بیان حیات ملیہ جسے مرکز محسوس کی ضرورت ہے اسی کو بیت الحرام کہتے ہیں
That the life of the community requires a visible focus, and that the focus of the Islamic community is Makkah’s sacred house
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
می گشایم عقده از کار حیات
سازمت آگاه اسرار حیات
میں تیرے سامنے زندگی کے کاروبار کی گتھی کھولتا ہوں اور اس کے بھیدوں سے تجھے آگاہ کرتا ہوں ۔
Now I will loose for thee the knotted cord That is Life’s riddle, and reveal to thee Life’s mysteries;
چون خیال از خود رمیدن پیشه اش
از جهت دامن کشیدن پیشه اش
زندگی بھی خیال کی طرح بیتابانہ ادھر ادھر پھرتی رہتی ہے اور اطراف سے دامن بچاتی ہوئی چلتی ہے ۔
its trade, from self to leap Swift as a phantom, nimbly to escape From the constriction of Dimension’s grasp.
در جهان دیر و زود آید چسان
وقت او فردا و دی زاید چسان
مطلب یہ کہ زندگی کسی جگہ یا مقام کی پابند نہیں کہ اس دنیا میں کیونکر آتی ہے جو دیر و زود کی پابند ہے اور زندگی کا وقت گزشتہ کل اور آئندہ کل پیدا کرتا ہے
Then how comes Life into this world of late And soon? How does its instant time give birth To yesterdays and morrows?
گر نظرداری یکی بر خود نگر
جز رم پیهم نه ئی ای بیخبر
اگر تیرے پاس حقیقی نظر ہے تو تھوڑی دیر کے لیے اپنی حالت دیکھ اور اس پر غور کر ۔ تو بھی تو اے بیخبر ہر لحظہ بدلتا اور وقف خرام رہتا ہے ۔
Look upon Thyself, if thou possessest eyes to see; Fool, art thou aught but constantly aleap?
تا نماید تاب نامشهود خویش
شعله ی او پرده بند از دود خویش
جب زندگی چاہتی ہے کہ اپنی ان تابانیوں اور درخشانیوں کو نمایاں کرے جو نظر نہیں آتیں تو اس کا شعلہ اپنے دھوئیں سے اردگرد پردہ تیار کر لیتا ہے ۔
So, to display its glow invisible Life’s torch contrived a curtain of its smoke,
سیر او را تا سکون بیند نظر
موج جویش بسته آمد در گهر
جب زندگی سیر و گردش اور حرکت کے بجائے سکون و قیام اختیار کر لیتی ہے یا کہنا چاہیے کہ جب نظر اس کی سیر و سکون کی حالت میں دیکھتی ہے تو زندگی کی ندی میں جو لہر ہے وہ بندھ کر اور پیوستہ ہو کو موتی میں پہنچ جاتی ہے ۔
And that its motion might be seen at peace, Its wave was in the gem immobilized.
آتش او دم بخویش اندر کشید
لاله گردید و ز شاخی بر دمید
زندگی آگ تھی پھر اس نے دم سادھا اور لالے کا پھول بن کر ایک شاخ سے باہر نکل آئی ۔
Life’s furnace drew its breath, forthwith became A tulip, and burst blooming from the branch.
فکر خام تو گران خیز است و لنگ
تهمت گل بست بر پرواز رنگ
تیری فکر خام ہے ، بیدار ہونے میں سست ہے اور لنگڑی ہے تو نے رنگ کی پرواز پر پھول کی تہمت لگا دی ۔
Thy thought is immature, lame, slow to rise, If thou suppose the mortal flower itself The fleeting colour.
زندگی مرغ نشیمن ساز نیست
طایر رنگ است و جز پرواز نیست
حالانکہ زندگی ایسا پرندہ نہیں جو کسی جگہ گھونسلا بنا کر بیٹھ جائے ۔ وہ تو رنگ کا پرندہ ہے جو ہر وقت اڑتا رہتا ہے (پرواز کے سوا کچھ نہیں ) ۔
Life is not a bird A-building nests; ’tis but a wing of hue And wholly flight;
در قفس وامانده و آزاد هم
با نواها می زند فریاد هم
زندگی عاجزی اور بیچارگی کی حالت میں قید بھی ہوتی ہے ساتھ ہی آزاد بھی ۔ وہ گیت بھی گاتی ہے اور آہ و نالہ بھی کرتی ہے ۔
imprisoned in the cage, Yet ever free; lamenteth as it sings;
از پرش پرواز شوید دمبدم
چاره ی خود کرده جوید دمبدم
اس کے پروں سے لحظہ بہ لحظہ پرواز کی قوت گھٹتی جاتی ہے پھر وہ خود ہی اپنی کوتاہیوں کے علاج میں لگی رہتی ہے ۔
Washeth each moment from its wing the will To fly, yet ever seeks new stratagems Itself devising;
عقده ها خود می زند در کار خویش
باز آسان می کند دشوار خویش
وہ خود ہی اپنے کاموں کے رشتے میں گرہیں ڈالتی ہے ۔ پھر جتنی مشکلات جمع ہو جاتی ہیں انہیں آسان بھی کر لیتی ہے ۔
bindeth knot on knot Its own affairs, yet with consummate ease Resolveth all its problems.
پا بگل گردد حیات تیزگام
تا دو بالا گرددش ذوق خرام
زندگی بہت تیز رفتار ہے لیکن کبھی کبھی زمین پر گر کر کھڑی ہو جاتی ہے تاکہ چلنے پھرنے کا ذوق دوگنا ہو جائے ۔
Swift-paced Life Stands rooted in the mire, that it may feel Pulsing a doubled joy to walk abroad.
سازها خوابیده اندر سوز او
دوش و فردا زاده ی امروز او
اس کے سوز میں ساز سویا ہوا ہے اور جب وہ آج کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو گزشتہ کل اور آئندہ کل بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔
Anthems unheard lie dormant in its flame; To-morrow, yesterday, the children are Of its to-day.
دمبدم مشکل گر و آسان گذار
دمبدم نو آفرین و تازه کار
ہر لحظہ مشکلات بھی پیدا کرتی ہے تاکہ جدوجہد کا جذبہ ابھارے ، ساتھ ہی آسانیاں بھی پیدا کر لیتی ہے ۔ غرض وہ ہر وقت نئی نئی اور تازہ چیزیں پیدا کرنے میں مصروف ہے ۔
Each moment it creates Fresh difficulties, passing freely through; Thus, instantly its task is ever new.
گرچه مثل بو سراپایش رم است
چون وطن در سینه ئی گیرد دم است
اگرچہ زندگی خوشبو کی مانند ہر وقت تگ و تاز میں لگی رہتی ہے تاہم جب کسی سینے میں ٹھہر جاتی ہے تو سانس بن جاتی ہے ۔
Though like a sent it is all will to leap, When in the breast it maketh its abode It is a breath.
رشته های خویش را بر خود تند
تکمه ئی گردد گره بر خود زند
وہ اپنے ممکنات کے رشتوں کا جال اپنے آپ پر تنتی رہتی ہے کبھی گرہ کھا کر گھنڈی بن جاتی ہے ۔
Upon itself it spins Its threads, becomes a skein, and knots itself.
در گره چون دانه دارد برگ و بر
چشم بر خود وا کند گردد شجر
جس طرح ایک بیج کے اندر درخت کے پتے اور پھول پوشیدہ ہوتے ہیں اسی طرح زندگی جب اپنے آپ پر نگاہ ڈالتی ہے تو درخت بن جاتی ہے ۔
The seed, that holdeth knotted in its grain The leaf and fruit, in good time openeth Its eyes upon itself, and is a tree;
خلعتی از آب و گل پیدا کند
دست و پا و چشم و دل پیدا کند
پھر مٹی اور پانی سے اپنی خلعت تیار کرتی ہے اس میں ہاتھ پاؤں ، آنکھ اور دل وجود میں لاتی ہے ۔
Creating out of water and of clay A garment it revealeth hand and foot, Eye, yea, and heart.
خلوت اندر تن گزیند زندگی
انجمن ها آفریند زندگی
اس طرح جسم تیار ہو جاتا ہے تو اس کی خلوت میں زندگی جا بیٹھتی ہے اس خلوت میں ہزاروں انجمنیں بروئے کار لاتی ہے ۔
Life chooseth to confine Itself within the body’s solitude, And Life createth mighty companies.
همچنان آئین میلاد امم
زندگی بر مرکزی آید بهم
قوموں کے پیدا ہونے کا دستور بھی اسی طرح ہے ۔ یعنی زندگی ایک مرکز پر جمع ہو جاتی ہے ۔
Such is the law that governeth the birth Of nations, life gathereth on a point
حلقه را مرکز چو جان در پیکر است
خط او در نقطه ی او مضمر است
مرکز کی حیثیت دائرے کے لیے وہی ہے جو جسم کے لیے جان کی ہے ۔ دائرے کا پورا خط اس کے نقطے میں سمٹا ہوا ہوتا ہے ۔
Of focus which, related to the ring, Is as the spirit hidden in the flesh, The track of the circumference concealed Within the centre.
قوم را ربط و نظام از مرکزی
روزگارش را دوام از مرکزی
قوم کا ربط ضبط بھی ایک مرکز ہی سے وابستہ ہے اور اسکے کاروبار میں دوام مرکز ہی کی بدولت پیدا ہوتا ہے ۔
Peoples win their bond And order from a focus, and that same Perpetuates the nation’s sum of days.
راز دار و راز ما بیت الحرم
سوز ما هم ساز ما بیت الحرم
ہماری زندگی کے بھیدوں کا حامل اور خود بھید بیت الحرام یعنی کعبہ ہے ۔ ہمارا سوز و ساز ، ہمارا رنج و راحت ہمارا دکھ اور سکھ اسی سے وابستہ ہے ۔
The Sacred House at once our secret is And guardian of our secret, our heart’s fire And instrument whereon our passion plays.
چون نفس در سینه او را پروریم
جان شیرین است او ما پیکریم
ہم کعبے کو سینے میں سانس کی طرح محفوظ رکھتے ہیں ۔ وہ ہماری جان شیریں ہے اور ہم اس کا جسم ہیں ۔ گویا ہماری ہستی کعبے ہی پر موقوف ہے ۔
We are a breath nurtured within its breast; The body we, and it the precious soul.
تازه رو بستان ما از شبنمش
مزرع ما آب گیر از زمزمش
ہمارا باغ اس لیے تروتازہ اور شاداب ہے کہ کعبے کی شبنم سے اسے برابر فیض حاصل ہوتا ہے ۔ ہمارا کھیت اسی کے زمزم سے پانی لیتا ہے ۔ یعنی کھیت کی آبیاری اسی کے زمزم سے ہوتی ہے ۔
Our garden glitters joyous in its dew, Our fields are watered from its holy well.
تاب دار از ذره هایش آفتاب
غوطه زن اندر فضایش آفتاب
اسی کے ذروں سے سورج کو آب و تاب حاصل ہوتی ہے ۔ اسی کی فضا میں وہ غوطہ زن رہتا ہے ۔
Its dancing motes give lustre to the sun Plunging into its firmanent profound.
دعوی او را دلیل استیم ما
از براهین خلیل استیم ما
کعبے کے دعوے کے لیے دلیل کی ضرورت ہو تو ہم سراپا دلیل ہیں ۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی برہانوں میں سے ہم بھی ایک برہان ہیں ۔
We are the proof that justifies its claim, Attestors witnessing for Abraham.
در جهان ما را بلند آوازه کرد
با حدوث ما قدم شیرازه کرد
کعبے ہی نے ہماری شہرت دور دور پہنچا دی اور ہمارے حدوث کا رشتہ قدم سے جوڑ دیا یعنی ہم فانی ہیں تاہم جب تک یہ دنیا باقی ہے ہمارے لیے بقا کا انتظام کعبے ہی کی وجہ سے ہوا اگرچہ ہماری ملت جگہ جگہ بکھری ہوئی ہے ۔
This made our voices loud upon the earth, Stitched up with Time our Pre-eternity;
ملت بیضا ز طوفش هم نفس
همچو صبح آفتاب اندر قفس
لیکن کعبے کے گرد گھومنے اور طواف کرنے کے باعث ہم سب ایک ہیں متحد ہیں ہماری حیثیت اس صبح کی ہے جس کے پنجرے میں سورج بند ہوتا ہے ۔
In circumambulation of its shrine Our pure community draws common breath, Dawn’s sun encaged;
از حساب او یکی بسیاریت
پخته از بند یکی خودداریت
اے مسلمان تیری کثرت کعبے کی وجہ سے وحدت بنی ہوئی ہے اور اسی رشتہ وحدت کی بدولت تیری خودداری پختہ اور پائیدار ہے ۔
by its arithmetic The many count as one, and in that tie Of oneness thy self-mastery waxes strong.
تو ز پیوند حریمی زنده ئی
تا طواف او کنی پاینده ئی
تو کعبے سے وابستگی کے باعث زندہ ہے جب تک اس کا طواف کرتا رہے گا قائم و استوار رہے گا ۔
Thou livest by a sanctuary’s bond And shalt endure, so long as though shalt go About the shrine thereof.
در جهان جان امم جمعیت است
در نگر سر حرم جمعیت است
اس دنیا میں جمیعت کو قوموں کی جان سمجھا جاتا ہے جب تک جمیعت نہ ہو قو میں وجود میں نہیں آ سکتیں ۔ اے مسلمان آنکھیں کھول کر دیکھ، کعبہ تیری جمیعت کا راز ہے یعنی اسی پر تیری جمیعت موقوف ہے ۔
Upon this earth By congregation lives a people’s soul, And congregation is the mystery Of Makkah’s power
عبرتی ای مسلم روشن ضمیر
از مآل امت موسی بگیر
اے مسلمان تیرا روشن ضمیر ہے تو امت موسیٰ یعنی یہودیوں کے انجام سے عبرت حاصل کر ۔
Take heed once again, Enlightened Muslim, by the tragic fate Of Moses’ people,
داد چون آن قوم مرکز را ز دست
رشته ی جمعیت ملت شکست
جب اس قوم نے مرکز کھویا تو ساتھ ہی قوم کی جمیعت کا رشتہ بھی ٹوٹ گیا ۔
who, when they gave up Their focus from their grasp, the thread was snapped That bound their congregation each to each.
آنکه بالید اندر آغوش رسل
جزو او داننده ی اسرار کل
اس قوم یعنی یہود نے انبیا ء کے آغوش میں نشوونما پائی ۔ اس میں ایسے لوگ بھی ہوئے جو تمام بھیدوں سے واقف تھے ۔
That nation, nurtured up upon the breast Of God’s apostles, and whereof the part Was privy to the secrets of the whole,
دهر سیلی بر بنا گوشش کشید
زندگی خون گشت و از چشمش چکید
لیکن جب مرکز اس کے ہاتھ سے نکلا جمیعت کا رشتہ ٹوٹا تو زمانے نے اس کی کنپٹی پر ایک تھپڑ رسید کیا ۔ ان کی زندگی خون ہو کر رہ گئی اور آنسو بن کر آنکھ سے ٹپک گئی ۔
Suddenly smitten by the hand of Time Poured out its lifeblood in slow agony.
رفت نم از ریشه های تاک او
بید مجنون هم نروید خاک او
وہ قوم انگور کی بیل تھی اس کے رگ و ریشہ سے نمی زائل ہو گئی ۔ اب یہ کیفیت ہے کہ اس کی خاک سے بید کا درخت بھی پیدا نہیں ہوتا ۔
The tendrils of its vine are withered now, Nor even any willow weeping grows More from its soil;
از گل غربت زبان گم کرده ئی
هم نوا هم آشیان گم کرده ئی
وہ قوم بے وطنی میں بکھر کر جگہ جگہ جا بیٹھی ، اسکی زبان بھی ختم ہو گئی ۔ اس میں قومی دم خم بھی باقی نہ رہا اور اس کا وطن بھی نابود ہو گیا ۔
exile has robbed its tongue Of common speech; both nest and birdsong gone;
شمع مرد و نوحه خوان پروانه اش
مشت خاکم لرزد از افسانه اش
شمع بجھ گئی، پروانہ اس کا ماتم کر رہا ہے جب میں اس قوم کی سرگزشت پر غور کرتا ہوں تو بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے
The candle out; dead the lamenting moth – My poor dust trembles at the history.
ای ز تیغ جور گردون خسته تن
ای اسیر التباس و وهم و ظن
اے مسلمان تیرا جسم آسمان کے ظلم کی تلوار سے زخمی ہو رہا ہے ۔ تو شک و شبہ اور وہم و گمان کا قیدی بنا ہوا ہے
O thou, sore wounded by the sword of Fate, Prisoner of confusion, doubt, dismay,
پیرهن را جامه احرام کن
صبح پیدا از غبار شام کن
تو اپنے لباس کو جامہ احرام بنا لے اور شام کے غبار سے صبح پیدا کر لے یعنی کعبے کی مرکزیت بحال کر ۔
Wrap thee in pilgrim robes; unshroud the dawn Of night’s dark dust.
مثل آبا غرق اندر سجده شو
آنچنان گم شو که یکسر سجده شو
اپنے باپ دادا کی طرح سجدہ ریزی اور عبادت گزاری میں غرق ہو جا کہ تو خود سراپا سجدہ اور عبادت بن جائے ۔ مراد یہ ہے کہ پورا دینی نظام اختیار کرے ۔
Plunge, as thy forebears did, Into prostration; lose thyself, until Thou art entire prostration.
مسلم پیشین نیازی آفرید
تا به ناز عالم آشوبی رسید
دیکھ ابتدائی زمانے کے مسلمانوں نے عبودیت ، بندگی اور فرمانبرداری کا ایسا نقشہ پیش کیا ہے کہ وہ زمانے بھر کے لیے فخر و ناز کا سامان بن گئے ۔
Long ago The Muslim fashioned meek humility, And thence developed a world-shaking pride;
در ره حق پا به نوک خار خست
گلستان در گوشه ی دستار بست
انھوں نے خدا کی راہ میں پاؤں کانٹوں سے زخمی کر لیے اور باغ کو دستار کے گوشے میں باندھ لیا ۔
Upon God’s path the thorn-points pierced his feet; He wore a rose-bower in his turban’s fold.
فارسی متن کا ماخذ: گنجور