صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 19 - در معنی اینکه حسن سیرت ملیه از تأدب به آداب محمدیه است

بخش 19 - در معنی اینکه حسن سیرت ملیه از تأدب به آداب محمدیه است

حسنِ سیرت ملیہ کا بیان جو آداب محمدیہ سے درسِ ادب کے حصول میں مضمر ہے

That a good communal character derives from discipline according to the manners of the Prophet

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

سائلی مثل قضای مبرمی

بر در ما زد صدای پیهمی

ایک دن ایک بھکاری اٹل قضا کی طرح ہمارے دروازے پر بار بار صدائیں لگانے لگا ۔

A mendicant like Fate inexorable Battered upon our door incessantly;

22

از غضب چوبی شکستم بر سرش

حاصل دریوزه افتاد از برش

میں (علامہ) نے غصے کے عالم میں اس کے سر پر اس زور سے چھڑی ماری کہ وہ ٹوٹ گئی ۔ بھیک مانگ کر جو کچھ اس نے جھولی میں جمع کیا تھا وہ زمین پر گر پڑا ۔

Enraged, I broke a stave upon his head, And all the harvest of his beggary Spilled from his hand.

33

عقل در آغاز ایام شباب

می نیندیشد صواب و ناصواب

دور جوانی کا آغاز تھا اور معلوم ہے کہ اس دور میں عقل نیک و بد اور درست و نادرست نہیں سوچا کرتی (چنانچہ مجھ میں سوچے سمجھے بغیر یہ حرکت سرزد ہوئی) ۔

In youth’s beginning days The reason thinks not upon right and wrong.

44

از مزاج من پدر آزرده گشت

لاله زار چهره اش افسرده گشت

میرے مزاج کی یہ حالت دیکھ کر والد ماجد بہت آرزدہ ہوئے ۔ ان کے چہرے کا لالہ زار مرجھا کے رہ گیا ۔ یعنی ان کے چہرے کی سرخی پر افسردگی چھا گئی ۔

My father, by my temper much distressed, Grew very pale; the tulips of his cheeks Withered;

55

بر لبش آهی جگر تابی رسید

در میان سینه ی او دل تپید

ان کے لبوں سے ایک جگر سوز آہ نکلی اور دل سینے میں تڑپ اٹھا ۔

an anguished sigh sprang from his lip

66

کوکبی در چشم او گردید و ریخت

بر سر مژگان دمی تابید و ریخت

ایک آنسو جس کی شکل ستارے کی تھی ان کی آنکھوں سے نکلا، کچھ دیر مژگان پر چمکا اور گر گیا ۔

A star gleamed in his eye, brief glittering Upon his lashes, and then slowly fell.

77

همچو آن مرغی که در فصل خزان

لرزد از باد سحر در آشیان

میری کیفیت یہ تھی کہ ڈر کے مارے جان میرے بدن میں لرز اٹھی ، جیسے پرندہ خزاں کے موسم میں گھونسلے کے اندر بیٹھا ہوا صبح کی ہوا سے لرز اٹھتا ہے ۔

And as a bird that in the time of Fall Trembles within his nest when dawn blows chill,

88

در تنم لرزید جان غافلم

رفت لیلای شکیب از محملم

میں اس نتیجے سے غافل تھا ۔ والد کی کیفیت دیکھ کر صبر کی لیلیٰ میرے محمل سے نکل گئی یعنی مجھ میں صبر کی تاب نہ رہی ۔

So in my flesh shivered my heedless soul; The Layla of my patience now no more Rode peacefully the litter of my heart.

99

گفت فردا امت خیرالرسل

جمع گردد پیش آن مولای کل

والد نے فرمایا کہ کل رسول اللہ ﷺ کی امت اس ذات پاک کے سامنے جمع ہو گی جسے سب کی آقائی کا درجہ حاصل ہے ۔

And then my father spoke: “Upon that morn The people of the Best of Messengers Are gathered up before the Lord of All,

1010

غازیان ملت بیضای او

حافظان حکمت رعنای او

ان میں ملت بیضاکے غازی بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی جو اسلام کی حکمت رعنا کے حافظ تھے یعنی بلند پایہ اصحاب و بصیرت ۔

Warriors of his Pure Community And guardians of his Wisdom’s loveliness,

1111

هم شهیدانی که دین را حجت اند

مثل انجم در فضای ملت اند

وہ شہید بھی ہوں گے جو دین حق کے لیے دلیل ہیں اور ملت کی فضا میں ستاروں کی مانند چمک رہے ہیں ۔

Martyrs who proved the Faith – all these like stars Shall shine within that peopled firmament;

1212

زاهدان و عاشقان دل فگار

عالمان و عاصیان شرمسار

ان میں زاہد بھی ہوں گے دل فگار عاشق بھی ۔ عالم بھی ہوں گے اور شرمسار گنہگار بھی ۔

Ascetics too, and they that loved their God With anguished hearts, and scholars erudite, And shamefast rebels against God’s commands.

1313

در میان انجمن گردد بلند

ناله های این گدای دردمند

اس مجمع میں اس بھکاری کے حلق سے آہ و فغاں بلند ہو گی جسے تیرے ہاتھ سے دکھ پہنچا ۔

Then in the midst of that great company This suffering beggar’s cries shall mount on high.

1414

ای صراطت مشکل از بی مرکبی

من چه گویم چون مرا پرسد نبی

بیٹا! سواری کے بغیر تیرا راستہ تو طے ہونا مشکل نظر آتا ہے ۔ میں پوچھتا ہوں کہ جب رسول اللہ مجھ سے فرمائیں گے ۔

O thou condemned to tread an arduous road Unmounted, footsore, what am I to say When this the Prophet asks me:

1515

«حق جوانی مسلمی با تو سپرد

کو نصیبی از دبستانم نبرد

خدا نے ایک مسلمان نوجوان کو تیرے سپرد کیا کہ اسے صحیح تعلیم و تربیت دے ۔

‘God to thee Committed a young Muslim, and he won No portion of instruction from my school;

1616

از تو این یک کار آسان هم نشد

یعنی آن انبار گل آدم نشد»

حضور فرمائیں گے کہ تو تو اس آسان کام کو بھی پورا نہ کر سکا، یعنی مٹی کے انبار کو آدمی نہ بنا سکا ۔ بتا میں اس وقت کیا جواب دے سکوں گا ۔

What, was this labour too, too hard for thee, So that that heap of clay became not man?”

1717

در ملامت نرم گفتار آن کریم

من رهین خجلت و امید و بیم

والد لطف و کرم کا پیکر تھے اگرچہ مجھے ملامت کر رہے تھے لیکن گفتگو میں بڑی نرمی اور حلیمی تھی ۔ میں شرم کے مارے پانی پانی ہو رہا تھا اور امید و بیم کا شکار تھا ۔

So gentle was my noble sire’s reproof That I was torn by shame and hope and fear:

1818

اندکی اندیش و یاد آر ای پسر

اجتماع امت خیرالبشر

والد نے فرمایا، بیٹا ذرا رسول اللہ کی امت کا جمع ہونا تو پیش نظر لا ۔

“Reflect a little, son, and bring to mind The last great gathering of the Prophet’s fold;

1919

باز این ریش سفید من نگر

لرزه ی بیم و امید من نگر

پھر میری سفید داڑھی دیکھ اور یہ سوچ کہ امید و بیم (خوف) کے لرزے سے میری حالت کیا ہو گی ۔

Look once again on my white hairs, and see How now I tremble between fear and hope;

2020

بر پدر این جور نازیبا مکن

پیش مولا بنده را رسوا مکن

دیکھ اپنے باپ پر یہ نازیبا ظلم نہ کر اور غلام کے لیے آقا کے روبرو رسوائی کا سامان نہ پہنچا ۔

Do not thy father this foul injury, O put him not to shame before his Lord!”

2121

غنچه ئی از شاخسار مصطفی

گل شو از باد بهار مصطفی

تو رسول اللہ کی شاخ کا غنچہ ہے حضورہی کی نسیم بہار سے شگفتہ ہو کر پھول بن جا ۔

Thou art a bud burst from Muhammad’s branch; Break into bloom before the genial breeze Of his warm Spring;

2222

از بهارش رنگ و بو باید گرفت

بهره ئی از خلق او باید گرفت

تجھے رسول اللہ کی نسیم سے رنگ و بو حاصل کرنا چاہیے ۔ یعنی رسول اللہ ہی کے خلق عظیم سے حصہ لینا لازم ہے ۔

win thee the scent and hue Of that sweet season; strive to gain for thee Some fragment of his character sublime.

2323

مرشد رومی چه خوش فرموده است

آنکه یم در قطره اش آسوده است

دیکھ مولانا روم کیا اچھی بات کہہ گئے ہیں ۔ وہ مولانا جن کے ہر قطرے میں حقائق کا سمندر سمایا ہوا ہے ۔

Well said great Rumi, guide in whose shrunk drop An ocean of deep wisdom slumbereth:

2424

«مگسل از ختم رسل ایام خویش

تکیه کم کن بر فن و بر گام خویش»

(فرماتے ہیں ) اپنی زندگی کا رشتہ رسول اللہ سے مت توڑ، اپنے علم و فن اور روش پر بھروسہ نہ کر ۔

“Snap not the thread of thy brief days from him Who was the Seal of Prophets; little trust In thy poor craft and faltering footsteps place.”

2525

فطرت مسلم سراپا شفقت است

در جهان دست و زبانش رحمت است

مسلمان کی فطرت سر سے پاؤں تک (سراسر) شفقت ہے اس دنیا میں اس کا ہاتھ اور اس کی زبان رحمت کا پیغام ہے ۔

The nature of the Muslim through and through Is loving kindness; with both hand and tongue He strives to be a mercy in the world,

2626

آنکه مهتاب از سر انگشتش دونیم

رحمت او عام و اخلاقش عظیم

وہ پاک ذات جس کی انگلی کے اشارے سے چاند دو ٹکڑے ہو گیا ، کیا یہ معلوم نہیں کہ وہ سب کے لیے رحمت تھے اور ان کا لقب ہی رحمت للعالمین تھا ۔ پھر ان کے اخلاق سب سے اعلیٰ تھے ۔

As he whose fingers split the moon in twain Embraces in his mercy all mankind.

2727

از مقام او اگر دور ایستی

از میان معشر ما نیستی

اگر تو حضورکے مقام سے دور رہا تو جان لے کہ پھر ہماری جماعت میں سے نہ ہو گا ۔

Thou art no member of our company If from his station thou departest far.

2828

تو که مرغ بوستان ماستی

هم صفیر و هم زبان ماستی

تو ہمارے باغ کا پرندہ ہے ، ہمارا صفیر و ہما زبان ہے ۔

Bird of our garden, one in song and tongue With us,

2929

نغمه ئی داری اگر تنها مزن

جز بشاخ بوستان ما مزن

اگر تیرے اندر نغمے کی صلاحیت ہے تو ہمارے باغ کی شاخ پر بیٹھ کر گا، ہم سے الگ ہو کر نغمہ سرا نہ ہو ۔

if thou dost own a melody Carol it not alone, nor let it soar But on a branch that in our garden grows.

3030

هر چه هست از زندگی سرمایه دار

میرد اندر عنصر ناسازگار

اس دنیا میں جو بھی شے زندگی کے سرمائے سے مالامال ہے جب کسی ناسازگار فضا میں پہنچتی ہے تو مر جاتی ہے ۔

Whatever thing has capital of life Dies in an uncongenial element

3131

بلبل استی در چمن پرواز کن

نغمه ئی با هم نوایان ساز کن

تو اگر بلبل ہے تو چمن میں پرواز کر (باغ میں ہے پرواز کا شوق پورا کر) اور اپنوں کے ساتھ مل جل کر گا ۔ یہاں باغ سے مراد رسول اللہ کا اسوہ مبارک ہے ۔

Art thou a nightingale? Fly in the mead, And with thy fellow-minstrels mediate Thy song.

3232

ور عقاب استی ته دریا مزی

جز بخلوت خانه ی صحرا مزی

اگر تو عقاب ہے تو دریا کی تہہ میں زندگی بسر نہ کر ۔ صحرا کے خلوت خانہ کے سوا اور کہیں زندگی بسر نہ کر ۔ تیرے لیے صحیح مقام صحرا ہے ۔

Art thou an eagle? Do not live At ocean’s bottom; in the solitude Of the unpeopled desert make thy home.

3333

کوکبی ! می تاب بر گردون خویش

پا منه بیرون ز پیرامون خویش

کیا تو ستارہ ہے پھر اپنے آسمان کے سوا کہیں نہ چمک اپنے گردوپیش سے قدم باہر نہ رکھ ۔

Art thou a star? Shine in thy firmament, Nor set thy foot beyong thy proper bounds.

3434

قطره آبی گر از نیسان بری

در فضای بوستانش پروری

اگر تو بہار سے پانی کا قطرہ لے اور اسے باغ کی فضا میں پرورش کرے ۔

If thou wilt take a drop of April shower And nurture it within the garden’s close

3535

تا مثال شبنم از فیض بهار

غنچه ی تنگش بگیرد در کنار

یہاں تک کہ بہار کے فیض سے ایک شبنم کے قطرے کی طرح اسے اپنی گود میں لے لے ۔

Till, like the dew of the abounding Spring A rosebud takes it to its near embrace,

3636

از شعاع آسمان تاب سحر

کز فسونش غنچه می بندد شجر

صبح کے وقت جو کرن آسمان پر روشنی پھیلاتی ہے اور اس کے منتر سے غنچہ درخت بن جاتا ہے ۔

Then, in the rays of heaven-glittering dawn Whose magic knots the blossoms on the branch,

3737

عنصر نم بر کشی از جوهرش

ذوق رم از سالمات مضطرش

تو اس کرن سے کام لے کر قطرے کے جوہر سے نمی باہر کھینچ لے اور اس کے بیتاب اجزائے ترکیبی میں حرکت کا ذوق باقی نہ چھوڑ ۔

Thou shalt draw out the lucent element Within its substance, all the ecstasy Of leaping in its trembling particles.

3838

گوهرت جز موج آبی هیچ نیست

سعی تو غیر از سرابی هیچ نیست

اس طرح جو جوہر تیار کرے گا صرف پانی کا ہو گا اور تیری کوشش کی حیثیت سراب سے زیادہ نہ ہوگی ۔ (اس مثال سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ ہر شے اپنے اصل ماحول میں صحیح شکل اختیار کرتی ہے ماحول سے باہر نکل کر کتنی ہی کوششیں کی جائیں وہ مطلوب نتیجے پیدا نہیں کرے گی ۔

What is thy jewel? But a watery wave; What is thy effort? Naught save a mirage.

3939

در یم اندازش که گردد گوهری

تاب او لرزد چو تاب اختری

اگر تو اسے موتی بنانا چاہتا ہے تو اس کی تدبیر یہ ہے کہ قطرہ سمندر میں پہنچے اور صدف کی گود میں پرورش پائے بھی اس کی چمک دمک تارے کی چمک دمک اختیار کر لے گی کیونکہ وہ اپنے اصل ماحول میں پہنچ جائے گا اور قدرت کے مقرر کیے ہوئے اصول کے مطابق پرورش پائے گا ۔

Hurl it to ocean, that it may become A jewel gleaming like a tremulous star.

4040

قطره ی نیسان که مهجور از یم است

نذر خاشاکی مثال شبنم است

ابر بہار کا جو قطرہ سمندر سے دور رہ جائے گا وہ شبنم کے قطروں کی طرح خس و خاشاک کی نذر ہو جائے گا (جو چیز اپنے ماحول سے الگ ہو جاتی ہے اس کا انجام یہی ہوتا ہے ) ۔

The April raindrop, banished from the sea, Dies on the cornstalk with the morning dew.

4141

طینت پاک مسلمان گوهر است

آب و تابش از یم پیغمبر است

مسلمان کی سرشت بھی موتی کی طرح پاک ہے ۔ اسے رسول اللہ کے سمندر سے آب و تاب ملتی ہے ۔

The pure clay of the Muslim is a gem; Its lustre and its radiance derive Out of the Prophet’s ocean.

4242

آب نیسانی به آغوشش در آ

وز میان قلزمش گوهر بر آ

اگر تو ابر بہار کا قطرہ ہے تو اس سمندر کی آغوش میں پہنچ اور اس کی تہہ سے موتی بن کر باہر نکل ۔ پھر دنیا میں سورج سے بھی زیادہ روشن ہو جا بلکہ دائمی تابا نی و درخشانی کا مالک ہو جا ۔

Come thou, then, Brief April shower, come into his breast, And issue from his mighty sea, a pearl!

4343

در جهان روشن تر از خورشید شو

صاحب تابانی جاوید شو

پھر دنیا میں آفتاب سے بھی زیادہ روشن ہو کر (چمک) اور ہمیشہ کی تابانی پا لے۔ در معنی اینکہ حیات ملیہ مرکز محسوس میخواہد و مرکز ملت اسلامیہ بیت الحرام است

ترجمہ: میاں عبدالرشید

Outshine the sun upon this shadowy world, And glow forever in immortal light.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

در شریعت معنی دیگر مجو

غیر ضو در باطن گوهر مجو

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 18 - در معنی اینکه پختگی سیرت ملیه از اتباع آئین الهیه است

اگلی نظم

می گشایم عقده از کار حیات

سازمت آگاه اسرار حیات

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 20 - در معنی اینکه حیات ملیه مرکز محسوس میخواهد و مرکز ملت اسلامیه بیت الحرام است

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور