صفحۂ اولشعرازمرہ جاتلغاتمزید مطالعہہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولشعراتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

اوزاناصنافصداکارانمترجمینزندہ رود اور گنجور

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 22 - در معنی اینکه توسیع حیات ملیه از تسخیر قوای نظام عالم است

بخش 22 - در معنی اینکه توسیع حیات ملیه از تسخیر قوای نظام عالم است

توسیعِ حیاتِ ملی نظام عالم کی تسخیر قویٰ کا نام ہے

That the expansion of communal life depends upon controlling the forces of world order

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
11

ای که با نادیده پیمان بسته‌ای

همچو سیل از قید ساحل رسته‌ای

اے مسلمان تو نے ان دیکھی ذات سے بندگی کا عہد باندھ رکھا ہے یعنی تو غیب پر ایمان لا چکا ہے اور تیری حیثیت وہی ہے جو سیل کی ہوتی ہے اور وہ کناروں کی کوئی پروا نہیں کرتا ۔

Thou, who hast made with the Invisible Thy covenant, and burst forth like a flood From the shore’s bondage,

22

چون نهال از خاک این گلزار خیز

دل بغائب بند و با حاضر ستیز

تو درخت کی طرح باغ کی مٹی سے نکل کر سر بلند ہو ، دل ذات غائب سے پیوستہ رکھ اور جو حاضر و موجود ہے اس سے جنگ شروع کر دے(غائب سے اشارہ اللہ تعالیٰ کی طرف اور حاضر سے کائنات کی طرف ہے ۔ کائنات سے لڑنے کا مقصد یہ ہے کہ اسے زیر نگیں کیا جائے ۔ ) ۔

as a sapling rise Out of this garden’s soil; attach thy heart To the Unseen, yet ever with the seen Wage conflict,

33

هستی حاضر کند تفسیر غیب

می شود دیباچهٔ تسخیر غیب

حاضر کی ہستی غیب کی تفسیر ہے اور اسے مسخر کر لینے کے بعد غیب کی تسخیر کا دروازہ بھی کھل جاتا ہے اور حاضر کی تسخیر غیب کی تسخیر کا دیباچہ ہے ۔

since this being visible Interprets that unviewed, and prelude is To the o’ermastery of hidden powers.

44

ما سوا از بهر تسخیر است و بس

سینهٔ او عرضهٔ تیر است و بس

خدا کے سوا جو موجودات ہے وہ اسی لیے ہے کہ اسے تسخیر کیا جائے اور اس کا سینہ تیروں کا نشانہ ہے ۔

All otherness is only to subdue, Its breast a target for the well-winged shaft;

55

از کن حق ما سوا شد آشکار

تا شود پیکان تو سندان گذار

اللہ تعالیٰ نے کن کہا اور یہ دنیا پیدا ہو گئی ۔ اسی لیے پیدا ہوئی کہ تیرا پیکان اہرن کو توڑتا ہوا نکل جائے ۔ یعنی ماسوا اہرن ہے اور انسان کا پیکان اس لیے ہے کہ ماسوا کو تسخیر کیا جائے ۔

God’s fiat Be! made other manifest So that thy arrows might be sharp to pierce The steely anvil

66

رشته ئی باید گره اندر گره

تا شود لطف گشودن را فره

رشتہ ایسا چاہیے جس میں گرہوں پر گرہیں پڑی ہوئی ہوں تاکہ اسے کھولنے میں زیادہ لطف آئے ۔

Truly it requires A tightly knotted cord, to whet and prove The wit of the resolver

77

غنچه ئی؟ از خود چمن تعبیر کن

شبنمی؟ خورشید را تسخیر کن

تو غنچہ ہے تو اپنے آپ کو باغ سمجھ ، تو شبنم ہے تو سورج کو قبضے میں لا ۔

Truly it requires A tightly knotted cord, to whet and prove The wit of the resolver

88

از تو می آید اگر کار شگرف

از دمی گرمی گداز این شیر برف

اگر تو یہ زیبا کام ا نجام دے سکے تو تیرا گرم سانس برف کے شیر کو پگھلا سکتا ہے ۔

If thou art equal to the bold emprise, Melt thou this snow-lion with one torrid breath!

99

هر که محسوسات را تسخیر کرد

عالمی از ذره ئی تعمیر کرد

جس نے محسوسات کو تسخیر کر لیا وہ ایک ذرے سے دنیا تعمیر کر سکتا ہے ۔

Whoever hath subdued the things perceived Can of one atom reconstruct a world,

1010

آنکه تیرش قدسیان را سینه خست

اول آدم را سر فتراک بست

وہ جس کے تیر سے قدسیوں کا سینہ زخمی ہو گیا ۔ اس نے سب سے پہلے آدم کو فتراک میں باندھا ۔

And he whose shaft would pierce the angel’s breast First fastens Adam to his saddle-bow

1111

عقدهٔ محسوس را اول گشود

همت از تسخیر موجود آزمود

اس نے محسوس کی گتھی سب سے پہلے سلجھائی ، پھر موجود کی تسخیر میں حوصلہ و ہمت کی آزمائش کی ۔

He first resolves the knot phenomena And, mastering Being, proves his lofty power.

1212

کوه و صحرا دشت و دریا بحر و بر

تختهٔ تعلیم ارباب نظر

یہ پہاڑ ، صحرا، دشت ، دریا، تری ، خشکی کیا ہیں صاحبان نظر کے لیے تعلیم کی تختیاں ہیں ۔

Mountain and wilderness, river and plain, All land and sea – these are the scholar’s slate On which the man of vision learns to read.

1313

ای که از تأثیر افیون خفته ئی

عالم اسباب را دون گفته ئی

اے مسلمان تو افیون کے اثر سے سو گیا ۔ اس دنیا کو جو عالم اسباب ہے ہیچ کہتا ہے ۔

O thou who slumberest, by dull opiates drugged, And namest mean this world material

1414

خیز و وا کن دیدهٔ مخمور را

دون مخوان این عالم مجبور را

اٹھ اور خمار آلود آنکھیں کھول اس عالم مجبور کو ہیچ نہ کہہ ۔

Rise up, and open thy besotted eyes! Call thou not mean thy world by Law compelled;

1515

غایتش توسیع ذات مسلم است

امتحان ممکنات مسلم است

اس کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان کی ذات توسیع پائے اور اس کے ممکنات کی آزمائش کی جا سکے یعنی دیکھا جاسکے کہ اس میں کتنی قوت کتنی صلاحیت ہے ۔

Its purpose is to enlarge the Muslim’s soul, To challenge his potentialities;

1616

می زند شمشیر دوران بر تنت

تا ببینی هست خون اندر تنت

زمانہ تیرے بدن پر بار بار تلوار مار رہا ہے تاکہ تجھے دیکھ سکے کہ تیرے بدن میں خون ہے یا نہیں ۔

The body it assaults with fortune’s sword That thou mayest see if there be blood within;

1717

سینه را از سنگ زوری ریش کن

امتحان استخوان خویش کن

سینے کو ورزش کے پتھر سے زخمی کر لے اور اپنی ہڈیوں کی آزمائش کر ۔

Dash thou thy breast against its jagged rock Until it pierce thy flesh, and prove thy bone.

1818

حق جهان را قسمت نیکان شمرد

جلوه اش با دیدهٔ مؤمن سپرد

اللہ کا فیصلہ یہی ہے کہ دنیا نیکوں کا حصہ ہے ، اس کا جلوہ مومن کی آنکھ کے حوالے کیا گیا ۔ یہاں اس آیت کی طرف اشارہ ہے کہ ، بیشک یہ زمین میرے نیک بندوں کی وراثت ہے ۔

God counts this world the portion of good men, Commits its splendour to believers’ eyes;

1919

کاروان را رهگذار است این جهان

نقد مؤمن را عیار است این جهان

یہ دنیا قافلے کے گزرنے کا راستہ ہے لیکن مومن کے پاس جو کچھ ہے اس کی جانچ پرکھ کے لیے یہ کسوٹی ہے ۔

It is a road the caravan must pass, A touchstone the believer’s gold to assay;

2020

گیر او را تا نه او گیرد ترا

همچو می اندر سبو گیرد ترا

اسے قابو میں لا تاکہ تجھے قابو میں نہ لے آئے ۔ اگر اسے موقع مل گیا تو یہ تجھے شراب کی طرح مٹکے میں ڈال کر رکھے گی ۔

Seize thou this world, that it may not seize thee And in its pitcher swallow thee like wine.

2121

دلدل اندیشه ات طوطی پر است

آنکه گامش آسمان پهناور است

تیری فکر کے گھوڑے کو طوطی کے پر لگے ہوئے ہیں اور اس کا قدم آسمان کی وسعت کے برابر ہے ۔

The stallion of thy thought is parrot-swift, Striding the whole wide heavens in a bound;

2222

احتیاج زندگی میراندش

بر زمین گردون سپر گرداندش

اسے زندگی کی ضرورتیں چلا رہی ہیں ۔ اگر خود زمین سے وابستہ ہے لیکن آسمان کی پیمائش کر رہا ہے ۔

Urged ever onwards by the needs of life, Raised up to rove the skies, though earthbound still;

2323

تا ز تسخیر قوای این نظام

ذوفنونیهای تو گردد تمام

اس کا مقصد یہ ہے کہ نظام کائنات کی قوتوں کو تسخیر کر لے اور تیری ہنر مندیوں کے جوہر درجہ کمال پر آشکار ہو جائیں

That, having won the mastery of the powers Of this world-order, thou mayest consummate The perfecting of thy ingenious crafts.

2424

نایب حق در جهان آدم شود

بر عناصر حکم او محکم شود

اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ آدمی کو دنیا میں خدا کی نیابت مل جائے گی اور عناصر پر اس کی حکمرانی کا سلسلہ مستحکم ہو جائے گا ۔

Man is the deputy of God on earth, And o’er the elements his rule is fixed;

2525

تنگی ات پهنا پذیرد در جهان

کار تو اندام گیرد در جهان

اے مخاطب تیری تنگی اس دنیا میں پھیلاوَ اختیار کرتاکہ تیرا کام آراستہ ہو جائے ۔

On earth thy narrowness receiveth breadth, Thy toil takes on fair shape.

2626

خویش را بر پشت باد اسوار کن

یعنی این جمازه را ماهار کن

تو ہوا کی پشت پر سوار ہو اور اس سانڈنی کے نکیل ڈال لے ۔

Ride thou the wind; Put bridle on that swift-paced dromedary.

2727

دست رنگین کن ز خون کوهسار

جوی آب گوهر از دریا برآر

پہاڑوں کے خون سے ہاتھ رنگ لے اور موتی کی آب و تاب کی ندی سمندر سے نکال ، یعنی پہاڑوں اور دریاؤں میں قدرت کے پوشیدہ خزانے تلاش کر ۔

Dabble thy fingers in the mountain’s blood; Draw up the lustrous waters of the pearl From ocean’s bottom;

2828

صد جهان در یک فضا پوشیده اند

مهر ها در ذره ها پوشیده اند

ایک ایک فضا میں سینکڑوں جہان چھپے ہوئے ہیں ۔ ایک ایک ذرے میں سورج پنہاں ہیں ۔

in this single field A hundred worlds are hidden, countless suns Veiled in these dancing motes.

2929

از شعاعش دیده کن نادیده را

وا نما اسرار نافهمیده را

اس کی کرن کی روشنی سے ان دیکھے دیکھ لے اور جو بھید ابھی تک سمجھے نہیں گئے انھیں کھول دے تا کہ سب سمجھ لیں ۔

This glittering ray Shall bring to vision the invisible, Disclose uncomprehended mysteries.

3030

تابش از خورشید عالم تاب گیر

برق طاق افروز از سیلاب گیر

تو دنیا کو روشن کرنے والے سورج سے چمک دمک لے لے ۔ پانی کے سیل سے وہ بجلی پیدا کر جو گھروں کو روشن کر دے ۔

Take splendour from the world-inflaming sun, The arch-illuming levin from the storm;

3131

ثابت و سیاره گردون وطن

آن خداوندان اقوام کهن

یہ اجرام کو ثابت اور سیار کہلاتے ہیں یعنی ستاروں کے دو گروہ جن میں سے ایک کو ٹھہرا ہوا اور دوسرے کو پھرنے والا قرار دیتے ہیں آسمان ان کا وطن ہے زمانہ قدیم کی قو میں انہیں کو معبود سمجھ کر پوجا کرتی تھیں ۔

All stars and planets dwelling in the sky, Those lords to whom the ancient peoples prayed,

3232

اینهمه ای خواجه آغوش تو اند

پیش خیز وحلقه در گوش تو اند

اے انسان اگر تو اپنی حقیقی حیثیت کا اندازہ کر لے تو یہ سب تیری لونڈیاں ، کنیزیں ، خدمت گار اور غلام ہیں ۔

All those, my master, wait upon thy word And are obedient servants to thy will.

3333

جستجو را محکم از تدبیر کن

انفس و آفاق را تسخیر کن

تو ہمت اور حوصلہ سے کام لے اور تلاش جاری رکھ اور تدبیروں سے تلاش کو نتیجہ خیز بنا ۔ تیرا نصب العین یہ ہے کہ انفس اور آفاق کو مسخر کر ے یعنی اس کائنات کی مادی اور معنوی قوتوں پر قابو پا لے ۔

In prudence plan the quest, to make it sure, Then master every spirit, all the world.

3434

چشم خود بگشا و در اشیا نگر

نشه زیر پردهٔ صهبا نگر

اپنی آنکھ کھول اور اشیاء کی حقیقت پر نظر ڈال ۔ تیری نظر میں اتنی تیزی اور گہرائی ہونی چاہیے کہ شراب کے پردے میں نشہ دیکھ سکے ۔

Open thine eyes, and into all things gaze; Behold the rapture veiled within the wine.

3535

تا نصیب از حکمت اشیا برد

ناتوان باج از توانایان خورد

تجھے معلوم ہے کہ اشیا کی حقیقت حیثیت کا صحیح اندازہ کر لیا جائے تو نتیجہ کیا نکلتا ہے یہ نکلتا ہے کہ کمزور آدمی طاقتوروں سے خراج وصول کرتے ہیں ۔

The weak, endowed with knowledge of the power Of natural things, takes tribute from the strong.

3636

صورت هستی ز معنی ساده نیست

این کهن ساز از نوا افتاده نیست

یہ کائنات بظاہر سادہ نظر آتی ہے لیکن معنویت سے خالی نہیں ۔ اس وہم میں مبتلا نہ ہو کہ یہ پرانا ساز اب اس قابل نہیں رہا کہ اسے چھیڑ کر نغمہ پیدا کیا جا سکے ۔

The outward form of Being is not bare Of inward meaning; this old instrument Still keeps its pitch,

3737

برق آهنگ است هشیارش زنند

خویش را چون زخمه بر تارش زنند

اس سے ایسے نغمے نکالے جا سکتے ہیں جن میں بجلی کی طاقت ہو لیکن شرط یہ ہے کہ اسے ہنر مندی سے بجایا جائے اور بجانے والا مضراب بن کر اس کے تار چھیڑے ۔

still lightning in its song If played with cunning, self against the strings For plectrum striking.

3838

تو که مقصود خطاب انظری

پس چرا این راه چون کوران بری

تو دیکھ کے خطاب کا مقصود ہے یعنی تجھے نظر سے صحیح کام لینے کی تاکید کی گئی ہے ۔ پھر تو اندھوں کی طرح یہ راستہ کیوں طے کرتا ہے

Thou, whom God designed Saying, Behold! Why travellest thou this way Like blind men?

3939

قطره ئی کز خود فروزی محرم است

باده اندر تاک و بر گل شبنم است

جو قطرہ اپنے آپ کو روشن رکھنے کا راز جانتا ہو وہ انگور کی رگوں میں شراب اور پھول کی پنکھڑیوں پر شبنم بن جاتا ہے ۔

Lo, thy self-enkindled drop Being intimate with mysteries, is like wine Within the tendril, dew upon the rose;

4040

چون بدریا در رود گوهر شود

جوهرش تابنده چون اختر شود

پھر سمندر میں پہنچتا ہے تو موتی کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور اسکے جوہر ستارے کی طرح چمک اٹھتے ہیں ۔

Let flow into the ocean, it becomes A pearl, its substance glittering as a star.

4141

چون صبا بر صورت گلها متن

غوطه اندر معنی گلزار زن

تو صبا کی طرح پھولوں کی ظاہری صورت ہی کے اردگرد چکر کاٹنے میں نہ لگا رہ ۔ اس باغ کی حقیقت میں بھی غوطہ لگا ۔

Fan not the rose’s petals like the breeze, But punge into the meaning of the bower;

4242

آنکه بر اشیا کمند انداخت است

مرکب از برق و حرارت ساخت است

جن لوگوں نے اشیاء پر کمندیں پھینکیں اور ان کی حقیقت معلوم کر لی انھوں نے بجلی یا حرارت سے چلنے والی سواریاں تیار کر دیں ۔

Whoso hath spun about phenomena The knotted noose, hath mastered for his mount The lightning and the heat.

4343

حرف چون طایر به پرواز آورد

نغمه را بی زخمه از ساز آورد

وہ حرف کو پرندے کی طرح پرواز میں لے آئے اور ساز سے مضراب کے بغیر نغمے پیدا کرنے لگے ۔

He makes the word Wing like a bird in flight, the instrument Sing of itself without the plectrum’s touch.

4444

ای خرت لنگ از ره دشوار زیست

غافل از هنگامهٔ پیکار زیست

اے مسلمان تیری سواری کا گدھا زندگی کے مشکل راستے کی وجہ سے لنگڑا ہو گیا ہے اور تو زندگی کی رزم و پیکار کے ہنگامے سے بالکل ناواقف ہے ۔

Thy ass is lame, because the way of life Was arduous, and thou too ignorant Of life’s hard combat;

4545

همرهانت پی به منزل برده اند

لیلی معنی ز محمل برده اند

تیرے ہم سفر منزل کی طرف بڑھ گئے ۔ انھوں نے حقیقت کی لیلیٰ کو محمل سے نکال لیا ہے ۔

while already now Thy fellow-travellers have reached the goal, Borne from her litter Layla, the divine And lovely Truth;

4646

تو بصحرا مثل قیس آواره ئی

خسته ئی وامانده ئی بیچاره ئی

تو صحرا میں قیس کی طرح خستہ، عاجز، بے بس اور آوارہ پھر رہا ہے ۔

like Qais thou wanderest Distracted in the desert, weary, sore.

4747

علم اسما اعتبار آدم است

حکمت اشیا حصار آدم است

تو غور کر کہ علم اسماء کی بنا پر آدمی کی عزت و حرمت ہے اور اشیاء کی حقیقی حیثیت کا اندازہ کر لینے ہی پر آدمی کی حفاظت موقوف ہے جس طرح شہر کی حفاظت فصیل کے ذریعے سے ہوتی ہے ۔

Yet Adam’s glory was that he possessed The knowledge of the names, and being wise In natural ken, was thereby fortified.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

با تو آموزم زبان کائنات

حرف و الفاظ است اعمال حیات

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 21 - در معنی اینکه جمعیت حقیقی از محکم گرفتن نصب العین ملیه است و نصب العین امت محمدیه حفظ و نشر توحید است

اگلی نظم

کودکی را دیدی ای بالغ نظر

کو بود از معنی خود بی خبر

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 23 - در معنی اینکه کمال حیات ملیه این است که ملت مثل فرد احساس خودی پیدا کند و تولید و تکمیل این احساس از ضبط روایات ملیه ممکن گردد

◆

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور