهر آرمید

جب قرآن مجید کی حرارت سے عرب کے دل میں تڑپ پیدا ہوتی تو اس کی بے قرار موج میں آسودگی پیدا ہو گئی جس طرح موتی میں آب و تاب کی موج آسودہ ہوتی ہے ۔

When his wild heart responded vibrantly To the Quran’s warm glow, its restless waves Sank to the calm of a sequestered pearl.

23

خواند ز آیات مبین او سبق

بنده آمد ‘ خواجه رفت از پیش حق

اس نے قرآن مجید کی واضح اور روشن آیتوں کا سبق لیا ۔ وہ خدا کے سامنے غلام آیا تھا ، آقا بن کر رخصت ہوا ۔

Reading the lesson of its verses clear He who had come a slave went forth from God A master.

24

از جهانبانی نوازد ساز او

مسند جم گشت پا انداز او

اس کے ساز سے جہان بانی کے نغمے اٹھنے لگے ۔ جمشید کا تخت اس کے لیے پائیدان بن گیا ۔

Now upon his instrument New melodies imperial were heard; Jamshid’s high throne he trampled underfoot;

25

شهر ها از گرد پایش ریختند

صد چمن از یک گلش انگیختند

وہ جس طرح سے نکلا اس کے پاؤں کی گرد سے شہر پیدا ہوتے گئے ۔ اس کے ایک پھول سے سینکڑوں باغوں کا ظہور ہوا ۔

Cities sprang up out of the dust he trod, A hundred bowers blossomed from his rose.

26

ای گرفتار رسوم ایمان تو

شیوه های کافری زندان تو

اے مسلمان تمہارا ایمان تو رسموں میں جکڑا ہوا ہے ۔ اور تم خود کافرانہ طریقوں کے قیدخانے میں بند ہو ۔

O thou, whose faith by custom is enslaved, Imprisoned by the charms of heathendom,

27

قطع کردی امر خود را در زبر

جاده پیمای الی «شئی نکر»

تم تو خود ایک دوسرے سے کٹ کر الگ الگ ہو گئے اور ایک نہایت ناگوار شے کی طرف چلے جا رہے ہو ۔

Thou who hast torn thy heritage to shreds Treading the highway to a hateful goal,

28

گر تو میخواهی مسلمان زیستن

نیست ممکن جز بقرآن زیستن

اگر تم مسلمان کی حیثیت میں زندہ رہنا چاہتے ہو تو یاد رکھو ایسی زندگی قرآن کے بغیر نصیب نہیں ہو سکتی ۔

If thou wouldst live the Muslim life anew This cannot be, except by the Quran Thou livest.

29

صوفی پشمینه پوش حال مست

از شراب نغمه ی قوال مست

تمہارے صوفی اور مشاءخ کا کیا حال ہے ۔ انھوں نے پشمینہ پہن رکھا ہے اور اپنے حال میں مست ہیں ۔ قوالوں کے نغموں کی شراب پی کر سر دھن رہے ہیں ۔

See the Sufi in his garb Of mystic minstrelsy

30

آتش از شعر عراقی در دلش

در نمی سازد بقرآن محفلش

عراقی کے شعر سن کر ان کے دل میں حرارت اور تڑپ پیدا ہوئی ۔ ان کی مجلسوں کو قرآن مجید سے کوئی دلچسپی نہیں ۔

his heart inflamed By the fierce fervour of Iraqi’s verse! Little do his wild ecstasies accord With the austere Quran

31

از کلاه و بوریا تاج و سریر

فقر او از خانقاهان باج گیر

وہ لوگ بوریے کے فرش اور درویشی کی کلاہ کو تخت و تاج سمجھ رہے ہیں ۔ اور ان کی درویشی خانقاہوں سے خراج وصول کرتی ہے (کمائی کا ذریعہ بنا رکھا ہے ) ۔

the dervish cap And mat of reeds replace the crown and throne; His boasted poverty rich tribute takes Secured on many a hermitage endowed.

32

واعظ دستان زن افسانه بند

معنی او پست و حرف او بلند

واعظوں کی حالت پر نظر ڈالو ۔ وہ منبروں پر چڑھ کر گاتے اور افسانے سناتے ہیں ۔ وہ الفاظ تو بڑے بڑے استعمال کرتے ہیں لیکن ان کا مطلب کچھ نہیں ہوتا ۔

The preacher, with his wealth of anecdote And wordy legend, little has to tell If truth, for all his fine grandiloquence;

33

از خطیب و دیلمی گفتار او

با ضعیف و شاذ و مرسل کار او

ان کے وعظوں میں بار بار خطیب اور ویلمی جیسے محدثوں کا ذکر سننے میں آتا ہے ۔ اور وہ حدیث کی مختلف قسموں کا ذکر کریں گے ، فلاں ضعیف ہے ، فلاں شافہ ہے ، فلاں کا سلسلہ صحابی سے نہیں ملتا ۔

Khatib and Dailami are on his lips, In every week Tradition he delights, The little met with, and the insecure.

34

از تلاوت بر تو حق دارد کتاب

تو ازو کامی که میخواهی بیاب

اے مسلمان قرآن مجید کا تجھ پر حق ہے کہ تو اس کی تلاوت کرے اور تو جو مقصد حاصل کرنا چاہتا ہے اسی سے حاصل کر ۔ یعنی تیری ہر ضرورت قرآن مجید سے پوری ہو سکتی ہے ۔

It is thy duty to recite the Book, And therein find the purpose thou dost seek.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در بهاران جوش بلبل دیده‌ای

رستخیز غنچه و گل دیده‌ای

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 15 - در معنی اینکه ملت محمدیه نهایت زمانی هم ندارد، که دوام این ملت شریفه موعود است

اگلی نظم

عهد حاضر فتنه ها زیر سر است

طبع ناپروای او آفت گر است

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 17 - در معنی اینکه در زمانه انحطاط تقلید از اجتهاد اولی تر است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور