حسنِ سیرت ملیہ کا بیان جو آداب محمدیہ سے درسِ ادب کے حصول میں مضمر ہے
That a good communal character derives from discipline according to the manners of the Prophet
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
سائلی مثل قضای مبرمی
بر در ما زد صدای پیهمی
ایک دن ایک بھکاری اٹل قضا کی طرح ہمارے دروازے پر بار بار صدائیں لگانے لگا ۔
A mendicant like Fate inexorable Battered upon our door incessantly;
از غضب چوبی شکستم بر سرش
حاصل دریوزه افتاد از برش
میں (علامہ) نے غصے کے عالم میں اس کے سر پر اس زور سے چھڑی ماری کہ وہ ٹوٹ گئی ۔ بھیک مانگ کر جو کچھ اس نے جھولی میں جمع کیا تھا وہ زمین پر گر پڑا ۔
Enraged, I broke a stave upon his head, And all the harvest of his beggary Spilled from his hand.
عقل در آغاز ایام شباب
می نیندیشد صواب و ناصواب
دور جوانی کا آغاز تھا اور معلوم ہے کہ اس دور میں عقل نیک و بد اور درست و نادرست نہیں سوچا کرتی (چنانچہ مجھ میں سوچے سمجھے بغیر یہ حرکت سرزد ہوئی) ۔
In youth’s beginning days The reason thinks not upon right and wrong.
از مزاج من پدر آزرده گشت
لاله زار چهره اش افسرده گشت
میرے مزاج کی یہ حالت دیکھ کر والد ماجد بہت آرزدہ ہوئے ۔ ان کے چہرے کا لالہ زار مرجھا کے رہ گیا ۔ یعنی ان کے چہرے کی سرخی پر افسردگی چھا گئی ۔
My father, by my temper much distressed, Grew very pale; the tulips of his cheeks Withered;
بر لبش آهی جگر تابی رسید
در میان سینه ی او دل تپید
ان کے لبوں سے ایک جگر سوز آہ نکلی اور دل سینے میں تڑپ اٹھا ۔
an anguished sigh sprang from his lip
کوکبی در چشم او گردید و ریخت
بر سر مژگان دمی تابید و ریخت
ایک آنسو جس کی شکل ستارے کی تھی ان کی آنکھوں سے نکلا، کچھ دیر مژگان پر چمکا اور گر گیا ۔
A star gleamed in his eye, brief glittering Upon his lashes, and then slowly fell.
همچو آن مرغی که در فصل خزان
لرزد از باد سحر در آشیان
میری کیفیت یہ تھی کہ ڈر کے مارے جان میرے بدن میں لرز اٹھی ، جیسے پرندہ خزاں کے موسم میں گھونسلے کے اندر بیٹھا ہوا صبح کی ہوا سے لرز اٹھتا ہے ۔
And as a bird that in the time of Fall Trembles within his nest when dawn blows chill,
در تنم لرزید جان غافلم
رفت لیلای شکیب از محملم
میں اس نتیجے سے غافل تھا ۔ والد کی کیفیت دیکھ کر صبر کی لیلیٰ میرے محمل سے نکل گئی یعنی مجھ میں صبر کی تاب نہ رہی ۔
So in my flesh shivered my heedless soul; The Layla of my patience now no more Rode peacefully the litter of my heart.
گفت فردا امت خیرالرسل
جمع گردد پیش آن مولای کل
والد نے فرمایا کہ کل رسول اللہ ﷺ کی امت اس ذات پاک کے سامنے جمع ہو گی جسے سب کی آقائی کا درجہ حاصل ہے ۔
And then my father spoke: “Upon that morn The people of the Best of Messengers Are gathered up before the Lord of All,
غازیان ملت بیضای او
حافظان حکمت رعنای او
ان میں ملت بیضاکے غازی بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی جو اسلام کی حکمت رعنا کے حافظ تھے یعنی بلند پایہ اصحاب و بصیرت ۔
Warriors of his Pure Community And guardians of his Wisdom’s loveliness,
هم شهیدانی که دین را حجت اند
مثل انجم در فضای ملت اند
وہ شہید بھی ہوں گے جو دین حق کے لیے دلیل ہیں اور ملت کی فضا میں ستاروں کی مانند چمک رہے ہیں ۔
Martyrs who proved the Faith – all these like stars Shall shine within that peopled firmament;
زاهدان و عاشقان دل فگار
عالمان و عاصیان شرمسار
ان میں زاہد بھی ہوں گے دل فگار عاشق بھی ۔ عالم بھی ہوں گے اور شرمسار گنہگار بھی ۔
Ascetics too, and they that loved their God With anguished hearts, and scholars erudite, And shamefast rebels against God’s commands.
در میان انجمن گردد بلند
ناله های این گدای دردمند
اس مجمع میں اس بھکاری کے حلق سے آہ و فغاں بلند ہو گی جسے تیرے ہاتھ سے دکھ پہنچا ۔
Then in the midst of that great company This suffering beggar’s cries shall mount on high.
ای صراطت مشکل از بی مرکبی
من چه گویم چون مرا پرسد نبی
بیٹا! سواری کے بغیر تیرا راستہ تو طے ہونا مشکل نظر آتا ہے ۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب رسول اللہ مجھ سے فرمائیں گے ۔
O thou condemned to tread an arduous road Unmounted, footsore, what am I to say When this the Prophet asks me:
«حق جوانی مسلمی با تو سپرد
کو نصیبی از دبستانم نبرد
خدا نے ایک مسلمان نوجوان کو تیرے سپرد کیا کہ اسے صحیح تعلیم و تربیت دے ۔
‘God to thee Committed a young Muslim, and he won No portion of instruction from my school;
از تو این یک کار آسان هم نشد
یعنی آن انبار گل آدم نشد»
حضور فرمائیں گے کہ تو تو اس آسان کام کو بھی پورا نہ کر سکا، یعنی مٹی کے انبار کو آدمی نہ بنا سکا ۔ بتا میں اس وقت کیا جواب دے سکوں گا ۔
What, was this labour too, too hard for thee, So that that heap of clay became not man?”
در ملامت نرم گفتار آن کریم
من رهین خجلت و امید و بیم
والد لطف و کرم کا پیکر تھے اگرچہ مجھے ملامت کر رہے تھے لیکن گفتگو میں بڑی نرمی اور حلیمی تھی ۔ میں شرم کے مارے پانی پانی ہو رہا تھا اور امید و بیم کا شکار تھا ۔
So gentle was my noble sire’s reproof That I was torn by shame and hope and fear:
اندکی اندیش و یاد آر ای پسر
اجتماع امت خیرالبشر
والد نے فرمایا، بیٹا ذرا رسول اللہ کی امت کا جمع ہونا تو پیش نظر لا ۔
“Reflect a little, son, and bring to mind The last great gathering of the Prophet’s fold;
باز این ریش سفید من نگر
لرزه ی بیم و امید من نگر
پھر میری سفید داڑھی دیکھ اور یہ سوچ کہ امید و بیم (خوف) کے لرزے سے میری حالت کیا ہو گی ۔
Look once again on my white hairs, and see How now I tremble between fear and hope;
بر پدر این جور نازیبا مکن
پیش مولا بنده را رسوا مکن
دیکھ اپنے باپ پر یہ نازیبا ظلم نہ کر اور غلام کے لیے آقا کے روبرو رسوائی کا سامان نہ پہنچا ۔
Do not thy father this foul injury, O put him not to shame before his Lord!”
غنچه ئی از شاخسار مصطفی
گل شو از باد بهار مصطفی
تو رسول اللہ کی شاخ کا غنچہ ہے حضورہی کی نسیم بہار سے شگفتہ ہو کر پھول بن جا ۔
Thou art a bud burst from Muhammad’s branch; Break into bloom before the genial breeze Of his warm Spring;
از بهارش رنگ و بو باید گرفت
بهره ئی از خلق او باید گرفت
تجھے رسول اللہ کی نسیم سے رنگ و بو حاصل کرنا چاہیے ۔ یعنی رسول اللہ ہی کے خلق عظیم سے حصہ لینا لازم ہے ۔
win thee the scent and hue Of that sweet season; strive to gain for thee Some fragment of his character sublime.
مرشد رومی چه خوش فرموده است
آنکه یم در قطره اش آسوده است
دیکھ مولانا روم کیا اچھی بات کہہ گئے ہیں ۔ وہ مولانا جن کے ہر قطرے میں حقائق کا سمندر سمایا ہوا ہے ۔
Well said great Rumi, guide in whose shrunk drop An ocean of deep wisdom slumbereth:
«مگسل از ختم رسل ایام خویش
تکیه کم کن بر فن و بر گام خویش»
(فرماتے ہیں ) اپنی زندگی کا رشتہ رسول اللہ سے مت توڑ، اپنے علم و فن اور روش پر بھروسہ نہ کر ۔
“Snap not the thread of thy brief days from him Who was the Seal of Prophets; little trust In thy poor craft and faltering footsteps place.”
فطرت مسلم سراپا شفقت است
در جهان دست و زبانش رحمت است
مسلمان کی فطرت سر سے پاؤں تک (سراسر) شفقت ہے اس دنیا میں اس کا ہاتھ اور اس کی زبان رحمت کا پیغام ہے ۔
The nature of the Muslim through and through Is loving kindness; with both hand and tongue He strives to be a mercy in the world,
آنکه مهتاب از سر انگشتش دونیم
رحمت او عام و اخلاقش عظیم
وہ پاک ذات جس کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا ، کیا یہ معلوم نہیں کہ وہ سب کے لیے رحمت تھے اور ان کا لقب ہی رحمت للعالمین تھا ۔ پھر ان کے اخلاق سب سے اعلیٰ تھے ۔
As he whose fingers split the moon in twain Embraces in his mercy all mankind.
از مقام او اگر دور ایستی
از میان معشر ما نیستی
اگر تو حضورکے مقام سے دور رہا تو جان لے کہ پھر ہماری جماعت میں سے نہ ہو گا ۔
Thou art no member of our company If from his station thou departest far.
تو که مرغ بوستان ماستی
هم صفیر و هم زبان ماستی
تو ہمارے باغ کا پرندہ ہے ، ہمارا صفیر و ہما زبان ہے ۔
Bird of our garden, one in song and tongue With us,
نغمه ئی داری اگر تنها مزن
جز بشاخ بوستان ما مزن
اگر تیرے اندر نغمے کی صلاحیت ہے تو ہمارے باغ کی شاخ پر بیٹھ کر گا، ہم سے الگ ہو کر نغمہ سرا نہ ہو ۔
if thou dost own a melody Carol it not alone, nor let it soar But on a branch that in our garden grows.
هر چه هست از زندگی سرمایه دار
میرد اندر عنصر ناسازگار
اس دنیا میں جو بھی شے زندگی کے سرمائے سے مالامال ہے جب کسی ناسازگار فضا میں پہنچتی ہے تو مر جاتی ہے ۔
Whatever thing has capital of life Dies in an uncongenial element
بلبل استی در چمن پرواز کن
نغمه ئی با هم نوایان ساز کن
تو اگر بلبل ہے تو چمن میں پرواز کر (باغ میں ہے پرواز کا شوق پورا کر) اور اپنوں کے ساتھ مل جل کر گا ۔ یہاں باغ سے مراد رسول اللہ کا اسوہ مبارک ہے ۔
Art thou a nightingale? Fly in the mead, And with thy fellow-minstrels mediate Thy song.
ور عقاب استی ته دریا مزی
جز بخلوت خانه ی صحرا مزی
اگر تو عقاب ہے تو دریا کی تہہ میں زندگی بسر نہ کر ۔ صحرا کے خلوت خانہ کے سوا اور کہیں زندگی بسر نہ کر ۔ تیرے لیے صحیح مقام صحرا ہے ۔
Art thou an eagle? Do not live At ocean’s bottom; in the solitude Of the unpeopled desert make thy home.
کوکبی ! می تاب بر گردون خویش
پا منه بیرون ز پیرامون خویش
کیا تو ستارہ ہے پھر اپنے آسمان کے سوا کہیں نہ چمک اپنے گردوپیش سے قدم باہر نہ رکھ ۔
Art thou a star? Shine in thy firmament, Nor set thy foot beyong thy proper bounds.
قطره آبی گر از نیسان بری
در فضای بوستانش پروری
اگر تو بہار سے پانی کا قطرہ لے اور اسے باغ کی فضا میں پرورش کرے ۔
If thou wilt take a drop of April shower And nurture it within the garden’s close
تا مثال شبنم از فیض بهار
غنچه ی تنگش بگیرد در کنار
یہاں تک کہ بہار کے فیض سے ایک شبنم کے قطرے کی طرح اسے اپنی گود میں لے لے ۔
Till, like the dew of the abounding Spring A rosebud takes it to its near embrace,
از شعاع آسمان تاب سحر
کز فسونش غنچه می بندد شجر
صبح کے وقت جو کرن آسمان پر روشنی پھیلاتی ہے اور اس کے منتر سے غنچہ درخت بن جاتا ہے ۔
Then, in the rays of heaven-glittering dawn Whose magic knots the blossoms on the branch,
عنصر نم بر کشی از جوهرش
ذوق رم از سالمات مضطرش
تو اس کرن سے کام لے کر قطرے کے جوہر سے نمی باہر کھینچ لے اور اس کے بیتاب اجزائے ترکیبی میں حرکت کا ذوق باقی نہ چھوڑ ۔
Thou shalt draw out the lucent element Within its substance, all the ecstasy Of leaping in its trembling particles.
گوهرت جز موج آبی هیچ نیست
سعی تو غیر از سرابی هیچ نیست
اس طرح جو جوہر تیار کرے گا صرف پانی کا ہو گا اور تیری کوشش کی حیثیت سراب سے زیادہ نہ ہوگی ۔ (اس مثال سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ ہر شے اپنے اصل ماحول میں صحیح شکل اختیار کرتی ہے ماحول سے باہر نکل کر کتنی ہی کوششیں کی جائیں وہ مطلوب نتیجے پیدا نہیں کرے گی ۔
What is thy jewel? But a watery wave; What is thy effort? Naught save a mirage.
در یم اندازش که گردد گوهری
تاب او لرزد چو تاب اختری
اگر تو اسے موتی بنانا چاہتا ہے تو اس کی تدبیر یہ ہے کہ قطرہ سمندر میں پہنچے اور صدف کی گود میں پرورش پائے بھی اس کی چمک دمک تارے کی چمک دمک اختیار کر لے گی کیونکہ وہ اپنے اصل ماحول میں پہنچ جائے گا اور قدرت کے مقرر کیے ہوئے اصول کے مطابق پرورش پائے گا ۔
Hurl it to ocean, that it may become A jewel gleaming like a tremulous star.
قطره ی نیسان که مهجور از یم است
نذر خاشاکی مثال شبنم است
ابر بہار کا جو قطرہ سمندر سے دور رہ جائے گا وہ شبنم کے قطروں کی طرح خس و خاشاک کی نذر ہو جائے گا (جو چیز اپنے ماحول سے الگ ہو جاتی ہے اس کا انجام یہی ہوتا ہے ) ۔
The April raindrop, banished from the sea, Dies on the cornstalk with the morning dew.
طینت پاک مسلمان گوهر است
آب و تابش از یم پیغمبر است
مسلمان کی سرشت بھی موتی کی طرح پاک ہے ۔ اسے رسول اللہ کے سمندر سے آب و تاب ملتی ہے ۔
The pure clay of the Muslim is a gem; Its lustre and its radiance derive Out of the Prophet’s ocean.
آب نیسانی به آغوشش در آ
وز میان قلزمش گوهر بر آ
اگر تو ابر بہار کا قطرہ ہے تو اس سمندر کی آغوش میں پہنچ اور اس کی تہہ سے موتی بن کر باہر نکل ۔ پھر دنیا میں سورج سے بھی زیادہ روشن ہو جا بلکہ دائمی تابا نی و درخشانی کا مالک ہو جا ۔
Come thou, then, Brief April shower, come into his breast, And issue from his mighty sea, a pearl!
در جهان روشن تر از خورشید شو
صاحب تابانی جاوید شو
پھر دنیا میں آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہو کر (چمک) اور ہمیشہ کی تابانی پا لے۔ در معنی اینکہ حیات ملیہ مرکز محسوس میخواہد و مرکز ملت اسلامیہ بیت الحرام است
ترجمہ: میاں عبدالرشید
Outshine the sun upon this shadowy world, And glow forever in immortal light.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور