صفحۂ اولشعراءلغاتاوزاناصنافمترجمینصداکارہمارے بارے میںرابطہ
زندہ رود
زندہ رود

زندہ رود: فارسی شاعری کا ایک جاوداں دریا

زندہ رود فارسی شاعری کو اردو اور انگریزی تراجم، آڈیو اور ویڈیو کے ساتھ ایک پرسکون اور مستقل مطالعہ گاہ میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔

مزید جانیں ←
YouTubeFacebookInstagramTikTok

مرکزی راستے

صفحۂ اولتلاشہمارے بارے میںرابطہ

مزید مطالعہ

شعراءاوزاناصنافصداکارانمترجمین

لغات

لغاتزندہ رود فارسی لغتزندہ رود عربی لغت

ہر ماہ نئی نظمیں · جاری منصوبہ

© 2026 زندہ رود

  1. علامہ اقبال
  2. »رموز بیخودی
  3. »بخش 23 - در معنی اینکه کمال حیات ملیه این است که ملت مثل فرد احساس خودی پیدا کند و تولید و تکمیل این احساس از ضبط روایات ملیه ممکن گردد

بخش 23 - در معنی اینکه کمال حیات ملیه این است که ملت مثل فرد احساس خودی پیدا کند و تولید و تکمیل این احساس از ضبط روایات ملیه ممکن گردد

حیات ملیہ کا کمال یہ ہے کہ ملت فرد کی طرح احساس خودی پیدا کرے اور اس احساس کی تولید و تکمیل ملی روایات کے ضبط ہی سے ممکن ہے

That the perfection of communal life is attained when the community, like the individual, discovers the sensation of self; and that the propagation and perfecting of this sensation can be realized through guarding the communal traditions

شاعر: علامہ اقبال

وزن: فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مسدس محذوف یا وزن مثنوی)

صنف: مثنوی

اردو ترجمہ: حمیداللہ ہاشمی، میاں عبدالرشید
انگریزی ترجمہ: آربری
Toggle stanza 1
1

کودکی را دیدی ای بالغ نظر

کو بود از معنی خود بی خبر

اے بلند نظر اور حقیقت شناس انسان! تو نے کبھی بچے کو دیکھا ہے جو اپنی حقیقت سے بے خبر ہو تا ہے

O thou of gaze intent, hast thou not seen An infant, unacquainted with its self,

2

ناشناس دور و نزدیک آنچنان

ماه را خواهد که بر گیرد عنان

اسے نزدیکی اور دوری میں کوئی تمیز نہیں ہوتی ۔ چاندنی میں اسے لٹا دیا جاتا ہے تو اس کے انداز میں ہاتھ پاؤں مارتا ہے گویا چاند کو پکڑنا چاہتا ہے ۔

So unaware of what is far, what near That it aspires to rein the very moon?

3

از همه بیگانه آن مامک پرست

گریه مست وشیر مست و خواب مست

وہ ماں کے سوا کسی کو نہیں پہچانتا ۔ یا تو روتا ہے یا دودھ پیتا ہے یا سو رہتا ہے ۔

To all a stranger, mother-worshipping, Drunken with weeping and with milk and sleep

4

زیر و بم را گوش او در گیر نیست

نغمه اش جز شورش زنجیر نیست

اس کے کان سروں کے اونچا نیچا ہونے سے بے بہرہ ہوتے ہیں ۔ دروازے کی زنجیر کھڑکا کر شور پیدا کیا جائے تو بچہ اسی کو نغمہ سمجھ لیتا ہے ۔

His ear cannot distinguish la from mi, His music’s the mere jangling of a chain.

5

ساده و دوشیزه افکارش هنوز

چون گهر پاکیزه گفتارش هنوز

اس کے افکار بالکل سادہ اور اچھوتے ہوتے ہیں ۔ اس کی باتیں موتی کی طرح پاکیزہ ہوتی ہیں ۔

Simple and virgin are his thoughts as yet, Pure as a pearl his speech;

6

جستجو سرمایه ی پندار او

از چرا ، چون ، کی ، کجا ، گفتار او

پھر اس کا شعور ترقی پاتا ہے تو اس کی سمجھ بوجھ کا سرمایہ یہ ہوتا ہے کہ ہر شے کی حقیقت معلوم کرے ۔ وہ پوچھتا رہے گا، یہ کیوں ہے، کب سے ہے کس طرح ہوئی، کہاں سے آئی ۔

to search and search His meditation’s sum, as on his lips Spring ever Why and When and How and Where;

7

نقش گیر این و آن اندیشه اش

غیر جوئی غیر بینی پیشه اش

اس کی فکر کے ورق پر مختلف چیزوں کے نقش بنتے جاتے ہیں ۔ وہ ہر وقت اس شغل میں رہتا ہے کہ اپنے سوا جو کچھ ہے اسے دیکھے اور اس کی حقیقت معلوم کرے ۔

Receptive to all images his mind, His occupation other to pursue, Other to see.

8

چشمش از دنبال اگر گیرد کسی

جان او آشفته می گردد بسی

اگر پیچھے سے کوئی اس کی آنکھیں اچانک بند کر لے تو وہ بیقرار ہو جاتا ہے ۔

Let any take his eyes Creeping behind his back, and how distressed His little soul becomes!

9

فکر خامش در هوای روزگار

پر گشا مانند باز نو شکار

اس کی ناپختہ فکر زمانے کی ہوا میں اس طرح اڑتی ہے جس طرح نیا نیا شکاری باز اڑتا ہے ۔

So immature His thoughts are yet that like the new-sprung hawk Flutters its wings,

10

در پی نخجیرها بگذاردش

باز سوی خویشتن می آردش

بچہ اس فکر کو شکار کے پیچھے چھوڑ دیتا ہے، پھر اسے واپس لے آتا ہے ۔ واضح رہے کہ جب باز کو شکار پر لگایا جاتا ہے تو اس کے پاؤں ایک ڈور میں بندھے رہتے ہیں تاکہ شکاری جب چاہے، اشارہ کر کے یا ڈور کھینچ کر اسے واپس لے آئے ۔

to try the world’s wide air; He lets them slip, to hunt and seize their prey, Then calls them home again unto himself.

11

تا ز آتشگیری افکار او

گل فشاند زرچک پندار او

بچہ اپنی فکر کو شکار کے بعد اس لیے واپس لاتا ہے کہ اس کی فکر نے آگ پکڑ لی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ اس کی سمجھ بوجھ سے پھلجھڑی کی مانند پھول جھڑنے لگیں ۔

Lit by the pyrotechnics of the mind The rocket of his fancy fills the sky With coruscating embers.

12

چشم گیرایش فتد بر خویشتن

دستکی بر سینه می گوید که من

جب اس کی پکڑنے والی نظر اپنے آپ پر پڑتی ہے تو وہ سینے پر ہاتھ مار کر کہتا ہے کہ میں ۔

At the last His eye prehensile lights upon himself; His little hand clutched to his breast, he cries “I!”

13

یاد او با خود شناسایش کند

حفظ ربط دوش و فردایش کند

اس کی یاد اسے خود اس کی ذات سے آگاہ کر دیتی ہے ۔ یوں اس کی گزشتہ اور آئندہ کل کے درمیان ربط پیدا ہو جاتا ہے ۔

So his memory maketh him aware Of his own self, and keeps secure the bond Linking to-morrow with his yesterday;

14

سفته ایامش درین تار زرند

همچو گوهر از پی یک دیگرند

اس سنہری سار میں اس کے دن پروئے جاتے ہیں ۔ بالکل اسی طرح جیسے موتی لڑی میں ایک دوسرے کے بعد ہوتے ہیں ۔

Upon this golden thread his days are strung Like jewels on a necklace, one by one.

15

گرچه هر دم کاهد ، افزاید گلش

«من همانستم که بودم» در دلش

اگرچہ اس کا بدن ہر لحظہ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے مگر اس کے دل سے یہ صدا بلند ہوتی رہتی ہے کہ میں وہی ہوں جو تھا یا جو کبھی میں تھا ۔ میں کا یہ احساس نیا نیا پیدا ہوا ۔

Though, every breath, ever diminishes, Ever augments his flesh, “I am the same As I have ever been,” his heart declares.

16

این «من» نو زاده آغاز حیات

نغمهٔ بیداری ساز حیات

دراصل زندگی کا آغاز ہے اور سمجھنا چاہیے کہ زندگی کا ساز بجنے لگا اور اس سے نغمے پیدا ہونے لگے ۔

This newborn “I” the inception is of life, This the true song of life’s awaking lute.

17

ملت نوزاده مثل طفلک است

طفلکی کو در کنار مامک است

جو ملت نئی نئی پیدا ہوتی ہے اس کی حالت بھی ماں کی گود والے بچے کی سی ہوتی ہے ۔ جو بچہ اپنے آپ سے آگاہ نہیں ہوتا ۔

Like to a child is a community Newborn, an infant in its mother’s arms;

18

طفلکی از خویشتن نا آگهی

گوهر آلوده ئی خاک رهی

وہ موتی ہوتا ہے مگر ایسا جو راستے کی گرد میں لپٹا ہوا ہو ۔

All unaware of self; a jewel stained By the road’s dust

19

بسته با امروز او فرداش نیست

حلقه های روز و شب در پاش نیست

اس قوم کے آج کا رشتہ آئندہ کل سے بندھا نہیں ہوتا اور دن رات کے حلقے سے اس کے پاؤں آزاد ہوتے ہیں ۔

unbound to its to-day Is its to-morrow, fettered not its feet By the successive links of night and day.

20

چشم هستی را مثال مردم است

غیر را بیننده و از خود گم است

اس کی مثال یوں سمجھو جیسے ہستی کی آنکھ میں پتلی کہ وہ دوسروں کو دیکھتی ہے اور اپنے آپ کو نہیں دیکھتی ۔

It is the pupil lodged in Being’s eye, Other beholding, lost unto itself;

21

صد گره از رشتهٔ خود وا کند

تا سر تار خودی پیدا کند

وہ اپنے دھاگے کی سینکڑوں گرہیں کھولتی ہے، پھر اسے خودی کے تار کا سرا ملتا ہے یعنی اس میں بھی کچھ دیر کے بعد خودی کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔

A hundred knots are in its cord to loose Ere it can reach the end of selfhood’s thread

22

گرم چون افتد به کار روزگار

این شعور تازه گردد پایدار

پھر وہ دنیا کے کاروبار میں سرگرمی میں حصہ لیتی ہے تو خودی کا جو نیا نیا شعور پیدا ہوا تھا وہ پائیدار واستوار ہو جاتا ہے ۔

But when with energy it falls upon The world’s great labours, stable then becomes This new-won consciousness;

23

نقشها بردارد و اندازد او

سر گذشت خویش را می سازد او

وہ نقش اٹھاتی اور بٹھاتی ہے اس طرح اپنی سرگزشت تیار کرتی ہے ۔

it raises up A thousand images, and casts them down; So it createth its own history.

24

فرد چون پیوند ایامش گسیخت

شانهٔ ادراک او دندانه ریخت

اگر فرد کے دنوں کا ربط و ضبط ٹوٹ جائے تو اس کے فہم و ادراک کا شانہ دندانوں سے محروم ہو جاتا ہے یعنی فہم و ادراک کچھ کام نہیں دیتے ۔ یہ ظاہر ہے کہ شانے کے دندانے ٹوٹ جائیں تو وہ کسی کام کا نہیں رہتا ۔

Yet, when the individual has snapped The bond that joins his days, as when a comb Sheddeth its teeth, so his perception is.

25

قوم روشن از سواد سر گذشت

خود شناس آمد ز یاد سر گذشت

اسی طرح قوم بھی اپنی تاریخ سے روشنی حاصل کرتی ہے اور اپنی روایات کی یاد سے اس کے اندر خود شناسی پیدا ہوتی ہے۔

ترجمہ: میاں عبدالرشید

The record of the past illuminates The conscience of a people; memory Of past achievements makes it self-aware;

26

سر گذشت او گر از یادش رود

باز اندر نیستی گم می شود

اگر وہ اپنی تاریخ بھول جائے گی تو پھر فنا کی تاریکی میں گم ہو جائے گی ۔

But if that memory fades, and is forgot, The folk again is lost in nothingness.

27

نسخهٔ بوده تو را ای هوشمند

ربط ایام آمده شیرازه بند

اے عقلمند! تیری زندگی کا نسخہ یہ ہے کہ اپنے دنوں کا شیرازہ باندھے ۔

Know, then, ’tis the connecting thread of days That stitches up thy life’s loose manuscript;

28

ربط ایام است ما را پیرهن

سوزنش حفظ روایات کهن

یہی دنوں کا ربط و ضبط ہمارے لیے لباس ہے ۔ یہ لباس جس سوئی سے سلتا ہے وہ پرانی روایات کی حفاظت ہے ۔

This selfsame thread sews us a shirt to wear, Its needle the remembrance of old yarns.

29

چیست تاریخ ای ز خود بیگانه ئی

داستانی قصه ئی افسانه ئی

تو اپنے آپ سے بیگانہ ہے ۔ کیا تجھے معلوم ہے کہ تاریخ کیا ہے کیا یہ کہانی ہےقصہ ہے افسانہ ہے

What thing is history, O self-unware? A fable? Or a legendary tale?

30

این ترا از خویشتن آگه کند

آشنای کار و مرد ره کند

ہرگز نہیں ، یہ تجھے تیری حقیقی حیثیت سے آگاہ کرتی ہے ۔ تجھے بتاتی ہے کہ کیا کچھ کرنا چاہیے ۔ اس طرح تجھے صاحب عزم و ہمت بناتی ہے ۔

Nay, ’tis the thing that maketh thee aware Of thy true self, alert unto the task, A seasoned traveller;

31

روح را سرمایهٔ تاب است این

جسم ملت را چو اعصاب است این

تاریخ روح کے لیے آب و تاب کا سرچشمہ ہے اور قوم کے جسم میں اسے رگ و پے کی حیثیت حاصل ہے ۔

this is the source Of the soul’s ardour, this the nerves that knit The body of the whole community.

32

همچو خنجر بر فسانت می زند

باز بر روی جهانت می زند

یہ پہلے تجھے تلوار کی طرح سان پر لگاتی ہے ، پھر اٹھا کر دنیا کی کشمکش گاہ میں پھینک دیتی ہے کہ جو انجام دے سکتا ہے انجام دے ۔

This whets thee like a dagger on its sheath, To dash thee in the face of all the world.

33

وه چه ساز جان نگار و دلپذیر

نغمه های رفته در تارش اسیر

واہ واہ! یہ کتنا راحت انگیر اور دل افروز ساز ہے، جس کے تاروں میں گزرے ہوئے زمانے کے نغمے بند ہیں ۔

Ah, how delightful is this instrument And how inspiring, that within its strings Imprisons those departed memories!

34

شعلهٔ افسرده در سوزش نگر

دوش در آغوش امروزش نگر

تو اس کی جلن میں بجھا ہوا شعلہ دیکھ سکتا ہے ۔ امروز کی گود میں گزشتہ کل کے حالات کا نظارہ کر سکتا ہے ۔

See the extinguished splendour blaze anew! Behold all yesterdays in the embrace Of its to-day!

35

شمع او بخت امم را کوکب است

روشن از وی امشب و هم دیشب است

تاریخ کی شمع قوموں کے نصیبے کا ستارہ ہے ۔ اس سے آج کی رات بھی روشن ہے اور گزشتہ کل کی رات بھی ۔

Its candle is a star To light the peoples’ fortunes, and illume To-night and yesternight in equal shine

36

چشم پرکاری که بیند رفته را

پیش تو باز آفریند رفته را

وہ گہری نظر والی آنکھ ہے جو دور ماضی کو دیکھتی اور اسے تیرے سامنے اصل صورت میں لا کر آراستہ کر دیتی ہے ۔

The skilful vision that beholds the past Can recreate before thy wondering gaze The past anew;

37

بادهٔ صد ساله در مینای او

مستی پارینه در صهبای او

اس کی صراحی میں سینکڑوں سال کی شراب ہے اور اسکی شراب میں گزری ہوئی مستی محفوظ ہے ۔

wine of a hundred years That bowl contains, an ancient drunkenness Flames in its juice;

38

صید گیری کو بدام اندر کشید

طایری کز بوستان ما پرید

تاریخ ایسی شکاری ہے کہ جو پرندہ ہمارے باغ سے اڑ گیا، اسے بھیاپنے جال میں پھانسے ہوئے ہے ۔

a cunning fowler it To snare the bird that from our garden flew.

39

ضبط کن تاریخ را پاینده شو

از نفسهای رمیده زنده شو

تو تاریخ کو یاد اور محفوظ رکھ اور مستحکم و استوار ہو جا ۔ جو سانس جا چکے ہیں ان سے فیضان حاصل کر کے نئی زندگی پیدا کر ۔

Preserve this history, and so abide Unshaken, vital with departed breaths.

40

دوش را پیوند با امروز کن

زندگی را مرغ دست آموز کن

اگر تو اپنی گزشتہ کل کو امروز سے جوڑ لے گا تو زندگی تیرے ہاتھ کا سیدھایا ہوا پرندہ بن جائے گی ۔

Fix in firm bond to-day with yesterday; Make life a bird accustomed to the hand.

41

رشتهٔ ایام را آور بدست

ورنه گردی روز کور و شب پرست

اگر تو گزرے ہوئے زمانے کا رشتہ سنبھالے نہیں رہے گا تو اس بیمار کی طرٖح ہو جائے گا جسے دن کو نظر نہیں آتا اور چمگادڑ بن جائے گا جو روشنی سے بھاگتی ہے ۔

Draw to thy hand the thread of all the days, Else thou art blind-by-day, night-worshipping.

42

سر زند از ماضی تو حال تو

خیزد از حال تو استقبال تو

تیرے ماضی سے تیرا حال اور حال سے مستقبل پیدا ہو گا ۔

Thy present thrusts its head up from the past, And from thy present shall thy future stem.

43

مشکن ار خواهی حیات لازوال

رشتهٔ ماضی ز استقبال و حال

اگر تو ایسی زندگی کا خواہاں ہے جسے کبھی زوال نہ آئے تو ماضی کا رشتہ حال و مستقبل سے نہ توڑنا چاہیے ۔

If thou desirest everlasting life, Break not the thread between the past and now And the far future.

44

موج ادراک تسلسل زندگی است

می کشان را شور قلقل زندگی است

زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ تسلسل کی آگاہی کی ایک لہر ہے ۔ شراب نوشوں کے نزدیک قلقل کا شور ہی زندگی ہے ۔

What is life? A wave Of consciousness of continuity, A gurgling wine that flames the revellers.

◆

اگلی / پچھلی نظم

پچھلی نظم

ای که با نادیده پیمان بسته‌ای

همچو سیل از قید ساحل رسته‌ای

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 22 - در معنی اینکه توسیع حیات ملیه از تسخیر قوای نظام عالم است

اگلی نظم

نغمه خیز از زخمهٔ زن ساز مرد

از نیاز او دو بالا ناز مرد

علامہ اقبال»رموز بیخودی»بخش 24 - در معنی اینکه بقای نوع از امومت است و حفظ و احترام امومت اسلام است

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور