صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 21 - در معنی اینکه جمعیت حقیقی از محکم گرفتن نصب العین ملیه است و نصب العین امت محمدیه حفظ و نشر توحید است

بخش 21 - در معنی اینکه جمعیت حقیقی از محکم گرفتن نصب العین ملیه است و نصب العین امت محمدیه حفظ و نشر توحید است

حقیقی جمیعت ملی نصب العین پر مضبوط گرفت کا نام ہےاور امت محمدیہ کا نصب العین توحید کی حفاظت و اشاعت ہے

That true solidarity consists in adopting a fixed communal objective, and that the objective of the Muhammadan community is the preservation and propagation of Unitarianism

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

با تو آموزم زبان کائنات

حرف و الفاظ است اعمال حیات

اے مخاطب! میں تجھے کائنات کی زبان سکھاتا ہوں ۔ وہ حروف و الفاظ کی زبان نہیں بلکہ زندگی کے اعمال کی زبان ہے ۔

And now I will impart to thee the tongue Of all things that have being; in this speech The letters and articulated sounds Are life’s activities.

22

چون ز ربط مدعائی بسته شد

زندگانی مطلع برجسته شد

جب زندگی کسی مدعا سے وابستہ ہو جاتی ہے تو ایک پختہ ، موزوں اور برمحل مطلع بن جاتی ہے ۔

When life is bound In firm attachment to an aim professed The opening verse rises spontaneously;

33

مدعا گردد اگر مهمیز ما

همچو صرصر می رود شبدیز ما

اگر مدعا ہماری ایڑ بن جائے تو ہمارا گھوڑا آندھی کی طرح دوڑنے لگے گا ۔

And if that purpose serves us for a goad, Swift as the tempest gallopeth our steed.

44

مدعا راز بقای زندگی

جمع سیماب قوای زندگی

مدعا زندگی کے حفظ و بقا کا بھید ہے اسی کی برکت سے زندگی کی قوتوں کے بےقراری دور ہوتی ہے اور وہ مرکز پر جمع ہو جاتی ہے ۔

The goal avowed is the true mystery Of life’s cntinuance, that focuses The restless flow of its mercurial powers.

55

چون حیات از مقصدی محرم شود

ضابط اسباب این عالم شود

جب زندگی ایک مقصد سے آشنا ہو جاتی ہے تو اس دنیا میں اسے حاصل کرنے کے جتنے اسباب ہیں انہیں نظم و ضبط میں لے آتی ہے ۔

When life is conscious of a purposed aim, All means material yield to its control;

66

خویشتن را تابع مقصد کند

بهر او چیند گزیند رد کند

اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے وقف کر دیتی ہے ۔ اس کے حصول میں جس چیز کی ضرورت پڑتی ہے اس سے کام لیتی ہے ۔ جو معاون بنتی ہے اسے چن لیتی ہے جو مضر نظر آتی ہے اسے ٹھکرا دیتی ہے ۔

It makes its self the follower of that goal, For its sole sake collects, selects, rejects.

77

نا خدا را یم روی از ساحل است

اختیار جاده ها از منزل است

ملاح سمندر میں جہاز چلاتا ہے تو صرف اس مقصد سے کہ ساحل پر پہنچ جائے ۔ مسافر راستے طے کرتے ہیں تو اس لیے کہ منزل پر فائز ہوں ۔

The helmsman shoreward bound resolves to sail The flooding main; the destination far Determines the selection of the paths.

88

بر دل پروانه داغ از ذوق سوز

طوف او گرد چراغ از ذوق سوز

پروانے کے دل پر ذوق سوز نے ایک داغ لگا رکھا ہے اسی لیے وہ چراغ کے گرد چکر لگاتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ مر جاتا ہے ۔

The moth’s heart bears the brand of the delight Of burning, for which joy it flutters still About the candle.

99

قیس اگر آواره در صحراستی

مدعایش محمل لیلاستی

قیص صحرا میں اس لیے آوارہ و سرگرداں پھر رہا ہے کہ اسے لیلیٰ کے محمل کی تلاش ہے ۔

If the madman Qais Was wanderer in the wilderness, his aim Was the high litter wherein Layla rode.

1010

تا بود شهر آشنا لیلای ما

بر نمی خیزد به صحرا پای ما

اگر ہماری لیلیٰ شہر میں رہنے لگے اور صحرا کی طرف نہ جائے تو ہمارے پاؤں کبھی صحرا کی طرف نہ اٹھیں ۔

Now be our Layla but familiar With cities, never shall we lift our tread To span the desert.

1111

همچو جان مقصود پنهان در عمل

کیف و کم از وی پذیرد هر عمل

غرض کوئی بھی عمل پیش نظر لاوَ اور غور کرو، صاف معلوم ہو جائے گا کہ کسی نہ کسی مقصد کو اس کے تعلق میں جان کی حیثیت حاصل ہے ۔

In the enterprise The purpose lies as hidden as the soul Within the body, and from this alone Each labour takes its quality and size.

1212

گردش خونی که در رگهای ماست

تیز از سعی حصول مدعاست

ہماری رگوں میں خون کی جو گردش ہے وہ حصول مدعا کے لیے سرگرمی ہی کی بنا پر تیز ہوتی ہے ۔

The blood that circulateth in our veins The nimbler moveth, having the desire To reach a goal;

1313

از تف او خویش را سوزد حیات

آتشی چون لاله اندوزد حیات

مدعا کی حرارت سے زندگی اپنے آپ کو جلا دیتی ہے اور لالے کی طرح آگ فراہم کر لیتی ہے ۔ اپنے آپ کو جلا دینے سے حقیقتاً جلا دینا مقصود نہیں بلکہ اس اسلوب بیان سے سعی و کوشش کی انتہائی سرگرمی کا تصور پیدا کرنا منظور ہے ۔

life’s self consumes itself In that bright flame, aglow with tulip-fire.

1414

مدعا مضراب ساز همت است

مرکزی کو جاذب هر قوت است

مدعا ساز ہمت کے لیے مضراب ہے ۔ یہی مرکز ہے جو ہر قوت عمل کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے ۔

The Goal is as a plectrum, that awakes The hidden music in the instrument Of high ambition, an attractive point Whereunto moves all centripetal force;

1515

دست و پای قوم را جنباند او

یک نظر صد چشم را گرداند او

مقصد ہی قوم کے ہاتھ پاؤں میں حرکت پیدا کرتا ہے اور بہ یک وقت سینکڑوں آنکھیں اسی کے اشارے پر گردش کرنے لگتی ہیں ۔

This stirs a people’s hands and feet to move In vital unison, one vision clear Bestowing on a hundred several sights.

1616

شاهد مقصود را دیوانه شو

طائف این شمع چون پروانه شو

اے مخاطب! تو بھی اپنے مقصد کے لیے محبوب کے لیے دیوانگی اختیار کر اور مقصد کو شمع بنا کر پروانے کی طرح اس کا طواف شروع کر دے ۔

Be the mad lover of the loveliness Of noble purpose; flutter like a moth About this ardent lamp.

1717

خوش نوائی نغمه ساز قم زد است

زخمهٔ معنی بر ابریشم زد است

قم کے نغمہ ساز یعنی مشہور شاعر ملک قمی نے ایک نہایت اچھا ترانہ سنایا ہے ۔ گویا حقیقت کا نغمہ تار پر لگایا ہے ۔

Sweet was the air Qum’s music-maker sang, the silken strings Sweeping responsive to his pulsing thought:

1818

تا کشد خار از کف پا ره سپر

می شود پوشیده محمل از نظر

جب تک مسافر اپنے تلوے سے کانٹا نکالے، محمل نظروں سے پوشیدہ ہو جاتا ہے ۔

“While yet the traveller bends to pluck the thorn That pricks his foot, the litter vanishes.”

1919

گر بقدر یک نفس غافل شدی

دور صد فرسنگ از منزل شدی

اگر تو ایک دم کے لیے بھی غافل ہو گا تو منزل سے سینکڑوں فرسنگ دور ہو جائے گا ۔

If thou art heedless but for one brief breath, A hundred leagues thou strayest from thy stage.

2020

این کهن پیکر که عالم نام اوست

ز امتزاج امهات اندام اوست

یہ پرانا پیکر جس کا نام دنیا ہے عناصر کے ربط و ضبط سے بنا ہے اور اس میں ابتدا ہی سے ارتقا کا عمل جاری ہے ۔

This ancient creature, that men call the world, Out of the mingling of the elements Derived its body;

2121

صد نیستان کاشت تا یک ناله رست

صد چمن خون کرد تا یک لاله رست

اس نے سینکڑوں نیستان بوئے اور ان میں ایک نالہ پیدا کیا ۔ سینکڑوں باغوں کا خون کر کے ایک لالہ اگایا ۔

a hundred reed-beds sowed That one lament might burgeon; bathed in blood A hundred meads, to yield one tulip-bloom.

2222

نقشها آورد و افکند و شکست

تا به لوح زندگی نقش تو بست

نقشوں کے خاکے تیار ہوئے اور بٹھائے گئے ۔ پھر انہیں مٹایا گیا اے مسلمان بناوَ بگاڑ کا یہ سلسلہ اس لیے جاری رہا تاکہ زندگی کی تختی پر تیرا نقش بٹھایا جا سکے ۔

Many the shapes it fetched and cast and broke To grave upon Life’s tablet thy design;

2323

ناله ها در کشت جان کاریده است

تا نوای یک اذان بالیده است

جانوں کے کھیت میں آہ و فغاں کی کاشت جاری رہی یہاں تک کہ ایک اذان کی صدا نے فروغ پایا ۔

Many laments it sowed in the soul’s tilth Till sprang the music of one call to prayer

2424

مدتی پیکار با احرار داشت

با خداوندان باطل کار داشت

یہ دنیا مدت تک احرار سے لڑتی رہی، اسے جھوٹے معبودوں سے محبت تھی ۔

Awhile it battled sternly with the free, And had much traffic with false lords,

2525

تخم ایمان آخر اندر گل نشاند

با زبانت کلمهٔ توحید خواند

آخر ایمان کا بیج مٹی میں بویا گیا ، وہ اگا ، بڑھا ، پھولا پھلا اور اے مسلمان تیری زبان سے اس دنیا نے توحید کا کلمہ پڑھا ۔

at last To strew the seed of faith in the heart’s soil And on the tongue to cry There is one God.

2626

نقطهٔ ادوار عالم لااله

انتهای کار عالم لااله

تو لا الہ یعنی کلمہ توحید کی حقیقت جانتا ہے ۔ جہان کے ہر دور و گردش کا مرکزی نقطہ لا الہ ہے ۔ اور اس جہان کے کام کی انتہا بھی لا الہ ہے ۔

No other god but God – this is the point On which the world concentrically turns, This the conclusion of the world’s affairs.

2727

چرخ را از زور او گردندگی

مهر را پایندگی رخشندگی

آسمان اسی کے زور سے گھوم رہا ہے، سورج کو اسی کی بدولت استواری اور آب و تاب حاصل ہے ۔

From this the sphere derives its strength to wheel, The sun its constancy and brilliance

2828

بحر گوهر آفرید از تاب او

موج در دریا تپید از تاب او

سمندر نے لا الہ ہی کی چمک دمک سے موتی پیدا کئے اور دریا کے اندر موج کو اسی تڑپ سے بہرہ یاب کیا ۔

The sea her gems, created of its glow, That set the ocean’s billows quivering.

2929

خاک از موج نسیمش گل شود

مشت پر از سوز او بلبل شود

مٹی لا الہ کی باد نسیم سے پھول بن جاتی ہے اور مٹھی بھر کر اس کے سوز سے بلبل کی شکل اختیار کر لیتے ہیں ۔

This is the breeze that fans the earth to bloom, This rapturous glow a few poor feathers flames Into the nightingale;

3030

شعله در رگهای تاک از سوز او

خاک مینا تابناک از سوز او

انگور کی رگوں میں اسی کے سوز کی بدولت آگ گردش کر رہی ہے ۔ صراحی کی مٹی میں بھی اس کے سوز کی بدولت چمک دمک ہے ۔

and this same fire Runs like a torch along the vineyard’s veins And glitters crimson in the dusty bowl.

3131

نغمه هایش خفته در ساز وجود

جویدت ای زخمه ور ساز وجود

عالم ہستی کے ساز میں لا الہ کے نغمے سوئے ہوئے ہیں ۔ اے زخمے والے ہاتھ آج عالم ہستی کا ساز تیری تلاش میں ہے تا کہ تو زخمہ لگائے اور سوئے ہوئے نغمے جاگ اٹھیں ۔

In Being’s instrument its melodies Life hidden; O musician, Being’s lute Seeketh for thee;

3232

صد نوا داری چو خون در تن روان

خیز و مضرابی بتار او رسان

تیرے پاس سینکڑوں نغمے ہیں جو خون کی طرح تیرے بدن میں د وڑ رہے ہیں اٹھ اور اس کے تار کو مضراب سے چھیڑ دے ۔

within thy body flow A hundred songs, as freely in thy veins The lifeblood pulses; rise, and smite the strings!

3333

زانکه در تکبیر راز بود تست

حفظ و نشر لااله مقصود تست

کیونکہ تکبیر ہی میں تیری ہستی کا راز چھپا ہوا ہے اور جان لے کہ تیرا اصل مقصد توحید کی حفاظت و اشاعت ہے ۔

Allahu Akbar! This the secret holds Of thy existence; wherefore let it be Thy purpose to preserve and propagate No other god.

3434

تا نخیزد بانگ حق از عالمی

گر مسلمانی نیاسائی دمی

اگر تو مسلمان ہے تو تجھے اس وقت تک ایک دم کے لیے بھی آرام سے نہیں بیٹھنا چاہیے جب تک کہ زمانہ بھر سے حق کی آواز نہ اٹھنے لگے ۔

If thou a Muslim art, Till all the world proclaims the Name of God Thou canst not rest one moment

3535

می ندانی آیه ام الکتاب

امت عادل ترا آمد خطاب

اے ملت اسلامیہ! کیا قرآن مجید کی وہ آیت تجھے معلوم نہیں جس میں تجھے امت عادل کا خطاب ملا ۔

Knowest thou not The verse in Holy Scripture, calling thee To be a people just, God’s witnesses?

3636

آب و تاب چهره ایام تو

در جهان شاهد علی الاقوام تو

زمانے کے چہرے کی رونق اور تازگی تیرے ہی دم سے ہے تو اس دنیا میں تمام قوموں کے لیے گواہی دینے والی ہے ۔ اس میں اشارہ قرآن مجید کی اس آیت کی طرف ہے اور ہم نے تمہیں نیک ترین اور عادل ترین امت ہونے کا درجہ عطا فرمایا تاکہ تم تمام انسانوں کے لیے گواہی دینے والے ہو اور تمہارے لیے رسول اللہ گواہی دینے والے ہیں (البقرہ) ۔

Thou art the glow and glory of the days, And made to testify to all mankind; To all who comprehend the weight of words

3737

نکته سنجان را صلای عام ده

از علوم امئی پیغام ده

جو نکتہ شناس ہیں انہیں دعوت عام دے اور امت نبی کے علوم سے آگاہ کر ۔

Make general proclamation, and impart The learned gospel of God’s Messenger.

3838

امیی پاک از هوی گفتار او

شرح رمز ماغوی گفتار او

وہ اُمّی ، جس کی گفتگو قرآن ارشاد کے مطابق نفس کی خواہش سے پاک تھی اور جو کچھ اس کی زبان مقدس پر جاری ہوتا تھا وحی کے ذریعے سے پہنچا ہوا آسمانی پیغام تھا ۔ وہ اُمّی جس کے ارشادات ماغویٰ کی شرح تھے یعنی ان میں بے راہی کی کوئی بات نہ تھی ۔

Unlettered was He, innocent of guile The words he uttered, that elucidate The mystery He did not go astray.

3939

تا بدست آورد نبض کائنات

وانمود اسرار تقویم حیات

اس امی نبی نے کائنات کی نبض اپنے دست مبارک میں لی تو زندگی کی پختگی کے تمام بھید کھول کر رکھ دیے ۔

Yet, when he held the pulse of living things, The secrets of Life’s constitution he Forthwith revealed,

4040

از قبای لاله های این چمن

پاک شست آلودگیهای کهن

اس چمن میں لالوں کی قبا پر جتنی آلودگیاں پرانے زمانے سے چھائی ہوئی تھیں ان سب کو دھو کر صاف کر دیا ۔

and cleansed of ancient blight The garment of the tulips of this mead.

4141

در جهان وابستهٔ دینش حیات

نیست ممکن جز به آئینش حیات

اس دنیا میں زندگی اسی امی نبی کے دین سے وابستہ ہے اور یاد رکھو اس کی شریعت اور اس کے مقرر کئے ہوئے قاعدوں کے بغیر جینا ممکن ہی نہیں ۔

Life here below is bound up with his Faith Nor can survive, save guarded by his Law.

4242

ای که میداری کتابش در بغل

تیز تر نه پا به میدان عمل

اے ملت اللہ تعالیٰ کی کتاب یعنی قرآن مجید تیرے بغل یعنی پاس ہے اس کے نور سے فائدہ اٹھا اور عمل کی میدان میں چلنا شروع کر دے ۔

Having his Book beneath thy arm, stride out With greater boldness to the battlefield Of works;

4343

فکر انسان بت پرستی بت گری

هر زمان در جستجوی پیکری

انسان کا شیوہ ابتدا سے یہ رہا ہے کہ بت بنائے اور انہیں پوجے وہ ہر گھڑی کسی نئے بت کی تلاش میں رہتا ہے ۔

for human thought, idolatrous And idol-fashioning, is all the time In quest of some new image

4444

باز طرح آزری انداخت است

تازه تر پروردگاری ساخت است

اب اس نے پھر آذر کا طریقہ اختیار کر لیا ہے اور نت نئے بت بنا کر کھڑے کر دیے ہیں ۔

in these days It follows once again old Azar’s trade, And man creates an ever novel god

4545

کاید از خون ریختن اندر طرب

نام او رنگ است و هم ملک و نسب

وہ بت خون بہا کر خوشی سے ناچتے ہیں ان کے نام ہیں رنگ، ملک اور نسل (ملک کا بت یورپ نے پیدا کیا، رنگ کا بت بھی یورپ ہے ان بتوں نے عالم انسانیت کو چھوٹے بڑے ٹکروں میں بانٹ دیا اور جگہ جگہ ایک دوسرے سے دشمنی کی آگ بھڑکا دی) ۔

Whose joy is shedding blood, whose hallowed name Is Colour, Fatherland, Blood-Brotherhood.

4646

آدمیت کشته شد چون گوسفند

پیش پای این بت ناارجمند

اقبال نے کیا خوب فرمایا کہ دیکھو، ان نامراد بتوں کے پاؤں میں انسانیت بھیڑ بکری کی طرح بیدردی سے ذبح کر ڈالی گئی ۔

Humanity is slaughtered like a sheep Before this worthless idol.

4747

ای که خوردستی ز مینای خلیل

گرمی خونت ز صهبای خلیل

اے ملت اسلامیہ تو نے ابراہیم کی صراحی سے شراب پی ہے تیرے خون میں اسی شراب کی حرارت دوڑ رہی ہے ۔

Thou, whose lips Have touched the sacred bowl of Abraham, Whose blood is ardent with his holy wine,

4848

برسر این باطل حق پیرهن

تیغ «لا موجود الا هو» بزن

اٹھ اور اس باطل کا سر جس نے حق کا لباس پہن رکھا ہے لاموجود الا ہو کی تلوار چلا کر قلم کر دے ۔

Against this falsehood, garmented as truth, Lift now the blade there is not aught but God And smite!

4949

جلوه در تاریکی ایام کن

آنچه بر تو کامل آمد عام کن

اس دنیا کے طول و عرض میں اندھیرا چھا گیا ہے ۔ اٹھ اور اجالے کا سروسامان کر دے ۔ جو دین تجھ پر کامل ہوا ہے اسے چپے چپے میں پھیلا دے ۔

The days are shrouded all in mirk; Display thy light, and let the thing in thee Perfected shine o’er all humanity.

5050

لرزم از شرم تو چون روز شمار

پرسدت آن آبروی روزگار

میں تو شرم کے مارے کانپ اٹھتا ہوں جب سوچتا ہوں کہ قیامت کے دن وہ پاک ذات جو اس کائنات کی آبرو تھی

I tremble for thy shame, when on the Day Of Reckoning that Glory of all time Shall question thee:

5151

حرف حق از حضرت ما برده ئی

پس چرا با دیگران نسپرده ئی

اے ملت تجھ سے پوچھے گی کہ تجھے ہماری پیش گاہ سے ایک پیغام دیا گیا تھا تو نے اسے دوسروں تک کیوں نہ پہنچایا

Thou tookest from my lips The word of Truth, and wherefore hast thou failed To pass my message on to other men?”

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

می گشایم عقده از کار حیات

سازمت آگاه اسرار حیات

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 20 - در معنی اینکه حیات ملیه مرکز محسوس میخواهد و مرکز ملت اسلامیه بیت الحرام است

اگلی نظم

ای که با نادیده پیمان بسته‌ای

همچو سیل از قید ساحل رسته‌ای

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 22 - در معنی اینکه توسیع حیات ملیه از تسخیر قوای نظام عالم است

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور