زمانہ انحطاط میں تقلید اجتہاد سے بہتر ہے
That in times of decadence strict conformity is better than free speculation
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
عهد حاضر فتنه ها زیر سر است
طبع ناپروای او آفت گر است
موجودہ زمانے کے سر کے نیچے بہت سے فتنے اور ہنگامے ہیں ۔ اس کی طبیعت بے باک اور نڈر ہے اور ہر وقت آفتیں برپا کرتی رہتی ہیں ۔ (موجودہ زمانے سے مراد وہ زمانہ ہے جو مغربی قوموں نے دنیا میں پیدا کیا ) ۔
The present age has many tumults hid Beneath its head; its restless temperament Swarms with disorders.
بزم اقوام کهن برهم ازو
شاخسار زندگی بی نم ازو
اس نے پرانی قوموں کی مجلس کو درہم برہم کر ڈالا ہے ۔ اور زندگی کی شاخ کو نمی سے محروم کر دیا ہے ۔ یعنی زندگی کی شاخ تازگی سے محروم ہے ۔
The society Of ancient nations in these modern times Is in confusion; sapless hangs life’s bough.
جلوه اش ما را ز ما بیگانه کرد
ساز ما را از نوا بیگانه کرد
اس زمانے کے جلوے نے ہمیں ہماری حقیقت سے بے گانہ کر دیا اور ہمارے ساز میں نوا پیدا کرنے کی صلاحیت ہی نہ چھوڑی ۔
The glamour and the glitter of our days Have made us strangers to our very selves, And robbed our instrument of melody;
از دل ما آتش دیرینه برد
نور و نار لااله از سینه برد
ہمارے دل میں مدت سے عشق حق کی سلگتی آگ کو ٹھنڈا کر دیا اور لا الہ کا نور و نار ہمارے سینے سے غائب کر دیا ۔ وہ حرارت اور وہ نور باقی نہیں رہے ۔
Filched from our heart its pristine fire, and dimmed Within our breast the radiance and the flame There is no god but God.
مضمحل گردد چو تقویم حیات
ملت از تقلید می گیرد ثبات
جب زندگی کا ڈھانچہ سست اور کمزور ہو جاتا ہے تو ملت تقلید کے ذریعے سے ہی ثبات حاصل کرتی ہے ۔
Whene’er decay Destroys the balanced temperament of life, Then the community may look to find Stability in strict conformity
راه آبا رو که این جمعیت است
معنی تقلید ضبط ملت است
تو نے تقلید کا مطلب سمجھا اس کا مطلب یہ ہے کہ ملت ایک رشتے میں منسلک رہے اور اس کے ضبط و نظم میں فرق نہ آئے ۔
Go thou thy fathers’ road, for therein lies Tranquility; conformity connotes The holding fast of the community.
در خزان ای بی نصیب از برگ و بار
از شجر مگسل به امید بهار
جب خزاں کا موسم آ جائے تو اس کو شاخ، جو پتوں اور پھلوں سے خالی ہو چکی ہو درخت سے ٹوٹ کر الگ نہ ہونا چاہیے اور بہار کی امید رکھنی چاہیے ۔ کیونکہ جب بہار آئے گی ، درخت کے ریشے میں تازگی پیدا ہو گی ، سوکھی ہوئی شاخ بھی نئے سرے سے ہری ہو جائے گی۔
In time of Autumn, thou who lackest leaf Alike and fruit, break never from the tree, Hoping that spring may come.
بحر گم کردی زیان اندیش باش
حافظ جوی کم آب خویش باش
اے مخاطب تو سمندر ہاتھ سے دے چکا ہے اب اپنے نقصان کا خوب خیال رکھ ۔ تیرے پاس جو تھوڑے سے پانی کی ندی باقی رہ گئی ہے اسی کی حفاظت پوری طرح کر ۔
Since thou hast lost The sea, be prudent, lest a greater loss Befall thee; the more carefully preserve Thy own thin rivulet;
شاید از سیل قهستان برخوری
باز در آغوش طوفان پروری
(یہی ایک صورت ہے تو جس سے کام لیتا رہے تو شاید وقت آ جائے کہ ) پہاڑی سیل تیری ندی کا رخ کر لے ۔ پھر اس کی آغوش میں طوفان پرورش پانے لگیں ۔
for it my hap Some mountain torrent shall replenish thee And thou once more be tossed upon the breast Of the redeeming tempest
پیکرت دارد اگر جان بصیر
عبرت از احوال اسرائیل گیر
اگر تیرے جسم میں بصیرت رکھنے والی جان ہو تو یہودیوں کی سرگزشت سے عبرت حاصل کر ۔
If thy flesh Is yet possessed of a discerning eye, Take warning from the Israelitish case; Consider well their variable fate,
گرم و سرد روزگار او نگر
سختی جان نزار او نگر
دیکھ، انھوں نے زمانے کا کیا سرد و گرم دیکھا کشمکش میں ان کی جان گھلتی گئی مگر اب تک زندہ ہیں مرے نہیں ۔
Now hot, now cold; regard the obduracy, The hardness of their spare and tenuous soul.
خون گران سیر است در رگهای او
سنگ صد دهلیز و یک سیمای او
ان کی رگوں میں خون کی روانی بہت سست ہو گئی ۔ ایک ان کی پیشانی ہے اور سینکڑوں آستانے ہیں جن پر گھسی جا رہی ہے ۔
Sluggishly flows the blood within their veins, Their furrowed brow sore smitten on the stones Of porticoes a hundred.
پنجه ی گردون چو انگورش فشرد
یادگار موسی و هارون نمرد
آسمان کے پنجے نے انہیں انگور کی طرح نچوڑ ڈالا ہے ۔ مگر یہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہاروں کی یادگار اب تک مر نہ سکے ۔
Though heaven’s grip Hath pressed and squeezed their grape, the memory Of Moses and of Aaron liveth yet;
از نوای آتشینش رفت سوز
لیکن اندر سینه دم دارد هنوز
ان کی آگ بھرے نغموں سے شورش اور حرارت جاتی رہی تاہم ان کے سینے میں سانس اب تک باقی ہے (کیا کبھی سوچا ہے کہ ان کی بقا کا سبب کیا ہے یہ ہوا کہ)
And though their ardent song hath lost its flame, Still palpitates the breath within their breast.
زانکه چون جمعیتش ازهم شکست
جز براه رفتگان محمل نبست
جب ان کی جمیعت درہم برہم ہو گئی اور دنیا کے طول و عرض میں انہیں بکھر جانا پڑا تو انھوں نے اپنے باپ دادا کے راستے کے سوا کسی راستے پر محمل نہ باندھا یعنی کوئی دوسرا راستہ اور مسلک اختیار نہ کیا ۔ اسی وجہ سے اب تک باقی چلے آتے ہیں
For when the fabric of their nationhood Was rent asunder, still they laboured on To keep the highroad of their forefathers.
ای پریشان محفل دیرینه ات
مرد شمع زندگی در سینه ات
اے مسلمان تیری پرانی مجلس بھی بکھر گئی اور تیرے سینے میں زندگی کا چراغ بھی بجھ گیا ۔
O thou whose ancient concourse is dispersed, Within whose breast the lamp of life is out,
نقش بر دل معنی توحید کن
چاره ی کار خود از تقلید کن
تو اپنے دل پر توحید کی حقیقت کا نقش ثبت کر اور جو مصیبت آ پڑی ہے اس کا علاج تقلید کے ذریعے سے کر ۔
Grave on thy heart the truth of Unity, And in conformity essay to mend The ruin of thy fortune.
اجتهاد اندر زمان انحطاط
قوم را برهم همی پیچد بساط
زوال کے زمانے میں اجتہاد کا دروازہ کھلا رہے تو قوم کے نظم و اتحاد کی بساط لپیٹی جاتی ہے ۔ یعنی نظم و اتحاد باقی نہیں رہتا ۔
Of decadence, to seek to exercise The speculative judgment of the mind Completes the people’s havoc finally;
ز اجتهاد عالمان کم نظر
اقتدا بر رفتگان محفوظ تر
کوتاہ نظر عالموں کے اجتہاد پر چلنے کے بجائے بزرگوں کے راستے کی پیروی میں کہیں زیادہ حفاظت کی صورت ہے
Salvation lieth less in following The blinkered pedant’s dictum, being found Humble imitation of the past.
عقل آبایت هوس فرسوده نیست
کار پاکان از غرض آلوده نیست
یاد رکھو تیرے بزرگوں کی عقل ذاتی اغراض سے متاثر نہیں تھی اور یاد رکھ کہ پاک آدمیوں کے کام کاج اغراض سے آلودہ نہیں ہوتے ۔
Caprice corrupted not thy fathers’ brain; The labour of the pious was unsoiled By interested motive,
فکر شان ریسد همی باریک تر
ورعشان با مصطفی نزدیک تر
ان کی فکر بڑی باریک بینیاں کرتی رہی اور ان کی پرہیزگاری رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک کے بہت نزدیک ہے ۔
finer far The thread of thought their meditation wove, Closer to the Prophet’s way conformed Their self-denial.
ذوق جعفر کاوش رازی نماند
آبروی ملت تازی نماند
امام جعفر علیہ السلام کا سا دینی ذوق اور امام رازی کی سی چھان بین جاتی رہی ۔ عربی ملت کی آبرو قائم نہ رہی ۔
Jaafar’s raptured view And Razi’s patient delving are no more; Departed is the glory that adorned The Arab nation;
تنگ بر ما رهگذار دین شد است
هر لئیمی راز دار دین شد است
ہم پر دین کا راستہ تنگ ہو گیا اور ہر فرومایہ آدمی دین کی رازداری کا دعوے دار بن بیٹھا ہے ۔
narrow shrunk for us The defile of the Faith, whose mysteries Every impostor boasteth to possess.
ای که از اسرار دین بیگانه ئی
با یک آئین ساز اگر فرزانه ئی
اے مسلمان تو دین کے رازوں سے ناواقف ہے ۔ اگر تیرے دماغ میں عقل اور سمجھ باقی ہے تو ایک آئین ایک دستور، ایک دینی ضابطے پر قائم رہ ۔
Thou, who art stranger to the secret truths Of Faith, if thou art wise, accord thyself With one sound Law
من شنیدستم ز نباض حیات
اختلاف تست مقراض حیات
میں نے زندگی کی بنض پہچاننے والے سے سنا ہے کہ تیرا اختلاف زندگی کی قینچی ہے یعنی اگر اختلاف پیدا ہوا تو وہ قینچی کی طرح تیری زندگی کاٹ کر رکھ دے گا جس سے ملت کا وجود ختم ہو سکتا ہے ۔
for I have heard it said By those who take and know the pulse of Life, Thy contrariety severs Life’s veins.
از یک آئینی مسلمان زنده است
پیکر ملت ز قرآن زنده است
مسلمان آئین و ضابطہ کی وحدت کے بل پر زندہ ہے اور ملت اسلامیہ قرآن کی بنا پر زندہ رہ سکتی ہے ۔
The Muslim lives by following one Law; The body of our Faith’s community Throbs vital to the Word of the Quran.
ما همه خاک و دل آگاه اوست
اعتصامش کن که حبل الله اوست
ہم سب خاک ہیں رازوں کو جاننے والا دل قرآن ہے ۔ اسے مضبوطی سے تھام لے کیونکہ اللہ کی رسی وہی ہے ۔ اس کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم ہمیں ملا ہے۔
All earth we are; that is our conscient heart; Hold firm to its protection, since it is The Cord of God.
چون گهر در رشته ی او سفته شو
ورنه مانند غبار آشفته شو
جس طرح موتی دھاگے میں پرویا جاتا ہے تو بھی اسی طرح قرآن کے رشتے میں پرویا جا ۔ اگر ایسا نہ کرے گا تو یاد رکھ تو گردو غبار کی طرح پریشان ہو کر فنا ہو جائے گا ۔
Upon its sacred thread Gem-like be safely strung, or otherwise Be scattered, as the dust upon the wind.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور