صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 18 - در معنی اینکه پختگی سیرت ملیه از اتباع آئین الهیه است

بخش 18 - در معنی اینکه پختگی سیرت ملیه از اتباع آئین الهیه است

سیرت ملّی کی پختگی آئینِ الہٰیہ کے اتباع سے ہے

That maturity of communal life derives from following the divine law

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

در شریعت معنی دیگر مجو

غیر ضو در باطن گوهر مجو

شریعت میں کوئی دوسرے معنی تلاش نہ کر ۔ موتی کے اندر چمک دمک اور روشنی کے سوا کچھ اور مت ڈھونڈ ۔

Seek thou no other meaning in the Law, Nor look save light to find within the gem;

2

این گهر را خود خدا گوهر گر است

ظاهرش گوهر بطونش گوهر است

اس موتی (یعنی شریعت) کو موتی بنانے والی خود اللہ کی ذات ہے ۔ اس کا ظاہر بھی موتی ہے اور باطن بھی موتی ۔

God was the jeweller who fashioned forth This jewel, diamantine through and through.

3

علم حق غیر از شریعت هیچ نیست

اصل سنت جز محبت هیچ نیست

یہ جو شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی اصلاحیں وضع کی گئیں ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔ واضح رہے کہ علم حق شریعت کے سوا کچھ نہیں ۔ شریعت وہی ہے جو اللہ کے حکم سے رسول اللہ نے انسانوں تک پہنچائی ۔ اور تجھے معلوم ہے کہ سنت کی اصلیت کیا ہے محض اللہ اور اس کے رسول پاک کے حکم پر عمل سے محبت جو شخص اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی شریعت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے لیے جذب و کشش اپنے اندر نہیں رکھتا اس کی زبان سے محبت کا دعویٰ جھوٹا سمجھا جائے گا ۔

Law is the only knowledge of the Truth, Love the sole basis of the Prophet’s code;

4

فرد را شرع است مرقات یقین

پخته تر از وی مقامات یقین

فرد کے لیے شریعت ایسا زینہ ہے جو اسے یقین کی بلندی پر پہنچا دے ۔ شریعت ہی کی پیروی سے یقین کے مقامات پختہ اور مستحکم ہوتے ہیں ۔

The individual through Law attains A faith maturer, and more fair adorned.

5

ملت از آئین حق گیرد نظام

از نظام محکمی خیزد دوام

ملت خدا کے مقرر کیے ہوئے دستور کے مطابق نظام و ترکیب پاتی ہے ۔ یہ نظام پختہ ہو جاتا ہے تو ہمیشہ کے لیے قائم رہتا ہے ۔

The rule of Law secures an ordered life To all the nation, which established rule Condition is of its continuance.

6

قدرت اندر علم او پیداستی

هم عصا و هم ید بیضاستی

اس کے علم میں یعنی اسے جاننے میں قوت و قدرت پیدا ہوتی ہے ۔ یہ عصا بھی ہے اور ید بیضا بھی ۔

Power is patent in its knowledge, this The sign of Moses’ staff and potent hand;

7

با تو گویم سر اسلام است شرع

شرع آغاز است و انجام است شرع

شریعت ہی اسلام کا آغاز اور شریعت ہی انجام ہے ۔ یعنی اسلام کی ساری بنیاد شرع پر ہی ہے ۔

So I declare the secret of Islam Is Law, in which all things begin and end.

8

ای که باشی حکمت دین را امین

با تو گویم نکته ی شرع مبین

اے مخاطب تو دین کی حکمت کا امانت دار ہے میں تجھے اسلام کی روشن شریعت کا ایک نکتہ بتاتا ہوں ۔

Since thou art called to be a guardian Of the Faith’s wisdom, I will tell to thee A subtle truth of the perspicuous Law.

9

چون کسی گردد مزاحم بی سبب

با مسلمان در ادای مستحب

جب کوئی فرد یا گروہ بلاوجہ مسلمان کو کسی مستحب فعل سے روکتا ہے ۔

If any Muslim be engaged upon A meritorious act, and causelessly Therein be challenged

10

مستحب را فرض گرادنیده اند

زندگی را عین قدرت دیده اند

تو وہ مستحب نہیں رہتا بلکہ فرض کی صورت اختیار کر لیتا ہے (اس کا مطلب کیا ہے ) یہ کہ زندگی قدرت و قوت کے سوا کچھ نہیں ۔

forthwith it becomes His sacred duty to discharge the same; Power is deemed the very spring of Life.

11

روز هیجا لشکر اعدا اگر

بر گمان صلح گردد بی خطر

اگر لڑائی کے دن دشمن اس خیال سے بے فکر ہو جائے کہ صلح ہو رہی ہے ۔

Upon the day of battle, if the foe Supposing truce is imminent neglects His army’s marshalling,

12

گیرد آسان روزگار خویش را

بشکند حصن و حصار خویش را

حفاظت کے لیے اس نے جو پابندیاں عائد کر رکھی تھیں انہیں ڈھیلی کر دے اور دفاعی تدابیر سے کنارہ کش ہو جائے

and casually Confronts his fortune, breaking down the wall And citadel of his defence;

13

تا نگیرد باز کار او نظام

تاختن بر کشورش آمد حرام

جب تک اس کے تمام حفاظتی انتظامات پہلی شکل پر نہ آ جائیں اس کی مملکت پر لشکر کشی حرام ہے ۔

until His order is restored, to march against His unarmed country is prohibited.

14

سر این فرمان حق دانی که چیست

زیستن اندر خطرها زندگیست

کیا تجھے معلوم ہے کہ خدا کے اس فرمان میں کیا راز چھپا ہوا ہے یہ کہ خطروں میں جینا اصل زندگی ہے ۔

Knowest thou then the mystery of this Divine commandment? Life not living is Except we live in danger.

15

شرع می خواهد که چون آئی بجنگ

شعله گردی واشکافی کام سنگ

شریعت (اس بات کی خواہاں ہے) کا تقاضا یہ ہے کہ جب مسلمان جنگ کے لیے نکلے توشعلہ بن کر ہر طرف لپکے اور پتھروں کے گلے تک کو چیرتا جائے ۔

Law requires That when to war thou comest, thou shalt blaze A fiery torch, and split the throat of rock.

16

آزماید قوت بازوی تو

می نهد الوند پیش روی تو

شریعت تیرے بازو کی قوت آزمانے کی غرض سے الوند جیسا پہاڑ تیرے سامنے ڈال دیتی ہے ۔

Law tries the power of the strong right arm; Confronting thee with Alond’s massive height

17

باز گوید سرمه ساز الوند را

از تف خنجر گداز الوند را

وہ کہتی ہے کہ تو الوند پہاڑ کو پیس کر سرمہ بنا دے اور اپنے خنجر کی حرارت سے اسے پگھلا دے ۔

It bids thee pound into collyrium That craggy mount, and with the ardent breath Drawn from thy throat its flint to liquefy.

18

نیست میش ناتوانی لاغری

درخور سر پنچه شیر نری

کمزور اور دبلی بھیڑ اس لائق نہیں ہوتی کہ نر شیر اسے شکار کرے اور پنجہ مارنے کی زحمت اٹھائے ۔

The lean and feeble sheep is scarce a prey Worthy the tiger’s claw;

19

باز چون با صعوه خوگر می شود

از شکار خود زبون تر می شود

اگر باز ممولے کے شکار کا عادی ہو جائے تو آہستہ آہستہ وہ اپنے شکار سے بھی زیادہ کمزور اور بے بس ہو جائے گا ۔

or if the hawk Consorts with sparrows, meaner-spirited Than its poor victims it shall soon become.

20

شارع آئین شناس خوب و زشت

بهر تو این نسخه ی قدرت نوشت

یہی وجہ ہے کہ شریعت تربیت دینے والی پاک ذات نے جو اچھے برے کی حقیقت سے خوب واقف تھی تیرے (مسلمان) کے لیے ایک ایسا دستور تیار کر دیا جو قوت کا طلبگار ہے اور قوت پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے ۔

The Lawgiver, to whom all fair and foul Was fully known, this recipe of power For thee prescribed.

21

از عمل آهن عصب می سازدت

جای خوبی در جهان اندازدت

اس دستور میں یہ صلاحیت ہے کہ اگر تو کمزور اور ناتواں ہو گا تو تجھے قوی اور پہاڑ کی طرح پختہ کر دے گا اور دنیا میں تجھے اعلیٰ مقام پر فائز کر دے گا ۔

By toil the nerves are steeled, And thou art raised to eminence in the world;

22

خسته باشی استوارت می کند

پخته مثل کوهسارت می کند

اگر تو دلگیر ہے تو وہ تجھے مضبوط دل والا بنا دے گا اور تجھے پہاڑ کی مانند مستحکم اور اٹل بنا دے گا ۔

Or be thou wounded, this will make thee strong, Yea, and mature as a firm mountain-chain.

23

هست دین مصطفی دین حیات

شرع او تفسیر آئین حیات

یاد رکھ کہ رسول اللہ کا دین زندگی کا دین ہے اور حضور جو شریعت لائے وہ زندگی کے دستور کی تفصیل ہے ۔

Full life’s religion is Muhammad’s faith, His code the commentary on life’s law;

24

گر زمینی آسمان سازد ترا

آنچه حق می خواهد آن سازد ترا

اگر تو پستی میں زمین کے برابر ہے تو یہ دین تجھے آسمان کی بلندی عطا کر دے گا اور خدا تجھے جو کچھ بنانا چاہتا ہے بنا دے گا ۔

Be though earth-lowly, it shall lift thee up High as the heavens, and will fashion thee Harmonious to God’s summons.

25

صیقلش آئینه سازد سنگ را

از دل آهن رباید زنگ را

اس دین کی صیقل سے پتھر آئینہ بن جاتا ہے اور لوہے کی زنگار کی آلائش نکل جاتی ہے ۔

The rough rock Is polished to a mirror by this faith, And this unrests the steel’s corroding heart.

26

تا شعار مصطفی از دست رفت

قوم را رمز بقا از دست رفت

جب سے قوم سے رسول اللہ کی سنت کا دامن چھوٹا ہے وہ بقا کی حقیقت اور بھید سے نا آشنا ہو گئی ۔

Now when the Prophet’s watchword passed from ken His people held no more the secret key To their continuance.

27

آن نهال سربلند و استوار

مسلم صحرائی اشتر سوار

صحرا میں رہنے اور اونٹ پر سوار ہونے والا مسلمان ایک ایک بلند اور پائیدار درخت کی طرح تھا ۔

That lusty sprout Tall and firm-rooted Muslim of the wastes Mounted on camel,

28

پای تا در وادی بطحا گرفت

تربیت از گرمی صحرا گرفت

اس نے وادی بطحا میں جڑ پکڑی، صحرا کی گرمی آب و ہوا میں نشوونما پائی ۔

who in Batha’s vale Took his first steps that by the desert warmth Was nourished up, now fanned by Persia’s breeze

29

آن چنان کاهید از باد عجم

همچو نی گردید از باد عجم

افسوس کہ عجم کی ہوا نے اس کی قوت چھین لی اب وہ نے بنا ہوا ہے جو اندر سے خالی ہے (مطلب یہ ہے کہ جب تک مسلمان عربی طور طریقوں اور اسلامی شیووں پر کاربند تھے انہیں دنیا بھر میں سربلندی حاصل تھی لیکن جب عجمیوں کے طور طریقے اختیار کر لیے ان میں سختیاں برداشت کرنے کی قوت نہ رہی تو ان کی پہلی حیثیت زائل ہو گئی ۔ )

now fanned by Persia’s breeze Is so diminished, that it hath become Thin as a reed.

30

آنکه کشتی شیر را چون گوسفند

گشت از پامال موری دردمند

جو مسلمان شیروں کو بھیڑوں کی طرح بے حقیقت سمجھ کر موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے اب ان کا یہ حال ہے کہ ایک چیونٹی بھی پاؤں کے نیچے روندی جائے تو ان کا دل درد سے تڑپ اٹھتا ہے ۔

He who was wont to slay Tigers like sheep now winces at the ant Trampled unwittingly;

31

آنکه از تکبیر او سنگ آب گشت

از صفیر بلبلی بیتاب گشت

جن مسلمانوں کی تکبیر سے پتھر بھی پانی ہو جایا کرتا تھا وہ اب ایک بلبل کی آواز سن کر بے قرار ہو جاتے ہیں ۔

he who in joy, Allahu Akbar crying, turned the rock To running water, trembles at the note Of amorous nightingales;

32

آنکه عزمش کوه را کاهی شمرد

با توکل دست و پای خود سپرد

جن مسلمانوں کا عزم اتنا بلند تھا کہ وہ پہاڑوں کو گھاس کے تنکے سمجھتے تھے اب ہاتھ پاؤں توڑے بیٹھے ہیں اور انھوں نے اس کا نام توکل رکھ لیا ہے ۔

he whose high will Reckoned the mountain trifling as a straw Commits himself entire to abject trust;

33

آنکه ضربش گردن اعدا شکست

قلب خویش از ضربهای سینه خست

جن مسلمانوں کی ضربیں دشمنوں کی گردنیں توڑتی تھیں اب وہ اپنے سینوں کی ضربوں سے اپنا دل زخمی کر چکے ہیں

He whose firm blow once broke his foemen’s neck, His heart is wounded by his own breast’s beat;

34

آنکه گامش نقش صد هنگامه بست

پای اندر گوشه ی عزلت شکست

جن مسلمانوں کے نقش قدم سے سینکڑوں ہنگاموں کا سروسامان ہو جاتا تھا اب علیحدگی کے کونے میں پاؤں توڑے بیٹھے ہیں ۔

He whose bold tread a hundred tumults limned Now cowers in retirement from the world;

35

آنکه فرمانش جهان را ناگزیر

بر درش اسکندر و دارا فقیر

جن مسلمانوں کے فرمان دنیا کے لیے اٹل ہوتے تھے اور جن کے دروازوں پر سکندر اور دارا جیسے بادشاہ بھیک مانگا کرتے تھے ۔

He whose command none dared to disobey, Before whose door great Alexander stood A suppliant, and Darius begged his bread,

36

کوشش او با قناعت ساز کرد

تا به کشکول گدائی ناز کرد

ان مسلمانوں نے اب جدوجہد چھوڑ کر قناعت اپنا لی، یہاں تک کہ وہ بھیک کے کاسے پر فخر کرنے لگے (دوسروں کے آگے سر جھکانا ان کے لیے باعث فخر ہے ) ۔

His ardour is attuned to mean content, His boast the proffered bowl of mendicants.

37

شیخ احمد سید گردون جناب

کاسب نور از ضمیرش آفتاب

شیخ احمد رفاعی جن کے بارگاہ بلندی میں آسمان کے برابر تھی سورج ان کے ضمیر سے نور حاصل کرتا تھا ۔

Shaykh Ahmad, Sayyid lofty as the spheres, From whose keen brain the sun’s self borrowed light

38

گل که می پوشد مزار پاک او

لااله گویان دمد از خاک او

ان کے مقدس مزار پر جو پھول ہیں وہ لا الہ کہتے ہوئے زمین سے سر باہر نکالتے ہیں ۔

The roses that bedeck his holy grave No other god but God breathe from his dust

39

با مریدی گفت ای جان پدر

از خیالات عجم باید حذر

انھوں نے اپنے ایک مرید سے فرمایا ، بیٹا عجمیوں کے خیالات سے پرہیز لازم ہے ۔

Thus spoke to a disciple: “O though life Of thy dear father, it behoves us all That we beware of non arab fantasies;

40

زانکه فکرش گرچه از گردون گذشت

از حد دین نبی بیرون گذشت

اگرچہ عجمیوں کی فکر آسمان سے بھی آگے نکل گئی لیکن افسوس کہ رسول اللہ کے دین کی حد کے اندر نہ رہی ۔

Though non arab thoughts the heavens have surpassed They equally transgress the boundaries Set by the Prophet’s Faith.”

41

ای برادر این نصیحت گوش کن

پند آن آقای ملت گوش کن

اے بھائی ملت کے اس مخدوم کی نصیحت غور و توجہ سے سن ۔

Brother, give ear To his sage counsel, and attentively Receive the rede of a protagonist Of our community;

42

قلب را زین حرف حق گردان قوی

با عرب در ساز تا مسلم شوی

یہ سچی بات ہے اس سے دل کو مضبوط کر ۔ عرب سے تعلق پیدا کر تا کہ تو مسلمان ہو جائے ۔ نوٹ: عرب و عجم کی اصطلاحات سے مقصود ملک عرب اور ملک ایران یا کوئی اور نسل نہیں ۔ اقبال نے ان اصلاحوں کو خاص معنی میں استعمال کیا ہے ۔ عرب سے ان کا مقصود پاک دین ہے جو رسول اللہ اس دنیا میں لائے ۔ عجم سے مقصود اسلام کا وہ ڈھانچہ ہے جو عجمی تصورات و نظریات کے سانچے میں تیار ہوا اور جسے اصل اسلام سے کوئی خاص مناسبت نہ رہی ۔

take these wise words To fortify thy heart; conform thyself With Arab ways, to be a Muslim true.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عهد حاضر فتنه ها زیر سر است

طبع ناپروای او آفت گر است

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 17 - در معنی اینکه در زمانه انحطاط تقلید از اجتهاد اولی تر است

اگلی نظم

سائلی مثل قضای مبرمی

بر در ما زد صدای پیهمی

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 19 - در معنی اینکه حسن سیرت ملیه از تأدب به آداب محمدیه است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور