حقیقی جمیعت ملی نصب العین پر مضبوط گرفت کا نام ہےاور امت محمدیہ کا نصب العین توحید کی حفاظت و اشاعت ہے
That true solidarity consists in adopting a fixed communal objective, and that the objective of the Muhammadan community is the preservation and propagation of Unitarianism
شاعر: علامہ اقبال
وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)
صنف: مثنوی
با تو آموزم زبان کائنات
حرف و الفاظ است اعمال حیات
اے مخاطب! میں تجھے کائنات کی زبان سکھاتا ہوں ۔ وہ حروف و الفاظ کی زبان نہیں بلکہ زندگی کے اعمال کی زبان ہے ۔
And now I will impart to thee the tongue Of all things that have being; in this speech The letters and articulated sounds Are life’s activities.
چون ز ربط مدعائی بسته شد
زندگانی مطلع برجسته شد
جب زندگی کسی مدعا سے وابستہ ہو جاتی ہے تو ایک پختہ ، موزوں اور برمحل مطلع بن جاتی ہے ۔
When life is bound In firm attachment to an aim professed The opening verse rises spontaneously;
مدعا گردد اگر مهمیز ما
همچو صرصر می رود شبدیز ما
اگر مدعا ہماری ایڑ بن جائے تو ہمارا گھوڑا آندھی کی طرح دوڑنے لگے گا ۔
And if that purpose serves us for a goad, Swift as the tempest gallopeth our steed.
مدعا راز بقای زندگی
جمع سیماب قوای زندگی
مدعا زندگی کے حفظ و بقا کا بھید ہے اسی کی برکت سے زندگی کی قوتوں کے بےقراری دور ہوتی ہے اور وہ مرکز پر جمع ہو جاتی ہے ۔
The goal avowed is the true mystery Of life’s cntinuance, that focuses The restless flow of its mercurial powers.
چون حیات از مقصدی محرم شود
ضابط اسباب این عالم شود
جب زندگی ایک مقصد سے آشنا ہو جاتی ہے تو اس دنیا میں اسے حاصل کرنے کے جتنے اسباب ہیں انہیں نظم و ضبط میں لے آتی ہے ۔
When life is conscious of a purposed aim, All means material yield to its control;
خویشتن را تابع مقصد کند
بهر او چیند گزیند رد کند
اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے وقف کر دیتی ہے ۔ اس کے حصول میں جس چیز کی ضرورت پڑتی ہے اس سے کام لیتی ہے ۔ جو معاون بنتی ہے اسے چن لیتی ہے جو مضر نظر آتی ہے اسے ٹھکرا دیتی ہے ۔
It makes its self the follower of that goal, For its sole sake collects, selects, rejects.
نا خدا را یم روی از ساحل است
اختیار جاده ها از منزل است
ملاح سمندر میں جہاز چلاتا ہے تو صرف اس مقصد سے کہ ساحل پر پہنچ جائے ۔ مسافر راستے طے کرتے ہیں تو اس لیے کہ منزل پر فائز ہوں ۔
The helmsman shoreward bound resolves to sail The flooding main; the destination far Determines the selection of the paths.
بر دل پروانه داغ از ذوق سوز
طوف او گرد چراغ از ذوق سوز
پروانے کے دل پر ذوق سوز نے ایک داغ لگا رکھا ہے اسی لیے وہ چراغ کے گرد چکر لگاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے ۔
The moth’s heart bears the brand of the delight Of burning, for which joy it flutters still About the candle.
قیس اگر آواره در صحراستی
مدعایش محمل لیلاستی
قیص صحرا میں اس لیے آوارہ و سرگرداں پھر رہا ہے کہ اسے لیلیٰ کے محمل کی تلاش ہے ۔
If the madman Qais Was wanderer in the wilderness, his aim Was the high litter wherein Layla rode.
تا بود شهر آشنا لیلای ما
بر نمی خیزد به صحرا پای ما
اگر ہماری لیلیٰ شہر میں رہنے لگے اور صحرا کی طرف نہ جائے تو ہمارے پاؤں کبھی صحرا کی طرف نہ اٹھیں ۔
Now be our Layla but familiar With cities, never shall we lift our tread To span the desert.
همچو جان مقصود پنهان در عمل
کیف و کم از وی پذیرد هر عمل
غرض کوئی بھی عمل پیش نظر لاوَ اور غور کرو، صاف معلوم ہو جائے گا کہ کسی نہ کسی مقصد کو اس کے تعلق میں جان کی حیثیت حاصل ہے ۔
In the enterprise The purpose lies as hidden as the soul Within the body, and from this alone Each labour takes its quality and size.
گردش خونی که در رگهای ماست
تیز از سعی حصول مدعاست
ہماری رگوں میں خون کی جو گردش ہے وہ حصول مدعا کے لیے سرگرمی ہی کی بنا پر تیز ہوتی ہے ۔
The blood that circulateth in our veins The nimbler moveth, having the desire To reach a goal;
از تف او خویش را سوزد حیات
آتشی چون لاله اندوزد حیات
مدعا کی حرارت سے زندگی اپنے آپ کو جلا دیتی ہے اور لالے کی طرح آگ فراہم کر لیتی ہے ۔ اپنے آپ کو جلا دینے سے حقیقتاً جلا دینا مقصود نہیں بلکہ اس اسلوب بیان سے سعی و کوشش کی انتہائی سرگرمی کا تصور پیدا کرنا منظور ہے ۔
life’s self consumes itself In that bright flame, aglow with tulip-fire.
مدعا مضراب ساز همت است
مرکزی کو جاذب هر قوت است
مدعا ساز ہمت کے لیے مضراب ہے ۔ یہی مرکز ہے جو ہر قوت عمل کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ۔
The Goal is as a plectrum, that awakes The hidden music in the instrument Of high ambition, an attractive point Whereunto moves all centripetal force;
دست و پای قوم را جنباند او
یک نظر صد چشم را گرداند او
مقصد ہی قوم کے ہاتھ پاؤں میں حرکت پیدا کرتا ہے اور بہ یک وقت سینکڑوں آنکھیں اسی کے اشارے پر گردش کرنے لگتی ہیں ۔
This stirs a people’s hands and feet to move In vital unison, one vision clear Bestowing on a hundred several sights.
شاهد مقصود را دیوانه شو
طائف این شمع چون پروانه شو
اے مخاطب! تو بھی اپنے مقصد کے لیے محبوب کے لیے دیوانگی اختیار کر اور مقصد کو شمع بنا کر پروانے کی طرح اس کا طواف شروع کر دے ۔
Be the mad lover of the loveliness Of noble purpose; flutter like a moth About this ardent lamp.
خوش نوائی نغمه ساز قم زد است
زخمهٔ معنی بر ابریشم زد است
قم کے نغمہ ساز یعنی مشہور شاعر ملک قمی نے ایک نہایت اچھا ترانہ سنایا ہے ۔ گویا حقیقت کا نغمہ تار پر لگایا ہے ۔
Sweet was the air Qum’s music-maker sang, the silken strings Sweeping responsive to his pulsing thought:
تا کشد خار از کف پا ره سپر
می شود پوشیده محمل از نظر
جب تک مسافر اپنے تلوے سے کانٹا نکالے، محمل نظروں سے پوشیدہ ہو جاتا ہے ۔
“While yet the traveller bends to pluck the thorn That pricks his foot, the litter vanishes.”
گر بقدر یک نفس غافل شدی
دور صد فرسنگ از منزل شدی
اگر تو ایک دم کے لیے بھی غافل ہو گا تو منزل سے سینکڑوں فرسنگ دور ہو جائے گا ۔
If thou art heedless but for one brief breath, A hundred leagues thou strayest from thy stage.
این کهن پیکر که عالم نام اوست
ز امتزاج امهات اندام اوست
یہ پرانا پیکر جس کا نام دنیا ہے عناصر کے ربط و ضبط سے بنا ہے اور اس میں ابتدا ہی سے ارتقا کا عمل جاری ہے ۔
This ancient creature, that men call the world, Out of the mingling of the elements Derived its body;
صد نیستان کاشت تا یک ناله رست
صد چمن خون کرد تا یک لاله رست
اس نے سینکڑوں نیستان بوئے اور ان میں ایک نالہ پیدا کیا ۔ سینکڑوں باغوں کا خون کر کے ایک لالہ اگایا ۔
a hundred reed-beds sowed That one lament might burgeon; bathed in blood A hundred meads, to yield one tulip-bloom.
نقشها آورد و افکند و شکست
تا به لوح زندگی نقش تو بست
نقشوں کے خاکے تیار ہوئے اور بٹھائے گئے ۔ پھر انہیں مٹایا گیا اے مسلمان بناوَ بگاڑ کا یہ سلسلہ اس لیے جاری رہا تاکہ زندگی کی تختی پر تیرا نقش بٹھایا جا سکے ۔
Many the shapes it fetched and cast and broke To grave upon Life’s tablet thy design;
ناله ها در کشت جان کاریده است
تا نوای یک اذان بالیده است
جانوں کے کھیت میں آہ و فغاں کی کاشت جاری رہی یہاں تک کہ ایک اذان کی صدا نے فروغ پایا ۔
Many laments it sowed in the soul’s tilth Till sprang the music of one call to prayer
مدتی پیکار با احرار داشت
با خداوندان باطل کار داشت
یہ دنیا مدت تک احرار سے لڑتی رہی، اسے جھوٹے معبودوں سے محبت تھی ۔
Awhile it battled sternly with the free, And had much traffic with false lords,
تخم ایمان آخر اندر گل نشاند
با زبانت کلمهٔ توحید خواند
آخر ایمان کا بیج مٹی میں بویا گیا ، وہ اگا ، بڑھا ، پھولا پھلا اور اے مسلمان تیری زبان سے اس دنیا نے توحید کا کلمہ پڑھا ۔
at last To strew the seed of faith in the heart’s soil And on the tongue to cry There is one God.
نقطهٔ ادوار عالم لااله
انتهای کار عالم لااله
تو لا الہ یعنی کلمہ توحید کی حقیقت جانتا ہے ۔ جہان کے ہر دور و گردش کا مرکزی نقطہ لا الہ ہے ۔ اور اس جہان کے کام کی انتہا بھی لا الہ ہے ۔
No other god but God – this is the point On which the world concentrically turns, This the conclusion of the world’s affairs.
چرخ را از زور او گردندگی
مهر را پایندگی رخشندگی
آسمان اسی کے زور سے گھوم رہا ہے، سورج کو اسی کی بدولت استواری اور آب و تاب حاصل ہے ۔
From this the sphere derives its strength to wheel, The sun its constancy and brilliance
بحر گوهر آفرید از تاب او
موج در دریا تپید از تاب او
سمندر نے لا الہ ہی کی چمک دمک سے موتی پیدا کئے اور دریا کے اندر موج کو اسی تڑپ سے بہرہ یاب کیا ۔
The sea her gems, created of its glow, That set the ocean’s billows quivering.
خاک از موج نسیمش گل شود
مشت پر از سوز او بلبل شود
مٹی لا الہ کی باد نسیم سے پھول بن جاتی ہے اور مٹھی بھر کر اس کے سوز سے بلبل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔
This is the breeze that fans the earth to bloom, This rapturous glow a few poor feathers flames Into the nightingale;
شعله در رگهای تاک از سوز او
خاک مینا تابناک از سوز او
انگور کی رگوں میں اسی کے سوز کی بدولت آگ گردش کر رہی ہے ۔ صراحی کی مٹی میں بھی اس کے سوز کی بدولت چمک دمک ہے ۔
and this same fire Runs like a torch along the vineyard’s veins And glitters crimson in the dusty bowl.
نغمه هایش خفته در ساز وجود
جویدت ای زخمه ور ساز وجود
عالم ہستی کے ساز میں لا الہ کے نغمے سوئے ہوئے ہیں ۔ اے زخمے والے ہاتھ آج عالم ہستی کا ساز تیری تلاش میں ہے تا کہ تو زخمہ لگائے اور سوئے ہوئے نغمے جاگ اٹھیں ۔
In Being’s instrument its melodies Life hidden; O musician, Being’s lute Seeketh for thee;
صد نوا داری چو خون در تن روان
خیز و مضرابی بتار او رسان
تیرے پاس سینکڑوں نغمے ہیں جو خون کی طرح تیرے بدن میں د وڑ رہے ہیں اٹھ اور اس کے تار کو مضراب سے چھیڑ دے ۔
within thy body flow A hundred songs, as freely in thy veins The lifeblood pulses; rise, and smite the strings!
زانکه در تکبیر راز بود تست
حفظ و نشر لااله مقصود تست
کیونکہ تکبیر ہی میں تیری ہستی کا راز چھپا ہوا ہے اور جان لے کہ تیرا اصل مقصد توحید کی حفاظت و اشاعت ہے ۔
Allahu Akbar! This the secret holds Of thy existence; wherefore let it be Thy purpose to preserve and propagate No other god.
تا نخیزد بانگ حق از عالمی
گر مسلمانی نیاسائی دمی
اگر تو مسلمان ہے تو تجھے اس وقت تک ایک دم کے لیے بھی آرام سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک کہ زمانہ بھر سے حق کی آواز نہ اٹھنے لگے ۔
If thou a Muslim art, Till all the world proclaims the Name of God Thou canst not rest one moment
می ندانی آیه ام الکتاب
امت عادل ترا آمد خطاب
اے ملت اسلامیہ! کیا قرآن مجید کی وہ آیت تجھے معلوم نہیں جس میں تجھے امت عادل کا خطاب ملا ۔
Knowest thou not The verse in Holy Scripture, calling thee To be a people just, God’s witnesses?
آب و تاب چهره ایام تو
در جهان شاهد علی الاقوام تو
زمانے کے چہرے کی رونق اور تازگی تیرے ہی دم سے ہے تو اس دنیا میں تمام قوموں کے لیے گواہی دینے والی ہے ۔ اس میں اشارہ قرآن مجید کی اس آیت کی طرف ہے اور ہم نے تمہیں نیک ترین اور عادل ترین امت ہونے کا درجہ عطا فرمایا تاکہ تم تمام انسانوں کے لیے گواہی دینے والے ہو اور تمہارے لیے رسول اللہ گواہی دینے والے ہیں (البقرہ) ۔
Thou art the glow and glory of the days, And made to testify to all mankind; To all who comprehend the weight of words
نکته سنجان را صلای عام ده
از علوم امئی پیغام ده
جو نکتہ شناس ہیں انہیں دعوت عام دے اور امت نبی کے علوم سے آگاہ کر ۔
Make general proclamation, and impart The learned gospel of God’s Messenger.
امیی پاک از هوی گفتار او
شرح رمز ماغوی گفتار او
وہ اُمّی ، جس کی گفتگو قرآن ارشاد کے مطابق نفس کی خواہش سے پاک تھی اور جو کچھ اس کی زبان مقدس پر جاری ہوتا تھا وحی کے ذریعے سے پہنچا ہوا آسمانی پیغام تھا ۔ وہ اُمّی جس کے ارشادات ماغویٰ کی شرح تھے یعنی ان میں بے راہی کی کوئی بات نہ تھی ۔
Unlettered was He, innocent of guile The words he uttered, that elucidate The mystery He did not go astray.
تا بدست آورد نبض کائنات
وانمود اسرار تقویم حیات
اس امی نبی نے کائنات کی نبض اپنے دست مبارک میں لی تو زندگی کی پختگی کے تمام بھید کھول کر رکھ دیے ۔
Yet, when he held the pulse of living things, The secrets of Life’s constitution he Forthwith revealed,
از قبای لاله های این چمن
پاک شست آلودگیهای کهن
اس چمن میں لالوں کی قبا پر جتنی آلودگیاں پرانے زمانے سے چھائی ہوئی تھیں ان سب کو دھو کر صاف کر دیا ۔
and cleansed of ancient blight The garment of the tulips of this mead.
در جهان وابستهٔ دینش حیات
نیست ممکن جز به آئینش حیات
اس دنیا میں زندگی اسی امی نبی کے دین سے وابستہ ہے اور یاد رکھو اس کی شریعت اور اس کے مقرر کئے ہوئے قاعدوں کے بغیر جینا ممکن ہی نہیں ۔
Life here below is bound up with his Faith Nor can survive, save guarded by his Law.
ای که میداری کتابش در بغل
تیز تر نه پا به میدان عمل
اے ملت اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن مجید تیرے بغل یعنی پاس ہے اس کے نور سے فائدہ اٹھا اور عمل کی میدان میں چلنا شروع کر دے ۔
Having his Book beneath thy arm, stride out With greater boldness to the battlefield Of works;
فکر انسان بت پرستی بت گری
هر زمان در جستجوی پیکری
انسان کا شیوہ ابتدا سے یہ رہا ہے کہ بت بنائے اور انہیں پوجے وہ ہر گھڑی کسی نئے بت کی تلاش میں رہتا ہے ۔
for human thought, idolatrous And idol-fashioning, is all the time In quest of some new image
باز طرح آزری انداخت است
تازه تر پروردگاری ساخت است
اب اس نے پھر آذر کا طریقہ اختیار کر لیا ہے اور نت نئے بت بنا کر کھڑے کر دیے ہیں ۔
in these days It follows once again old Azar’s trade, And man creates an ever novel god
کاید از خون ریختن اندر طرب
نام او رنگ است و هم ملک و نسب
وہ بت خون بہا کر خوشی سے ناچتے ہیں ان کے نام ہیں رنگ، ملک اور نسل (ملک کا بت یورپ نے پیدا کیا، رنگ کا بت بھی یورپ ہے ان بتوں نے عالم انسانیت کو چھوٹے بڑے ٹکروں میں بانٹ دیا اور جگہ جگہ ایک دوسرے سے دشمنی کی آگ بھڑکا دی) ۔
Whose joy is shedding blood, whose hallowed name Is Colour, Fatherland, Blood-Brotherhood.
آدمیت کشته شد چون گوسفند
پیش پای این بت ناارجمند
اقبال نے کیا خوب فرمایا کہ دیکھو، ان نامراد بتوں کے پاؤں میں انسانیت بھیڑ بکری کی طرح بیدردی سے ذبح کر ڈالی گئی ۔
Humanity is slaughtered like a sheep Before this worthless idol.
ای که خوردستی ز مینای خلیل
گرمی خونت ز صهبای خلیل
اے ملت اسلامیہ تو نے ابراہیم کی صراحی سے شراب پی ہے تیرے خون میں اسی شراب کی حرارت دوڑ رہی ہے ۔
Thou, whose lips Have touched the sacred bowl of Abraham, Whose blood is ardent with his holy wine,
برسر این باطل حق پیرهن
تیغ «لا موجود الا هو» بزن
اٹھ اور اس باطل کا سر جس نے حق کا لباس پہن رکھا ہے لاموجود الا ہو کی تلوار چلا کر قلم کر دے ۔
Against this falsehood, garmented as truth, Lift now the blade there is not aught but God And smite!
جلوه در تاریکی ایام کن
آنچه بر تو کامل آمد عام کن
اس دنیا کے طول و عرض میں اندھیرا چھا گیا ہے ۔ اٹھ اور اجالے کا سروسامان کر دے ۔ جو دین تجھ پر کامل ہوا ہے اسے چپے چپے میں پھیلا دے ۔
The days are shrouded all in mirk; Display thy light, and let the thing in thee Perfected shine o’er all humanity.
لرزم از شرم تو چون روز شمار
پرسدت آن آبروی روزگار
میں تو شرم کے مارے کانپ اٹھتا ہوں جب سوچتا ہوں کہ قیامت کے دن وہ پاک ذات جو اس کائنات کی آبرو تھی
I tremble for thy shame, when on the Day Of Reckoning that Glory of all time Shall question thee:
حرف حق از حضرت ما برده ئی
پس چرا با دیگران نسپرده ئی
اے ملت تجھ سے پوچھے گی کہ تجھے ہماری پیش گاہ سے ایک پیغام دیا گیا تھا تو نے اسے دوسروں تک کیوں نہ پہنچایا
Thou tookest from my lips The word of Truth, and wherefore hast thou failed To pass my message on to other men?”
فارسی متن کا ماخذ: گنجور