صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 18 - در معنی اینکه پختگی سیرت ملیه از اتباع آئین الهیه است

بخش 18 - در معنی اینکه پختگی سیرت ملیه از اتباع آئین الهیه است

سیرت ملّی کی پختگی آئینِ الہٰیہ کے اتباع سے ہے

That maturity of communal life derives from following the divine law

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

در شریعت معنی دیگر مجو

غیر ضو در باطن گوهر مجو

شریعت میں کوئی دوسرے معنی تلاش نہ کر ۔ موتی کے اندر چمک دمک اور روشنی کے سوا کچھ اور مت ڈھونڈ ۔

Seek thou no other meaning in the Law, Nor look save light to find within the gem;

22

این گهر را خود خدا گوهر گر است

ظاهرش گوهر بطونش گوهر است

اس موتی (یعنی شریعت) کو موتی بنانے والی خود اللہ کی ذات ہے ۔ اس کا ظاہر بھی موتی ہے اور باطن بھی موتی ۔

God was the jeweller who fashioned forth This jewel, diamantine through and through.

33

علم حق غیر از شریعت هیچ نیست

اصل سنت جز محبت هیچ نیست

یہ جو شریعت، طریقت، حقیقت اور معرفت کی اصلاحیں وضع کی گئیں ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔ واضح رہے کہ علم حق شریعت کے سوا کچھ نہیں ۔ شریعت وہی ہے جو اللہ کے حکم سے رسول اللہ نے انسانوں تک پہنچائی ۔ اور تجھے معلوم ہے کہ سنت کی اصلیت کیا ہے محض اللہ اور اس کے رسول پاک کے حکم پر عمل سے محبت جو شخص اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی شریعت اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کے لیے جذب و کشش اپنے اندر نہیں رکھتا اس کی زبان سے محبت کا دعویٰ جھوٹا سمجھا جائے گا ۔

Law is the only knowledge of the Truth, Love the sole basis of the Prophet’s code;

44

فرد را شرع است مرقات یقین

پخته تر از وی مقامات یقین

فرد کے لیے شریعت ایسا زینہ ہے جو اسے یقین کی بلندی پر پہنچا دے ۔ شریعت ہی کی پیروی سے یقین کے مقامات پختہ اور مستحکم ہوتے ہیں ۔

The individual through Law attains A faith maturer, and more fair adorned.

55

ملت از آئین حق گیرد نظام

از نظام محکمی خیزد دوام

ملت خدا کے مقرر کیے ہوئے دستور کے مطابق نظام و ترکیب پاتی ہے ۔ یہ نظام پختہ ہو جاتا ہے تو ہمیشہ کے لیے قائم رہتا ہے ۔

The rule of Law secures an ordered life To all the nation, which established rule Condition is of its continuance.

66

قدرت اندر علم او پیداستی

هم عصا و هم ید بیضاستی

اس کے علم میں یعنی اسے جاننے میں قوت و قدرت پیدا ہوتی ہے ۔ یہ عصا بھی ہے اور ید بیضا بھی ۔

Power is patent in its knowledge, this The sign of Moses’ staff and potent hand;

77

با تو گویم سر اسلام است شرع

شرع آغاز است و انجام است شرع

شریعت ہی اسلام کا آغاز اور شریعت ہی انجام ہے ۔ یعنی اسلام کی ساری بنیاد شرع پر ہی ہے ۔

So I declare the secret of Islam Is Law, in which all things begin and end.

88

ای که باشی حکمت دین را امین

با تو گویم نکته ی شرع مبین

اے مخاطب تو دین کی حکمت کا امانت دار ہے میں تجھے اسلام کی روشن شریعت کا ایک نکتہ بتاتا ہوں ۔

Since thou art called to be a guardian Of the Faith’s wisdom, I will tell to thee A subtle truth of the perspicuous Law.

99

چون کسی گردد مزاحم بی سبب

با مسلمان در ادای مستحب

جب کوئی فرد یا گروہ بلاوجہ مسلمان کو کسی مستحب فعل سے روکتا ہے ۔

If any Muslim be engaged upon A meritorious act, and causelessly Therein be challenged

1010

مستحب را فرض گرادنیده اند

زندگی را عین قدرت دیده اند

تو وہ مستحب نہیں رہتا بلکہ فرض کی صورت اختیار کر لیتا ہے (اس کا مطلب کیا ہے ) یہ کہ زندگی قدرت و قوت کے سوا کچھ نہیں ۔

forthwith it becomes His sacred duty to discharge the same; Power is deemed the very spring of Life.

1111

روز هیجا لشکر اعدا اگر

بر گمان صلح گردد بی خطر

اگر لڑائی کے دن دشمن اس خیال سے بے فکر ہو جائے کہ صلح ہو رہی ہے ۔

Upon the day of battle, if the foe Supposing truce is imminent neglects His army’s marshalling,

1212

گیرد آسان روزگار خویش را

بشکند حصن و حصار خویش را

حفاظت کے لیے اس نے جو پابندیاں عائد کر رکھی تھیں انہیں ڈھیلی کر دے اور دفاعی تدابیر سے کنارہ کش ہو جائے

and casually Confronts his fortune, breaking down the wall And citadel of his defence;

1313

تا نگیرد باز کار او نظام

تاختن بر کشورش آمد حرام

جب تک اس کے تمام حفاظتی انتظامات پہلی شکل پر نہ آ جائیں اس کی مملکت پر لشکر کشی حرام ہے ۔

until His order is restored, to march against His unarmed country is prohibited.

1414

سر این فرمان حق دانی که چیست

زیستن اندر خطرها زندگیست

کیا تجھے معلوم ہے کہ خدا کے اس فرمان میں کیا راز چھپا ہوا ہے یہ کہ خطروں میں جینا اصل زندگی ہے ۔

Knowest thou then the mystery of this Divine commandment? Life not living is Except we live in danger.

1515

شرع می خواهد که چون آئی بجنگ

شعله گردی واشکافی کام سنگ

شریعت (اس بات کی خواہاں ہے) کا تقاضا یہ ہے کہ جب مسلمان جنگ کے لیے نکلے توشعلہ بن کر ہر طرف لپکے اور پتھروں کے گلے تک کو چیرتا جائے ۔

Law requires That when to war thou comest, thou shalt blaze A fiery torch, and split the throat of rock.

1616

آزماید قوت بازوی تو

می نهد الوند پیش روی تو

شریعت تیرے بازو کی قوت آزمانے کی غرض سے الوند جیسا پہاڑ تیرے سامنے ڈال دیتی ہے ۔

Law tries the power of the strong right arm; Confronting thee with Alond’s massive height

1717

باز گوید سرمه ساز الوند را

از تف خنجر گداز الوند را

وہ کہتی ہے کہ تو الوند پہاڑ کو پیس کر سرمہ بنا دے اور اپنے خنجر کی حرارت سے اسے پگھلا دے ۔

It bids thee pound into collyrium That craggy mount, and with the ardent breath Drawn from thy throat its flint to liquefy.

1818

نیست میش ناتوانی لاغری

درخور سر پنچه شیر نری

کمزور اور دبلی بھیڑ اس لائق نہیں ہوتی کہ نر شیر اسے شکار کرے اور پنجہ مارنے کی زحمت اٹھائے ۔

The lean and feeble sheep is scarce a prey Worthy the tiger’s claw;

1919

باز چون با صعوه خوگر می شود

از شکار خود زبون تر می شود

اگر باز ممولے کے شکار کا عادی ہو جائے تو آہستہ آہستہ وہ اپنے شکار سے بھی زیادہ کمزور اور بے بس ہو جائے گا ۔

or if the hawk Consorts with sparrows, meaner-spirited Than its poor victims it shall soon become.

2020

شارع آئین شناس خوب و زشت

بهر تو این نسخه ی قدرت نوشت

یہی وجہ ہے کہ شریعت تربیت دینے والی پاک ذات نے جو اچھے برے کی حقیقت سے خوب واقف تھی تیرے (مسلمان) کے لیے ایک ایسا دستور تیار کر دیا جو قوت کا طلبگار ہے اور قوت پیدا کرنے میں معاون ہوتا ہے ۔

The Lawgiver, to whom all fair and foul Was fully known, this recipe of power For thee prescribed.

2121

از عمل آهن عصب می سازدت

جای خوبی در جهان اندازدت

اس دستور میں یہ صلاحیت ہے کہ اگر تو کمزور اور ناتواں ہو گا تو تجھے قوی اور پہاڑ کی طرح پختہ کر دے گا اور دنیا میں تجھے اعلیٰ مقام پر فائز کر دے گا ۔

By toil the nerves are steeled, And thou art raised to eminence in the world;

2222

خسته باشی استوارت می کند

پخته مثل کوهسارت می کند

اگر تو دلگیر ہے تو وہ تجھے مضبوط دل والا بنا دے گا اور تجھے پہاڑ کی مانند مستحکم اور اٹل بنا دے گا ۔

Or be thou wounded, this will make thee strong, Yea, and mature as a firm mountain-chain.

2323

هست دین مصطفی دین حیات

شرع او تفسیر آئین حیات

یاد رکھ کہ رسول اللہ کا دین زندگی کا دین ہے اور حضور جو شریعت لائے وہ زندگی کے دستور کی تفصیل ہے ۔

Full life’s religion is Muhammad’s faith, His code the commentary on life’s law;

2424

گر زمینی آسمان سازد ترا

آنچه حق می خواهد آن سازد ترا

اگر تو پستی میں زمین کے برابر ہے تو یہ دین تجھے آسمان کی بلندی عطا کر دے گا اور خدا تجھے جو کچھ بنانا چاہتا ہے بنا دے گا ۔

Be though earth-lowly, it shall lift thee up High as the heavens, and will fashion thee Harmonious to God’s summons.

2525

صیقلش آئینه سازد سنگ را

از دل آهن رباید زنگ را

اس دین کی صیقل سے پتھر آئینہ بن جاتا ہے اور لوہے کی زنگار کی آلائش نکل جاتی ہے ۔

The rough rock Is polished to a mirror by this faith, And this unrests the steel’s corroding heart.

2626

تا شعار مصطفی از دست رفت

قوم را رمز بقا از دست رفت

جب سے قوم سے رسول اللہ کی سنت کا دامن چھوٹا ہے وہ بقا کی حقیقت اور بھید سے نا آشنا ہو گئی ۔

Now when the Prophet’s watchword passed from ken His people held no more the secret key To their continuance.

2727

آن نهال سربلند و استوار

مسلم صحرائی اشتر سوار

صحرا میں رہنے اور اونٹ پر سوار ہونے والا مسلمان ایک ایک بلند اور پائیدار درخت کی طرح تھا ۔

That lusty sprout Tall and firm-rooted Muslim of the wastes Mounted on camel,

2828

پای تا در وادی بطحا گرفت

تربیت از گرمی صحرا گرفت

اس نے وادی بطحا میں جڑ پکڑی، صحرا کی گرمی آب و ہوا میں نشوونما پائی ۔

who in Batha’s vale Took his first steps that by the desert warmth Was nourished up, now fanned by Persia’s breeze

2929

آن چنان کاهید از باد عجم

همچو نی گردید از باد عجم

افسوس کہ عجم کی ہوا نے اس کی قوت چھین لی اب وہ نے بنا ہوا ہے جو اندر سے خالی ہے (مطلب یہ ہے کہ جب تک مسلمان عربی طور طریقوں اور اسلامی شیووں پر کاربند تھے انہیں دنیا بھر میں سربلندی حاصل تھی لیکن جب عجمیوں کے طور طریقے اختیار کر لیے ان میں سختیاں برداشت کرنے کی قوت نہ رہی تو ان کی پہلی حیثیت زائل ہو گئی ۔ )

now fanned by Persia’s breeze Is so diminished, that it hath become Thin as a reed.

3030

آنکه کشتی شیر را چون گوسفند

گشت از پامال موری دردمند

جو مسلمان شیروں کو بھیڑوں کی طرح بے حقیقت سمجھ کر موت کے گھاٹ اتار دیتے تھے اب ان کا یہ حال ہے کہ ایک چیونٹی بھی پاؤں کے نیچے روندی جائے تو ان کا دل درد سے تڑپ اٹھتا ہے ۔

He who was wont to slay Tigers like sheep now winces at the ant Trampled unwittingly;

3131

آنکه از تکبیر او سنگ آب گشت

از صفیر بلبلی بیتاب گشت

جن مسلمانوں کی تکبیر سے پتھر بھی پانی ہو جایا کرتا تھا وہ اب ایک بلبل کی آواز سن کر بے قرار ہو جاتے ہیں ۔

he who in joy, Allahu Akbar crying, turned the rock To running water, trembles at the note Of amorous nightingales;

3232

آنکه عزمش کوه را کاهی شمرد

با توکل دست و پای خود سپرد

جن مسلمانوں کا عزم اتنا بلند تھا کہ وہ پہاڑوں کو گھاس کے تنکے سمجھتے تھے اب ہاتھ پاؤں توڑے بیٹھے ہیں اور انھوں نے اس کا نام توکل رکھ لیا ہے ۔

he whose high will Reckoned the mountain trifling as a straw Commits himself entire to abject trust;

3333

آنکه ضربش گردن اعدا شکست

قلب خویش از ضربهای سینه خست

جن مسلمانوں کی ضربیں دشمنوں کی گردنیں توڑتی تھیں اب وہ اپنے سینوں کی ضربوں سے اپنا دل زخمی کر چکے ہیں

He whose firm blow once broke his foemen’s neck, His heart is wounded by his own breast’s beat;

3434

آنکه گامش نقش صد هنگامه بست

پای اندر گوشه ی عزلت شکست

جن مسلمانوں کے نقش قدم سے سینکڑوں ہنگاموں کا سروسامان ہو جاتا تھا اب علیحدگی کے کونے میں پاؤں توڑے بیٹھے ہیں ۔

He whose bold tread a hundred tumults limned Now cowers in retirement from the world;

3535

آنکه فرمانش جهان را ناگزیر

بر درش اسکندر و دارا فقیر

جن مسلمانوں کے فرمان دنیا کے لیے اٹل ہوتے تھے اور جن کے دروازوں پر سکندر اور دارا جیسے بادشاہ بھیک مانگا کرتے تھے ۔

He whose command none dared to disobey, Before whose door great Alexander stood A suppliant, and Darius begged his bread,

3636

کوشش او با قناعت ساز کرد

تا به کشکول گدائی ناز کرد

ان مسلمانوں نے اب جدوجہد چھوڑ کر قناعت اپنا لی، یہاں تک کہ وہ بھیک کے کاسے پر فخر کرنے لگے (دوسروں کے آگے سر جھکانا ان کے لیے باعث فخر ہے ) ۔

His ardour is attuned to mean content, His boast the proffered bowl of mendicants.

3737

شیخ احمد سید گردون جناب

کاسب نور از ضمیرش آفتاب

شیخ احمد رفاعی جن کے بارگاہ بلندی میں آسمان کے برابر تھی سورج ان کے ضمیر سے نور حاصل کرتا تھا ۔

Shaykh Ahmad, Sayyid lofty as the spheres, From whose keen brain the sun’s self borrowed light

3838

گل که می پوشد مزار پاک او

لااله گویان دمد از خاک او

ان کے مقدس مزار پر جو پھول ہیں وہ لا الہ کہتے ہوئے زمین سے سر باہر نکالتے ہیں ۔

The roses that bedeck his holy grave No other god but God breathe from his dust

3939

با مریدی گفت ای جان پدر

از خیالات عجم باید حذر

انھوں نے اپنے ایک مرید سے فرمایا ، بیٹا عجمیوں کے خیالات سے پرہیز لازم ہے ۔

Thus spoke to a disciple: “O though life Of thy dear father, it behoves us all That we beware of non arab fantasies;

4040

زانکه فکرش گرچه از گردون گذشت

از حد دین نبی بیرون گذشت

اگرچہ عجمیوں کی فکر آسمان سے بھی آگے نکل گئی لیکن افسوس کہ رسول اللہ کے دین کی حد کے اندر نہ رہی ۔

Though non arab thoughts the heavens have surpassed They equally transgress the boundaries Set by the Prophet’s Faith.”

4141

ای برادر این نصیحت گوش کن

پند آن آقای ملت گوش کن

اے بھائی ملت کے اس مخدوم کی نصیحت غور و توجہ سے سن ۔

Brother, give ear To his sage counsel, and attentively Receive the rede of a protagonist Of our community;

4242

قلب را زین حرف حق گردان قوی

با عرب در ساز تا مسلم شوی

یہ سچی بات ہے اس سے دل کو مضبوط کر ۔ عرب سے تعلق پیدا کر تا کہ تو مسلمان ہو جائے ۔ نوٹ: عرب و عجم کی اصطلاحات سے مقصود ملک عرب اور ملک ایران یا کوئی اور نسل نہیں ۔ اقبال نے ان اصلاحوں کو خاص معنی میں استعمال کیا ہے ۔ عرب سے ان کا مقصود پاک دین ہے جو رسول اللہ اس دنیا میں لائے ۔ عجم سے مقصود اسلام کا وہ ڈھانچہ ہے جو عجمی تصورات و نظریات کے سانچے میں تیار ہوا اور جسے اصل اسلام سے کوئی خاص مناسبت نہ رہی ۔

take these wise words To fortify thy heart; conform thyself With Arab ways, to be a Muslim true.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

عهد حاضر فتنه ها زیر سر است

طبع ناپروای او آفت گر است

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 17 - در معنی اینکه در زمانه انحطاط تقلید از اجتهاد اولی تر است

اگلی نظم

سائلی مثل قضای مبرمی

بر در ما زد صدای پیهمی

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 19 - در معنی اینکه حسن سیرت ملیه از تأدب به آداب محمدیه است

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور